لبنان میں مہنگائی نے ہنگامہ کھڑا کر دیا

سید عاصم محمود  اتوار 19 ستمبر 2021
کرپٹ حکمران طبقے کی کرپشن ونااہلی نے مملکت کو زوال کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ فوٹو: فائل

کرپٹ حکمران طبقے کی کرپشن ونااہلی نے مملکت کو زوال کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ فوٹو: فائل

وقت کتنا بدل جاتا ہے!ایک زمانے میں لبنان ’’مشرق وسطی کا سوئٹزر لینڈ‘‘کہلاتا تھاآج مگر وہ غربت و بیروزگاری کی الم ناک تصویر بن چکا۔حالت یہ ہے کہ کوئی پارٹی اس پہ حکمرانی کرنے کو تیار نہیں۔

خدا خدا کر کے حال ہی وہاں نئی حکومت بنی ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ مملکت کے امیر ترین فرد کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔شاید اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہو کہ وہ اپنی ذاتی دولت بھی معاشی بحران دور کرنے میں کام میں لائے گا۔ مگر دور کے ڈھول سہانے ہی ہوتے ہیں۔فی الحال نئی انتظامیہ کو روٹی کی قیمت کم کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔

پاکستان و بھارت کی طرح دیگر کئی ممالک میں بھی گندم کی روٹی عوام الناس کا من بھاتا کھاجا ہے۔ان ملکوں کی حکومتیں اس عوامی غذا کی قیمت کم سے کم رکھنے کی سعی کرتی ہیں تاکہ عام آدمی خوش اور مطمئن رہے۔جیسے ہی روٹی کی قیمت بڑھے ،عوام بے چین ہو کر حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے لگتے ہیں۔مثلاً پی ٹی آئی دور حکومت میں روٹی کی قیمت بڑھ چکی،اسی لیے لوگوں میں غصّہ بڑھ گیا اور وہ اس پہ تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔

70 روپے کی روٹی

پاکستان میں تو پھر سادہ روٹی دس روپے میں مل جاتی ہے،مشرق وسطی کے ملک،لبنان میں عوام کا بُرا حال ہے۔وہاں بھی گندم کی روٹی خوب کھائی جاتی ہے۔مگر اب وہاں مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ 115گرام کی سادہ روٹی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 70 روپے کی ہو چکی ہے۔ یہ قیمت بھی ان نان بائیوں کے ہاں ہے جنھیں لبنانی حکومت سبسڈی دیتی ہے۔

اگر ان کے پاس روٹیاں ختم ہو جائیں تو عوام کو عام ہوٹلوں سے خریدنا پڑتی ہیں۔وہ پھر ایک روٹی ’’80 روپے‘‘میں فروخت کرتے ہیں۔یہ دیکھیے کہ لبنان میں مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ اب وہاں ایک غریب کو ایک وقت کی صرف تین سادہ روٹیاں خریدنے کے لیے دو سو روپے سے زیادہ خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

بڑھتی مہنگائی،بیروزگاری اور غربت کے باعث مشرق وسطی کے اس تاریخی دیس میں حکمران طبقے کے خلاف عوام کا احتجاج معمول بن چکا۔احتجاج کے دوران شہری ٹائر جلا اور راستے بند کر کے اپنے غم وغصّے کا اظہار کرتے ہیں۔

اور سچ بھی یہی ہے کہ اپنی بدانتطامی اور کرپشن کی وجہ سے لبنان کے حکمران طبقے نے قومی معیشت کو کھوکھلا کر دیا ہے۔آج پاکستان ہی نہیں تمام ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کے لیے لبنان اس امر کی مثال بن چکا کہ ایک ملک زوال پذیر کیسے ہوتا ہے۔آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو ایک ہنستے بستے ملک کو ہنگاموں اور فساد کا مرکز بنا دیتے ہیں۔

امارت سے خانہ جنگی تک

پچاس سال قبل لبنان اچھا خاصا امیر ملک تھا۔اس دیس میں چپے چپے پہ قیمتی آثارقدیمہ پھیلے ہوئے ہیں۔یہاں کئی قدیم تہذیبوں نے جنم لیا۔فطری مناظر سے بھی بھرپور ہے۔عرب مسلمانوں نے اسے فتح کیا تو لبنان میں بھی اسلام کا نور پھیل گیا۔

آنے والی صدیوں میں صلیبی جنگوں کا نشانہ بنا۔ان کی وجہ سے مقامی مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین تناؤ نے جنم لیا۔بیسویں صدی میں مغربی استعمار نے جنگ عظیم اول میں مشرق وسطی پہ قبضہ کیا تو لبنان کو شام سے کاٹ کر الگ مملکت بنا دیا۔مقصد یہ تھا کہ لبنانی عیسائی بھی حکومت کا حصہ بن جائیں حالانکہ مقامی آبادی میں مسلمان زیادہ تھے۔اسی ناانصافی نے دونوں بڑی اقوام کے مابین فساد کا بیج بو دیا۔

مذہبی و نسلی اختلافات کے باوجود ملکی نظام1970ء تک بخوبی چلتا رہا۔ملک میں کثیر تعداد میں سیاح آتے جو آمدن کا بڑا ذریعہ تھے۔بیشتر لبنانی شہری خوشحال اور ترقی یافتہ تھے۔۔1970ء کے بعد اسرائیل،شام اور تنظیم آزادی فلسطین کے مابین تصادم سے لبنان میں جنگ شروع ہو گئی۔وہ 1990ء تک جاری رہی۔جنگوں نے معیشت و معاشرت کو سخت نقصان پہنچایا اور سارا ملکی انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔

خانہ جنگی ختم کرنے کے لیے حکومت کے عہدے مسلم،عیسائی اور دیگر مذہبی ونسلی گروہوں میں تقسیم کر دئیے گئے۔ان گروہوں کے لیڈروں کی ذمے داری تھی کہ وہ مل جل کر لبنان کی تعمیر نو انجام دیتے اور ترقی و خوشحالی کا دور چلا دیتے۔

انھوں نے حکومت کرتے ہوئے یک جہتی اور اتحاد تو دکھایا …مگر صرف اپنے گروہی مفادات پورے کرنے کی خاطر!ملک و قوم کو ترقی دینے کے بجائے ہر مذہبی ونسلی گروہ اپنے مفادات کو ترجٰیح دینے لگا۔سیاست عوام کی خدمت کا نام ہے۔مگر بہت کم حکمران یہ ذمے داری پوری کر پاتے ہیں۔بیشتر حکمران طاقت پاتے ہی عوام کی ضروریات سے بے خبر ہو کر اپنی تصّوارتی دنیا میں رہنے لگتے ہیں۔بعض پہ لالچ و ہوس سوار ہو جاتی ہے اور انھیں پھر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔

قرضوں کا انبار

لبنان کا حکمران طبقہ بھی رفتہ رفتہ کرپشن اور بدانتظامی میں ملوث ہو گیا۔ہر گروہ نے اپنے بھائی بندوں کو سرکاری ملازمتیں دیں،چاہے وہ اہل تھے یا نہیں۔یوں اقربا پروری کو فروغ ملا۔کسی وزیر مشیر کا دھیان عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف نہیں تھا۔انھیں بس یہ پروا تھی کہ ان کو عیش وعشرت کی زندگی میسّر رہے۔حکمران طبقے کی کرپشن،فضول خرچی اور سرکاری خزانے کو باپ کا مال سمجھنے کی روش کے باعث حکومت کا خرچ بڑھتا چلا گیا۔آخر حکومت قرضے لے کر اپنے اخراجات پورے کرنے لگی۔

قرضوں کی بھرمار نے لبنان کو مقروض ملک بنا دیا۔اس پہ قرض چڑھتا چلا گیا۔مارچ 2021ء تک عدد ’’97.3‘‘ارب ڈالر پہنچ چکا ۔یہ لبنان کی خام قومی آمدن (جی ڈی پی)کا ’’ایک سو ساٹھ ‘‘سے زائد فیصد بنتا ہے۔(واضح رہے،ماہرین معاشیات کے مطابق اس مملکت میں معاشی استحکام رہتا ہے جس کا قرضہ جی ڈی پی کا ساٹھ فیصد یا اس سے کم رہے) لبنانی حکمران طبقہ مستقبل سے بے پروا ہو کے سرکاری خزانہ اپنے اللّے تللّوں میں اڑانے میں مصروف رہا۔آخرکار اکتوبر 2019ء میں عوام کے سینوں میں کئی برس سے دبا غم وغصّہ پھوٹ پڑا اور وہ حکمرانوں کے خلاف پُرتشدد مظاہرے کرنے لگے۔تب سے لبنانی عوام وقتاً فوقتاً احتجاج کرتے رہتے ہیں۔

احتجاجی مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب حکومت نے ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی۔اس کا قصّہ یہ ہے کہ سرکاری خزانے میں کم ڈالر رہ گئے۔ وجہ یہ کہ گندم ہو یا پٹرول اور دیگر بہت سی اشیا، لبنان ہر شے باہر سے منگواتا ہے۔اسے ہر ماہ ایک ارب ڈالر درکار ہوتے ہیں تاکہ مطلوبہ سامان خریدا جا سکے۔پہلے تو بینک اور غیرملکی سرمایہ کار ادارے لبنانی حکومت کو قرضے دیتے رہے۔مگر جب وہ سود کی ادائیگی نہ کر سکی تو انھوں نے نئے قرضے دینے بند کر دئیے۔یوں لبنانی حکومت کے پاس زیادہ ڈالر نہیں رہے۔

حکمران طبقے نے مقامی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر پھینک پھینک کر لبنانی پاؤنڈ کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں مصنوعی طور پہ بلند کر رکھی تھی۔اسی قسم کا عمل مسلم لیگ ن حکومت نے بھی2013ء تا 2018ء کے دوران انجام دیا تھا۔اس طریقے سے ملکی کرنسی کی قدر ایک جگہ قائم رہتی ہے ۔مگر کرنسی مارکیٹ میں لاتعداد ڈالر پھینکنے پڑتے ہیں تاکہ امریکی کرنسی مطلوبہ مقدار میں دستیاب رہے۔لبنانی حکمرانوں کو جب نئے قرضے نہیں ملنے سے ڈالر بھی نہ ملے تو اس نے کرنسی مارکیٹ میں ڈالر پھینکنا بند کر دئیے۔

اس باعث لبنان میں ڈالر کی شدید قلت نے جنم لیا۔قلت کے باعث خودبخود ڈالر کی قیمت بڑھنے لگی۔چونکہ لبنان میں بیرون ممالک سے کئی اشیا آتی ہیں لہذا ڈالر کی قدر میں اضافے سے وہ زیادہ مہنگی ملنے لگیں۔گویا انھیں خریدنے کے لیے عوام کو مذید لبنانی پاؤنڈ خرچ کرنے پڑے۔یہ عمل ایک ملک میں مہنگائی پیدا کرتا ہے کیونکہ مقامی کرنسی کی قدر گرنے سے کئی چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔

2018ء میں پی ٹی آئی حکومت آئی تو اس نے بھی پاکستانی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر پھینکنا بند کر دئیے۔یوں ڈالر کی قلت نے قدرتاً اس کی قدر بڑھا دی۔یہ عمل حکومت نے خود انجام دیا تاکہ روپے اور ڈالر کے مابین حقیقی قدر جنم لے سکے۔سابقہ حکومت نے مصنوعی طور پہ اسے منجمند کر رکھا تھا۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے دونوں کرنسیوں کے مابین توازن قائم کرنے کی کوششیں نہیں کیں۔اس لیے ڈالر کی قیمت بہت زیادہ بڑھ گئی۔اس میں اضافہ اب بھی جاری ہے۔یہی وجہ ہے،پاکستان میں جو شے باہر سے آتی ہے،وہ مسلسل مہنگی ہو رہی ہے،چاہے وہ سوئی ہو یا کار اور ہوائی جہاز۔

نئے ٹیکس

لبنان کی حکومت کو نئے قرضے نہ ملے تو سرکاری خزانے میں رقم نہیں رہی۔اب حکمران طبقے کے اللّے تللّے کیسے پورے ہوتے؟اخراجات پورے کرنے کی خاطر اس نے مختلف ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی۔یوں انھوں نے پھر عوام کو قربانی کا بکرا بنا ڈالا۔عوام مگر سیاست دانوں،بیوروکریسی اور جرنیلوں کی عیاری،لالچ اور کرپشن جان چکے تھے۔

وہ دیکھ رہے تھے کہ حکمران طبقہ تو ان کے دئیے گئے ٹیکسوں کی رقم سے شاہانہ زندگی گذارتا ہے جبکہ وہ محنت مشقت کرنے پہ جُتے اور مسلسل ٹیکس دئیے جا رہے ہیں۔۔اسی لیے انھوں نے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ نامنظور کیا اور حکومت مخالف زبردست احتجاج کرنے لگے۔مظاہرے اسی وقت ختم ہوئے جب حکومت کا بوریا بستر گول ہو گیا۔

لبنان میں پچھلے دو سال کے دوران کئی عارضی وزیراعظم اور وزیر خزانہ آ چکے مگر وہ مہنگائی کی اڑان نہیں روک سکے۔ظاہر ہے،مہنگائی اس وقت ختم ہو گی جب لبنانی کرنسی طاقتور ہو جائے اور اس بات کا امکان دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔بھاری قرضوں کی موجودگی میں ایسا ہونا بہت مشکل ہے۔اسی لیے ڈالر کی قدر مسلسل بڑھ رہی ہے۔اکتوبر 2019ء میں ایک امریکی ڈالر پندرہ سو لبنانی پاؤنڈ میں ملتا تھا۔آج بلیک مارکیٹ میں ’’ 23ہزار ‘‘لبنانی پاؤنڈ کے بدلے ایک ڈالر مل رہا ہے۔اس حقیقت سے اندازہ لگائیے کہ پچھلے دو سال میں لبنانی کرنسی عبرت ناک زوال سے شکار ہو چکی۔یہ پستی حکمران طبقے کی نااہلی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔

یہ درست ہے کہ لبنان کو پچھلے پچاس برس کے دوران کئی جنگیں دیکھنا پڑیں۔پھر شام میں خانہ جنگی ہونے سے دس لاکھ مہاجرین لبنان چلے آئے۔اس سے معیشت پہ دباؤ پڑ گیا۔مگر یہ حقیقت ہے کہ لبنان میں مہنگائی جنم لینے کا ذمے دار حکمران طبقہ ہے جو اپنی ذمے داری درست طریقے سے انجام نہیں دے سکا۔

اس کی بے حسی ملاحظہ فرمائیے کہ اب بھی متفرق سیاسی گروہ ایک دوسرے سے اقتدار کی خاطر نبرد آزما ہیں۔اُدھر بیچارے لبنانی عوام اس امر پہ فکر مند ہیں کہ روٹی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔یہی نہیں اس کا وزن بھی کمی کی طرف مائل ہے۔دراصل جب نانبائی قیمت بڑھا نہ سکیں تو وہ روٹی کا وزن گھٹا دیتے ہیں۔لبنان میں متوسط اور نچلا طبقہ بازار میں دستاب روٹی سے ہی پیٹ بھرتا ہے۔کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے دونوں طبقوں کے ہزارہا مردوزن بیروزگار ہو چکے۔رہی سہی کسر مہنگائی نے پوری کر دی۔ان کے پاس جو بچت تھی ،اس کا بیشتر حصہ کھانے پینے کے اخراجات پر لگ جاتا ہے۔

بقیہ اخراجات کے لیے کم رقم بچتی ہے۔صورت حال سے لبنانی عوام کافی پریشان اور اپنے حکمرانوں سے ناراض ہیں۔اسی لیے آئے دن سڑکوں پہ آ کر احتجاج کرتے ہیں۔لبنان میں سبھی بجلی گھر ڈیزل،تیل یا گیس سے چلتے ہیں۔ملک ہر سال تیس کروڑڈالر کا ایندھن درامد کرتا ہے۔حکومت کنگال ہو چکی،اس باعث بجلی گھروں میں ایندھن نہ ہونے سے لبنان میں بیس بیس گھنٹے بجلی غائب رہنا معمول بن چکا۔خوفناک لوڈ شیڈنگ شہریوں کے لیے ایک اور عذاب بن چکی۔

لبنان کے حالات سے پاکستانی حکمران طبقے اور عوام کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ہمارے قرضے بھی تقریباً چالیس ہزار کھرب روپے تک پہنچ چکے۔یہ جی ڈی پی کا سو فیصد حصہ بنتا ہے۔اگر حکمران سرکاری خزانہ بے دریغ استعمال کرتے رہے تو خدانخواستہ وطن عزیز میں بھی لبنان جیسی صورت حال جنم لے سکتی ہے۔مہنگائی سے عوام پہلے ہی بے حال ہیں۔ان کی تکالیف کا مداوا نہ ہوا تو حکمران طبقے کو کسی بھی قسم کے احتجاج کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔