کرکٹ سیریز کا افسوس ناک التوا

ظہیر اختر بیدری  پير 20 ستمبر 2021
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

نیوزی لینڈ نے پاکستان کے ساتھ کرکٹ سیریز کویکطرفہ طور پر منسوخ کردیا۔پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے دورے کی اس منسوخی میں بھارت کا ہاتھ ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے حوالے سے جو اختلافات ہیں ان کے سائے اتنے گہرے ہیں ،کرکٹ جیسے مقبول کھیل اس کی زد سے نہ بچ سکے۔

یہ کس قدر حیرت انگیز بات ہے کہ کرکٹ جیسے عوامی مقبولیت رکھنے والے کھیل کو سیاست کی نذر کیا جا رہا ہے۔ بھارت کی اس سازش کا کوئی ثبوت نہیں لیکن بھارت کی پاکستان مخالف سیاست کے پس منظر میں یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس سیریز کی منسوخی میں یقینی طور پر بھارت کا کردار رہا ہوگا ۔

یہ ساری کونپلیں کشمیر کے مسئلے سے پھوٹنے والی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف حقیقت پر مبنی ہے لیکن بھارت نے کبھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا، اس جھگڑے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کو جو نقصانات پہنچ رہے ہیں۔

اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ،صرف ایک شعبہ تجارت کو لے لیں دونوں ملکوں کے درمیان تجارت ہو تو دونوں ملکوں کے عوام کو اس کے براہ راست بے پناہ فوائد حاصل ہو سکتے ہیں لیکن بھارت کی اندھی اور گونگی سیاست نے اس حوالے سے آنکھ کان بند کر رکھے ہیں۔ کرکٹ کی اس سیریز کی منسوخی کی وجہ سے عوام میں سخت مایوسی پھیل گئی ہے۔

حیرت ہے کہ نیوزی لینڈ جیسا ملک اندھی ڈپلومیسی میں ملوث ہو گیا ہے کرکٹ دنیا بھر کا ایک مقبول ترین کھیل ہے اور پاکستان اور بھارت ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام کرکٹ سے محظوظ ہوتے ہیں ،ایسے مقبول عام کھیل میں سیاست کو گھسیٹنا ایک انتہائی نامعقول حرکت ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس حوالے سے بھارت کے کرکٹ کے حلقوں کا کیا ردعمل ہے لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ بھارتی عوام میں بھی اس کا سخت ردعمل ہوگا، اندھی سیاست نے دونوں ملکوں کے ایک ارب کے لگ بھگ عوام کو قدم قدم پر مایوس کیا ہے۔جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے بھارتی سیاست میں مذہبی انتہا پسندی شدت سے ابھر رہی ہے بدقسمتی سے بی جے پی آر ایس ایس کے تحت سیاسی کردار ادا کرتی ہے کرکٹ جیسے مقبول کھیل کو نہیں بخشا۔

نیوزی لینڈ ایک مغربی ملک ہے اصولاً اسے کرکٹ کے تعصبات سے آزاد ہونا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پاکستان کے عوام حیرت سے نیوزی لینڈ کے فیصلے کو دیکھ رہے ہیں،سیاسست کرنے کے لیے بہت سے میدان ہیں جہاں سیاست کی جاسکتی ہے لیکن کرکٹ جیسے مقبول کھیل کے حوالے سے تعصبات انتہائی افسوسناک ہیں، اسے اتفاق کہیں یا حسن اتفاق پاک بھارت لڑائیوں میں پاکستان کا رویہ عموماً مثبت رہا ہے ۔

نیوزی لینڈ کو اصولاً کرکٹ ڈپلومیسی سے الگ رہنا چاہیے لیکن دنیا حیرت سے دیکھ رہی ہے کہ نیوزی لینڈ ایک ایسے مسئلے پر منفی رویے کا اظہار کر رہا ہے جو عوام کے ایک مقبول کھیل سے تعلق رکھتا ہے دنیا کے غیر جانبدار مبصرین نے ہمیشہ حکومتوں کو تنبیہ کی ہے کہ حکومتیں ہر ملک کے مقبول کھیل کے حوالے سے کسی قسم کی ڈپلومیسی سے باز رہیں لیکن یہ بدقسمتی ہے کہ بھارت کی حکومت ہمیشہ اس حوالے سے اندھے پن کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔

بھارت کا حکمران طبقہ یہ سمجھنے سے قاصر رہا ہے کہ کرکٹ جیسے مقبول عام کھیل میں مداخلت کرکے بھارت ایک عامیانہ حرکت کرکے دونوں ملکوں کے عوام کو مایوس کر رہا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی وجہ سے اس خطے کے حالات میں خوف کا عنصر پایا جاتا ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان نے نیوزی لینڈ کو ہر طرح کی سیکیورٹی کا یقین دلایا ہے اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی طرف سے سیریز کی منسوخی مایوس کن ہے۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے طالبان حکومت بار بار یقین دلا رہی ہے کہ وہ امن و امان کے مسئلے میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرے گی لیکن اس کے باوجود بھارت نے کرکٹ کے حوالے سے جو منفی کردار ادا کیا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے دونوں ملکوں کے نظریاتی رہبرچوہتر سال سے مستقل کوشش کر رہے ہیں دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لائیں لیکن بھارت کا رویہ ان کوششوں پر پانی پھیر رہا ہے۔

پاکستان اور ہندوستان دو پسماندہ ترین ملک ہیں اور ان ملکوں کے اہل دانش مستقل کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آئیں لیکن بھارتی حکومت پر آر ایس ایس کے اثرات ہمیشہ منفی کردار ادا کرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کی حکومت آنے کے بعد خطے کے ملکوں میں ایک بدگمانی پائی جاتی ہے کہ طالبان دہشت گردانہ کارروائیاں کریں گے لیکن طالبان حکومت کی طرف سے بار بار دنیا کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ افغانستان کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہوگا اس کے باوجود افغانستان کا خوف دکھا کر کرکٹ جیسے عوامی مقبولیت کی سیریز کو منسوخ کرنا انتہائی عوام دشمن اور جارحانہ رویہ ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے امید ہے کہ بھارت کا حکمران طبقہ ہوش کے ناخن لے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔