عالمی نظام پر ’اپنی مرضی‘ مسلط نہ کی جائے، چین کی وارننگ

ویب ڈیسک  بدھ 15 ستمبر 2021
چین پر معترض ممالک کو اپنے ہاں انسانی حقوق کے تحفظ کےلیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، ترجمان چینی وزارت خارجہ چاو لی جیان۔ (فوٹو: چائنا میڈیا)

چین پر معترض ممالک کو اپنے ہاں انسانی حقوق کے تحفظ کےلیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں، ترجمان چینی وزارت خارجہ چاو لی جیان۔ (فوٹو: چائنا میڈیا)

بیجنگ: چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چاو لی جیان نے آج ایک خصوصی میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان اور دیگر ممالک نے ابھی تک انسانی حقوق کےلیے کوئی قومی منصوبے مرتب نہیں کیے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں انسانی حقوق کے تحفظ کےلیے کچھ عملی اقدامات کریں۔

تفصیلات کے مطابق، جنیوا میں چین کے مستقل نمائندے نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 14 ویں سیشن میں 40 سے زائد ممالک کی جانب سے مشترکہ خطاب کرتے ہوئے تمام ممالک سے پائیدار امن کے حصول اور انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کا مطالبہ کیا۔

اس حوالے سے ترجمان نے کہا کہ چین نے بین الاقوامی برادری کی جانب سے ایک معقول اور دانش مندانہ آواز بلند کی ہے اور انسانی حقوق کے مسائل پر چین نے ذمہ دارانہ پن کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کے خیال میں پائیدار امن کے حصول اور انسانی حقوق کو فروغ دینے اور اس کے تحفظ کےلیے ضروری ہے کہ عالمی نظام کو بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے تحت عالمی قانون کی بنیاد پر قائم کیا جائے اور اس پر اپنی مرضی مسلط نہ کی جائے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی قیادت میں چین نے انسانی حقوق کے شعبے میں عالمی شہرت یافتہ کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

حال ہی میں چین نے ’’قومی انسانی حقوق ایکشن پلان‘‘ (2021 تا 2025) جاری کیا ہے۔ یہ ایک جدید سوشلسٹ ملک کی ہمہ جہت تعمیر کے نئے سفر کے دوران انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کےلیے چین کا واضح روڈ میپ اور انسانی حقوق کی عالمی گورننس میں چین کی شراکت کا مظہر بھی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔