پھلوں کے چھلکوں سے جراثیم کش پٹیاں تیار

ویب ڈیسک  منگل 21 ستمبر 2021
سنگاپورکے سائنسدانوں نے مشہور مقامی پھل ڈیوریان پھل کے چھلکے سے اینٹی بیکٹیریا پٹیاں بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ فوٹو: این ٹی یو

سنگاپورکے سائنسدانوں نے مشہور مقامی پھل ڈیوریان پھل کے چھلکے سے اینٹی بیکٹیریا پٹیاں بنانے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ فوٹو: این ٹی یو

سنگاپور سٹی: پھلوں کے چھلکوں سے زخم کی جراثیم کش پٹیاں بنانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی (این ٹی یو) نے وہاں کے مشہور پھل ڈوریان کے چھلکے سے ہائیڈروجیل بنائے ہیں۔

سنگاپوراوردیگرعلاقوں میں ڈیوریان نامی پھل بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے اور اس کا چھلکا بڑی تعداد میں جمع ہوتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس کا چھلکا خشک کرکےسیلیولوز کے پاؤڈر میں تبدیل کیا۔ اسے فریج میں رکھا گیا اور اگلے مرحلے میں گلیسرول سے ملاکراس نرم ہائیڈروجل میں ڈھالا گیا۔ ہائیڈروجل پانی سے بھرے نرم پھائے ہوتے ہیں اور طب میں بڑے پیمانے پر استعمال ہورہے ہیں۔

’صرف سنگاپور میں سالانہ ایک کروڑ بیس لاکھ ڈیوریان پھل کھائے جاتے ہیں، اگرچہ اس کی تیس میں سے صرف چند اقسام ہی کھائی جاسکتی ہیں لیکن میٹھے کسٹرڈ کے ذائقے والے پھل میں عجیب و غریب بو بھی ہوتی ہے۔ چھلکے کی بڑی مقدار ماحول میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اب اس کے چھلکے اور سوئے پھلیوں تک کے چھلکوں سے طبی پٹیاں (بینڈیج) تیار کی گئی ہیں،‘ این ٹی یو نے پروفیسر ولیم نے کہا۔

اچھی بات یہ ہے کہ ڈیوریان اینٹی بایوٹکس پٹیاں، روایتی پٹیوں کے مقابلے میں زخم کے اطراف کو ٹھنڈا اور نم رکھتی ہیں۔ دوسری جانب یہ مہنگی اینٹی بیکٹیریا پٹیوں کا بہترین حل ہے کیونکہ ان میں دھاتی مرکبات کی معمولی مقدار شامل کی جاتی ہے جو بہت مہنگی ثابت ہوتی ہے۔

ان سب کے باوجود انسانوں پر اس کا استعمال ابھی قدرے دور کی بات ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔