بد امنی پر ڈی کنسٹرکشن کا اطلاق

عمران شاہد بھنڈر  جمعـء 31 جنوری 2014

ہمارے ایک دوست محلے کے سیاسی مجاور کے پاس گئے اور محلے کی نیم پختہ گلی کو پختہ کرنے کی درخواست کی۔ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے کے سیاسی مجاور نے سوالی کو جواب دیا، آپ کے التماس سے قبل اس بابت ایم پی اے صاحب سے بات کرچکا ہوں لیکن صاحب فرماتے ہیں فنڈز کی کمی ہے، لہٰذا فی الوقت گلی کے پختہ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کہیں عوامی مفاد کے مدنظر کوئی سڑک بنانی پڑجائے وہاں پر بھی فنڈز کی کمی کا بہانہ ’’پھدک‘‘ کر عوام کا منہ چڑانے لگتا ہے۔ بہت سے سرکاری ادارے افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں۔ ایک اعلیٰ حکومتی افسر سے عرض گزار ہوئے، جناب افرادی قوت کی کمی سے ان سرکاری اداروں کی استعداد کار پر برا اثر پڑ رہا ہے، اسٹاف کی کمی کی وجہ سے عوام کے امور بھی بر وقت سرانجام دینے میں دقت پیش آرہی ہے، ان خالی آسامیوں کو پر کرلیجیے، جہاں سرکاری اداروں کی استعداد کار ’’چست‘‘ ہو جائے  گی، وہیں زیادہ نہیں تو کچھ بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کا دیا روشن ہوجائے گا اور نیک نامی کا ہار الگ آپ کی سرکار کے گلے میں پڑجائے گا۔ طویل تقریر کے جواب میں صرف اتنا فرمایا، ملکی معیشت کی حالت پتلی ہے، حکومتی خزانہ مزید ملازمین کی تنخواہوں کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔

بات ملازمتوں کے مواقع کی دستیابی کی ہو یا بجلی کے پیداوار کی، معاملہ گیس کی قلت دور کرنے کا ہو یا کوئی اور عوامی مفاد کا، ہر جگہ ہر عوامی معاملے میں حکومت کی جانب سے فنڈز کی کمی کا رونا رو کر عوام کو چپ رہنے کا لولی پاپ  تھمانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاک ایران گیس منصوبے کے بارے میں دوستوں نے الگ اور دشمنوں نے الگ سے افواہوں کا بازار گرم کر رکھا تھا، لیکن ان افواہوں کے غبارے سے اہم حکومتی محکمے کے ترجمان نے یہ فرما کر ہوا نکال دی کہ ’’پاک ایران گیس منصوبہ فنڈز کی کمی کی بنا پر سست روی کا شکار ہے‘‘۔ کیا جمال پرور بیان ہے جسے سن کر بہت سوں پر ’’جلال‘‘ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ملازمین کی تنخواہوں کے لے رقم نہیں، راج مزدور کی زندگی آسان بنانے کے لیے خزانہ خالی ہے، بجلی کے نئے پیداواری یونٹس کے لیے دھیلا نہیں، گیس کی قلت کے خاتمے کے لیے پیسہ نہیں، پاک ایران گیس منصوبے کے لیے خزانہ میں ’’ٹکہ‘‘ تک نہیں۔ ملکی معیشت اور اقتصاد کی اس زبوں حالی میں  وزراء کے لیے ہر قسم کا ’’من و سلویٰ‘‘ موجود ہے۔ اوپر سے نیچے تک وزرا، سفراء، افسر شاہی کے ناز نخروں کے لیے پیسہ ہمہ وقت موجود ہے۔ قلیل فیصد کی زندگیوں اور ان کے رہن سہن پر نگاہ غلط ڈالنے کے بعد ایک بات سادہ سے انسان کو بھی ضرور سمجھ آجاتی ہے کہ اس ’’قبیلے‘‘ کو ’’پیسہ پھینکنے‘‘ کے لیے بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔

اس ملک کے تیزی سے مزید در مزید غریب ہوتے ہوئے عوام کے تیزی سے امیر ہوتے حکمران کیسے اور کس کس طرح ان غریبوں کے پیسے کو لٹاتے ہیں؟ اس ملک کے غریب عوام کی کمائی کن کن خرمستیوں میں اڑائی جاتی ہے، ایک ہوش گم کردینے والی داستان ہے۔ عام آدمی کے لیے، عوامی مفاد کے حامل منصوبوں کے لیے مگر دھیلا تک میسر نہیں۔ بغیر محنت کے حکومتی خزانے میں روزانہ ’’ٹیکس‘‘ کے نام پر روزانہ کروڑوں اربوں جمع ہوتے ہیں، اگر یہ پیسہ عام آدمی کی آسانی کے مد میں استعمال نہیں ہوتا پھر یہ کس ’’کنویں‘‘ میں پھینکا جارہا ہے۔ عام شہری تو بجلی کے بل سے سانس لینے کے درجے تک قدم قدم پر مختلف نام سے عائد حکومتی ٹیکسوں کی صورت میں حکومت کے ہاتھ میں اپنی ’’کھال‘‘ اتار کر تھما رہا ہے، لیکن چھوٹے آدمی کی اس ’’بڑی قربانی‘‘ کا پھل اسے کیوں نہیں مل رہا؟ عوامی سطح پر سہولتوں کے فقدان کی خستہ حالی ’’فسانوں‘‘ سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ عوام کے جیبوں سے نکالا جانے والا پیسہ عوام کی بہبود پر خرچ کیا جاتا، اسی میں اچھی حکمرانی کی حکمت پوشیدہ ہے لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہورہا ہے۔ عوام کا پیسہ خواص کے دسترخوانوں کا نوالہ بن رہا ہے۔ تفاوت اور تضاد کے اسی گھن چکر کی بنا پر عوامی سطح پر ایک ’’ابال‘‘ تیزی سے حرارت کے درجے کی راہ پر گامزن ہے۔

جس معاشرے میں ساری آزمائشیں عام آدمی کے لیے اور ساری آسائشیں ’’خاص آدمی‘‘ کے لیے وقف کردی جائیں، افراتفری، گلے شکوے، سماجی ڈھول باجے اس معاشرے میں روز کا معمول ہوا کرتے ہیں۔ قلیل فیصد کو برابر نوازتے رہنا اور غریبوں کے منہ سے نوالے چھیننا، کیا اس الٹی ترتیب سے عوامی سطح پر ناموری کمائی جاسکتی ہے؟ نام اور مقام کو ’’فرض‘‘ کے خانے میں فٹ کردیں، کیا بدلا؟ کچھ بھی نہیں بدلا، کل بھی عام آدمی لٹ رہا تھا اور آج بھی عام آدمی کی جیب پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں۔ معیشت ڈانواں ڈول ہے، ملک کی اقتصادی حالت پتلی ہے، ان بیانوں کو سامنے رکھیے۔ جناب! معقول طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی سہولیات پر کتنی قدغن لگائی گئی؟ قلیل فیصد کی سہولیات اور مراعات میں معیشت کی بہتری کے لیے کتنی کٹوتیاں کی گئیں؟ حکومتی اللوں تللوں کو ختم کرنے کے کون کون سے نظر آنے والے اقدامات کیے گئے؟ صرف پسے ہوئے طبقات کے منہ سے نوالہ چھیننا اور بالائی سطح پر وہی روش؟ یہی وجہ ہے کہ عوام کا پیسہ عوام کی فلاح پر نہیں بلکہ ’’بلاؤں‘‘ پر خرچ ہورہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔