عدلیہ نے خود کو بچانے کیلیے 12 اکتوبر سے ٹرائل نہیں کرایا، خورشید شاہ

مانیٹرنگ ڈیسک  جمعـء 31 جنوری 2014
ہمارے دور میں عدلیہ بھی بہت جارحانہ ہو چکی تھی ہم نے اس وقت کسی کو کچھ نہیں کہا اور وقت کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ فوٹو: فائل

ہمارے دور میں عدلیہ بھی بہت جارحانہ ہو چکی تھی ہم نے اس وقت کسی کو کچھ نہیں کہا اور وقت کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ فوٹو: فائل

لاہور: قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا ہے کہ میں اور عمران خان دونوں ہی اپوزیشن میں بیٹھے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ عمران خان زیادہ اپوزیشن کرتے ہیں۔

عمران خان کے اپنے ووٹرز ہیں اور پیپلزپارٹی کے اپنے۔ جس قسم کے حالات پیپلز پارٹی کے ان دنوں چل رہے ہیں ایسے حالات ہماری پارٹی پہلے بھی دیکھ چکی ہے۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام ’’فیس ٹو فیس‘‘ میں میزبان معید پیرزادہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ میں پارٹی کی ڈائریکشن پر چلتا ہوں، میں نے اپنے فیصلوں کو کبھی مسلط نہیں کیا، یہ درست ہے کہ ہماری لیڈرشپ الیکشن میں باہر نہیں نکل سکی، ہمیں بہت امید ہے کہ ہماری پارٹی دوبارہ مقبولیت حاصل کریگی لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔ وقت بہت کچھ سکھا دیتا ہے بلاول بھٹو زرداری کو ابھی6 ماہ سیاست میں آئے ہوئے ہیں، انھوں نے بہت کم وقت میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دن کوئی سیاستدان آئے اور سب کچھ ٹھیک کر دے۔ ہمارے دور میں عدلیہ بھی بہت جارحانہ ہو چکی تھی ہم نے اس وقت کسی کو کچھ نہیں کہا اور وقت کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

 photo 4_zpse03dc8ef.jpg

ہماری حکومت کو اس بات کا کریڈٹ دینا چاہیے کہ ہم نے کوئی سیاسی دشمن نہیں بنایا۔ بی بی کے بارے میں بھی کہا جاتا تھا کہ ان کے سامنے کوئی بولنے کی جرات نہیں کرتا مگر ہم نے کئی مرتبہ ان کے کیے فیصلوں کوتبدیل کیا اور ایسی ہی سوچ آصف علی زرداری کے بارے میں ہے کہ کوئی ان کے سامنے نہیں بولتا لیکن ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا جن حالات میں ہم چل رہے ہیں یقینی طورپر طالبان سے مذاکرات کا وقت ختم ہوچکا ہے لیکن حکومت نے ایک نئی تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی ہے اس لیے ہم نے ان کو سپورٹ کیا ہے۔ ہمیں میجر عامر پر بہت تحفظات ہیں، کمیٹی کیلیے ہم نے کوئی نام نہیں دینا ہے یہ حکومت کی ذمے داری ہے۔ شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر میں انرجی بحران ختم نہ کرسکا تو میرا نام بدل دینا ہم سوچ رہے ہیں کہ اب ان کا نام کیا رکھا جائے ان کا نام رکھنا بھی ایک بڑا کام ہے۔ پیپلز پارٹی کو بلدیاتی انتخابات کا کوئی خوف نہیں ہے۔ اگر مشرف بیمار ہیں تو اللہ ان کو صحت دے وہ ملٹری اسپتال میں جاکر بیٹھ گئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔