ریاست ‘حکومت اور عام آدمی

راؤ منظر حیات  ہفتہ 18 ستمبر 2021
raomanzar@hotmail.com

[email protected]

1993میں اسٹاک ہوم پہلی بار گیا۔ اس کے بعد متعدد بار جا چکا ہوں۔ سویڈن ایک شاہکار ملک ہے۔ جس جگہ بھی گیا ‘ وہاں شہریوں نے گھروں کی بالکونی میں پھولوں کے خوبصورت پودے گملوں میں لگائے ہوئے تھے۔ ساتھ ساتھ تقریباً ہر گھر کے باہر ملک کا قومی پرچم بھی لگا ہوا تھا۔

شروع شروع میں لگا کہ شائد ان کا قومی دن نزدیک ہے۔ گھروں پر قومی جھنڈا ‘ اسی دن کی مناسبت سے لگا رکھے ہیں۔ مگر قیافہ غلط نکلا۔عام شہریوں نے اپنے ملک سے محبت کے اظہار کے طور پر چھوٹے اور بڑے سویڈن کے پرچم اپنے گھروں میں لگا رکھے تھے۔

ایک پاکستانی سے وجہ دریافت کی تو کوئی خاطر خواہ جواب نہ دیا۔ صرف کہا کہ سویڈن کی مقامی روایت ہے۔ اسٹاک ہوم میںایک سویڈش فیملی سے کافی دوستی تھی۔ ان سے پوچھا تو جواب حد درجہ متاثر کن تھا۔

بتایا کہ ’’ہمارے ملک نے ہمیں یعنی شہریوں کو ہر چیز دی ہے۔ اعلیٰ ترین درجہ کی تعلیم سب کے لیے تقریباً مفت ہے۔ بین الاقوامی سطح کے اسپتال بھی انتہائی کم پیسوں میں مقامی لوگوں کا علاج کر رہے ہیں۔ بیروزگاری حد درجہ کم ہے۔ ابھی طلباء تعلیم حاصل کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں انھیں روزگار دینے کے لیے تگ دو کرنا شروع کر دیتی ہیں۔

کسی شخص یا خاندان کے مالی وسائل کم ہیں تو حکومت انھیں مفت رہائش سے لے کر معقول ماہانہ وظیفہ دیتی ہے۔ کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ نظام انصاف‘ اس درجہ طاقتور ہے ‘ کہ بڑے سے بڑا آدمی بھی اس سے مفر حاصل نہیں کر سکتا۔

جب اس ملک نے ہمیں دنیا میں ہر نعمت اور سہولت دی ہے تو کیا ہم پر لازم نہیں ہے کہ اس خطے سے دیوانہ وار محبت کریں۔ہم اپنی خوشی اور ملک کے احترام میں قومی پرچم اپنے گھروں پرلگاتے ہیں۔ یہ ہمارا اپنا فعل ہے۔ کیونکہ ‘اس ملک کی بدولت ہم دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوم ہیں‘‘۔ باتیں تو اور بھی بہت کچھ ہوئیں۔امریکا میں بھی یہی حال ہے۔ وہاں بھی ہر گھر کے باہر امریکی جھنڈا لگا ہوتا ہے۔

سویڈن یا امریکا کو چھوڑیئے ۔ سنجیدگی سے ہماری ریاست‘ حکومت اور عوام کے درمیان آئینی ‘ سماجی‘ قانونی تعلقات کا جائزہ لیجیے۔ ملک کے متعلق عام لوگوں کے جذبات کی بخوبی سمجھ آ جائے گی۔ ہمارے ملک یعنی پاکستان میں کسی بھی حکومت کا عوام سے رویہ پرکھیے۔ ریاست کے عام آدمی کے تحفظ کی بابت سوچیے۔ تعصب کے بغیر یہ نظر آئے گا کہ ہمارے ملک‘ ریاست اور عوام کا باہمی رشتہ آہستہ آہستہ نہیں بلکہ تیزی سے کمزور ہو رہا ہے۔ یہ عنصر افسوسناک تو خیر ہے ہی۔ مگر یہ حد درجہ خطرناک مضمرات کا حامل ہے۔

کیا ہماری کوئی بھی حکومت عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ایک دو فیصد لوگوں کی بابت گزارش نہیں کر رہا۔ کیونکہ تمام ملک کی پچانوے فیصد دولت صرف ایک فیصد لوگوں کے پاس جمع ہے۔ طالب علم کا ایک لکھا اور ٹی وی پر بولے جانے والا فقرہ کافی لوگ استعمال کرتے ہیں کہ یہ ملک یعنی پاکستان 1947میں غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں نے حد درجہ محنت کر کے صرف اور صرف امیر لوگوں کے لیے تراشا تھا۔

یہ ابتر صورتحال آج تک بالکل ٹھوس طریقے سے قائم و دائم ہیں۔ ملک بنانے سے لے کر آج تک عوام کے ساتھ جتنے بھی وعدے کیے گئے ۔ ان میں سے دو تین فیصد بھی پورے نہیں کیے گئے۔ ہم سے ہر طرح کی قومی قیادت نے چرب زبانی اورادھورے دعوؤں کے سوا کچھ نہیں کیا۔اس میں مارشل لاء کے زمینی خدا اور سیاست دان ایک دوسرے سے بڑھ کر نااہل ثابت ہوئے ہیں۔

تعلیم سے شروع کیجیے۔ بین الاقوامی برطانوی ادارے Quaequarelli Synondsکے مطابق پاکستان کا تعلیمی نظام دنیا کے ضعیف ترین نظاموں میں شامل ہے۔ عورتوں کی اکثریت یعنی ترپن (53) فیصد مکمل طور پر جاہل ہے۔ مردوں میں  خواندگی کی شرح ستر فیصد کے لگ بھگ ہیں۔ یو این ڈی پی کے مطابق پاکستان تعلیم جیسے اہم شعبے میں 189ممالک میں سے 152ویں نمبر پر ہے۔

تعلیمی بجٹ وہی دو تین فیصد کے اطراف میں گھومتا پھرتا ہے۔ ہاں ایک اور شرمناک سچ ۔پانچ برس سے لے کر سولہ برس تک کے بچوں میں سے دو کروڑ اٹھائیس لاکھ بچے اور بچیاں کبھی کسی اسکول نہیں جاتے۔ یہ ناخواندگی کی دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔

تہتر برس سے اپنے قائدین کے بالکل جھوٹے وعدوں کے برعکس تعلیم کے میدان میں صرف رسوائی حاصل کی ہے۔کسی صاحب ثروت شخص کی اولاد سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرتی۔ سرکاری اسکول اور کالج‘ غریب لوگوں کے لیے مختص ہیں۔ امیر بچوں کے لیے حد درجہ بہترین اور جدید درسگاہیں موجود ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ کہ ریڑھی بان کی اولاد کو اگلے سو برس تک ‘ امیر آدمی کے بچوں سے علمی مقابلہ کرنے کے لیے برابری کا میدان میسر نہیں ہو گا۔

صحت کے شعبہ پر نظر ڈالیے ۔ بائیس کروڑ افراد کے لیے صرف 968 سرکاری اسپتال ہیں ‘ جن کے پاس صرف چوراسی ہزار مریضوں کے قیام کا بندوبست ہے۔ رورل ہیلتھ سینٹر اور سرکاری ڈسپنسریاں ملا کر صرف بارہ ہزاربیڈز اور بنتے ہیں۔ پورے ملک میں مریضوں کے لیے سرکاری شعبے میں صرف ایک لاکھ کے برابر بیڈز موجود ہیں۔ صحت کے شعبے کا بجٹ بھی حد درجہ رسوا کن ہے۔ وہی تین چار فیصد کے قریب ۔ قائدین کے اعلانات ملاحظہ فرمائیں۔ تو ایسے لگتا ہے کہ شعبہ صحت قیامت خیز ترقی کر رہاہے۔

تقابلی جائزہ پیش کر رہا ہوں۔ 2017 سے آج تک پاکستان اپنے شہریوں کی صحت پر صرف پنتالیس ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ایران اپنے ایک شہری پر چار سو چوراسی (484) ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ قطر اپنے ایک شہری کی صحت کے لیے سترہ سو ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ کرپشن انڈکس کے مطابق 2019 میںپاکستان ‘کرپٹ ملکوں کی فہرست میں ایک سو بیس ویں نمبر پر تھا۔ جو اب بڑھ کر ایک سو چوبیس درجہ پر موجود ہے۔ یعنی تمام حکومتی اعلانات کے برخلاف ملک میں کرپشن بڑھ رہی ہے۔ مہنگائی عمومی طور پر دس فیصد کے قریب بڑھی ہے۔

ورلڈ جسٹس رپورٹ کے مطابق ایک سو اٹھائیس ممالک میں ہمارا نظام انصاف ایک سو بیسویں نمبر پر ہے۔ جھوٹ کے بازار میں یہی سب کچھ ہوتاہے۔ خرابہ در خرابہ۔ قیامت در قیامت۔ ہماری کوئی بھی حکومت صحت‘تعلیم ‘ آبادی کو کنٹرول کرنا‘ نظام انصاف کی درستگی اور دیگر اہم ترین شعبوں میں کوئی قابل ذکر ترقی نہیں کر سکی۔ بین الاقوامی ادارے تو اب پاکستان پر یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ہمارے حکومتی عمال ‘ امداد کے پیسوں میں بھی حد درجہ کرپشن کرتے ہیں۔

اندازہ لگایئے کہ ہماری ایک خاتون صوبائی وزیر نے امداد کے پیسوں سے امریکا میں جوان نظر آنے کے لیے تین کروڑ کی سرجری کروا لی۔ جب ریاست اور ہر حکومت ‘ اپنے دعوؤں پر عمل پیرا نہ ہو سکے۔ جب ہر لحاظ سے غریب کو نان جو یں تک سے محروم کر دے۔ جب مفلس کے علاج کو بوجھ سمجھے۔ جب وہ بچوں اور بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا مصیبت جانے۔ تو پھر کیا سوچا جائے۔

ہم میں سے واضح اکثریت حد درجہ محب وطن لوگ ہیں۔ مگر سوچیے‘ تو ایسے لگتا ہے کہ ریاست‘ حکومت اور عام آدمی کے درمیان مثبت تعلق تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ اس وقت بے حسی معراج پرہے۔ اور اب تو بہتری کی کوئی امید بھی باقی نہیں رہی!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔