پاکستان ریلویز بحالی کے سفر پر گامزن

شکیل فاروقی  ہفتہ 1 فروری 2014
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

پاکستان ریلویز کے حوالے سے آج کل تواتر سے خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ان میں اچھی خبروں کا حصہ زیادہ اور بری خبروں کا حصہ بہت کم یا تقریباً نہ ہونے کے برابر جوکہ ایک حوصلہ افزا اور خوش آیند تبدیلی ہے۔

کسی بھی ملک کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو اس کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان ریلویز دیگر تمام محکموں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بلکہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے یہ محکمہ عرصہ دراز سے مجرمانہ عدم توجہی اور بڑھتی ہوئی بدعنوانی اور بد انتظامی کے باعث مسلسل زوال کا شکار تھا۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی تھی اسے ناقابل اصلاح قرار دے کر قومیائے جانے کا فیصلہ کیا جا رہا تھا۔ یعنی وہی Give the dog a bad name and then kill him. والی بات۔ خیر ہوئی کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس محکمے کو ایک وزیر باتقدیر کے بجائے ایک وزیر باتدبیر کے سپرد کردیا جس نے اس اونٹ کی ایک ایک ٹیڑھی کل کو سیدھا کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔

پاکستان ریلویز کے حوالے سے نئے سال کی ایک بہت بڑی خوش خبری یہ ہے کہ دو برس کی مدت دراز کے بعد گزشتہ دنوں ایک مال گاڑی مغل پورہ کی خشک گودی میں لنگر انداز ہوئی۔ پاکستان ریلویز کے افسران اورکسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے اس ٹرین کا پرجوش استقبال کیا۔ یہ ایک بڑی مال گاڑی تھی جس پر پورے 40 کنٹینرز لدے ہوئے تھے جب کہ اس ٹرین پر رکھے ہوئے مال کا وزن 980 ٹن تھا۔ مال گاڑیوں کی آمدورفت کے سلسلے کی بحالی کے نتیجے میں نہ صرف مال کی باکفایت اور باسہولت نقل و حمل کا دوبارہ آغاز ہوا ہے بلکہ 6000 سے زائد خاندان کے لوگوں کو روزگار کے مواقعے بھی میسر آئیں گے۔

پاکستان ریلویزکے چیف ٹریفک منیجر کا کہنا ہے کہ لاہور اور کراچی کے درمیان ایک طویل عرصے سے معطلی کا شکار تمام مال گاڑیوں کی آمد ورفت کو بحال کرنے کی کوششیں زور شور کے ساتھ جاری ہیں۔ یاد دہانی کے طور پرعرض ہے کہ مغل پورہ سے کراچی کے لیے آخری مال گاڑی آج سے دو سال سے بھی زائد عرصہ قبل مارچ 2011 میں روانہ ہوگئی تھی۔ اس کے بعد ریل کے انجنوں کی شدید قلت کی وجہ سے عدم دستیابی کے نتیجے میں مال گاڑیوں کی آمدورفت کا سلسلہ معطل ہوگیا تھا۔ ایک عام آدمی کو شاید یہ بات معلوم نہ ہو کہ دنیا بھر کی ریلویز کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ فریٹ سروس ہی ہوتی ہے۔ کراچی سے ملک کے دیگر مقامات تک چلنے والی مال گاڑیوں کی تعداد جس زمانے میں 8 تا 10 ہوا کرتی تھی تب پاکستان ریلویز کی فریٹ سروس سے ہونے والی آمدنی تقریباً 6 بلین روپے تھی۔ لیکن مئی 2011 میں ریلوے انجنوں کے بحران نے ریلوے حکام کو کراچی سے چلنے والی تمام مال گاڑیوں کو بند کرنے پر مجبور کردیا۔ پھر کچھ عرصے بعد جب چند مسافر گاڑیاں معطل کردی گئیں تو اسی سال دسمبر کے مہینے میں چار مال گاڑیوں کی بحالی کے بعد فریٹ سروس پھر شروع ہوگئی۔ بعدازاں کئی نشیب و فراز آئے تاآنکہ مال گاڑیوں کی آمدورفت بند ہوگئی۔

جون 2013 میں جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت نے عنان حکومت سنبھالی تھی تو اس وقت پاکستان ریلویز کی حالت اس مریض کی سی تھی جو آکسیجن کیمپ میں قریب المرگ پڑا ہوا ہو۔ تب اس کا خسارہ سالانہ 30 ارب روپے کے لگ بھگ تھا۔ ان حالات میں ریلوے کی وزارت ان کے لیے کسی سنگین چیلنج سے کم نہ تھی۔ مگر ’’مرد باید کہ ہراساں نہ شود‘‘ کے مصداق خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کو نفع بخش اور فعال بنانے کی ٹھان لی اور وزیر باتدبیر کی حیثیت سے ایسے اچھے فیصلے کیے جن کے نتیجے میں نہ صرف آمدنی میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا بلکہ ریلوے پر عوام کا کھویا ہوا اعتماد بھی بحال ہونا شروع ہوگیا۔ شروع شروع کے 200 دنوں میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کی نسبت پاکستان ریلوے نے 43 کروڑ 49 لاکھ روپے اور نئے مالی سال کے ہدف سے 98 کروڑ 42 لاکھ روپے زیادہ کمائے۔

خواجہ سعد رفیق روز اول سے تاحال پاکستان ریلویز کے مردہ جسم میں نئی روح پھونکنے کے لیے روزوشب سرگرم عمل ہیں۔ ابھی چند روز قبل انھوں نے اپنی صاحبزادی کو لاہور سے راولپنڈی تک ریل کا سفر اس لیے کرایا تاکہ وہ ریلوے کی کارکردگی کے بارے میں اپنے والد صاحب کو زمینی حقائق سے آگاہ کرسکیں۔ خواجہ صاحب کی بیٹی نے جوکہ اسکول کی طالبہ ہیں یہ سفر ایک ہم جماعت کے ہمراہ کیا۔ اس سفر کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تاکہ ریلوے کے عملے کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہو اور بھنک بھی نہ پڑے۔ وزیر ریلوے کی یہ حکمت عملی لائق تحسین ہے۔ کاش دیگر محکموں کے وزیر بھی ان کی تقلید کریں تاکہ ان کی وزارتوں کی کارکردگی میں بہتری آئے۔

پاکستان ریلویز کے حوالے سے ایک اور خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان، ایران، ترکی فریٹ ٹرین کو ہندوستان تک توسیع دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ پاکستان ریلویز کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک دو رخی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے جس کے تحت ایک جانب تو کرپشن کا خاتمہ کیا جا رہا ہے جب کہ دوسری جانب ریلوے کی آمدنی میں اضافے کے لیے غیر روایتی اور نئے نئے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً پرائیویٹ کمپنیوں کو سازگاڑیوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ریلوے کی دیگر املاک پر اپنے اپنے برانڈز کی تشہیر کی پیشکش کی جائیں گی۔ اسی طرح مال گاڑیوں کی بیرونی جانب بھی تشہیر کی پیشکشیں کی جانے والی ہیں۔

ریلوے کے حوالے سے ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ انجنوں کی کمی پر قابو پانے کی کوششیں بھی اب بار آور ہونا شروع ہوگئی ہیں جب کہ مسافر گاڑیوں کی آمدورفت کے اوقات کی پابندی میں بھی 55 فیصد بہتری آئی ہے۔ امید ہے کہ رواں مالی سال کے آخر تک پاکستان ریلویز کے بیڑے میں 45 تا 50 ریلوے انجنوں کا اضافہ ہوجائے گا جب کہ آیندہ ساڑھے چار برس میں رواں ریلوے انجنوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے 315 ہوجائے گی۔

یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر اور اطمینان بخش ہے کہ موجودہ وزیر ریلوے نے محنتی، لائق، مخلص اور دیانت دار کارکنوں اور افسران پر مشتمل ایک عمدہ ٹیم بنالی ہے جو محکمے کی کایا پلٹنے کے لیے اپنے قائد کی رہنمائی میں ہمہ تن سرگرم عمل ہے۔ وزیر ریلوے کا کہنا ہے کہ انشاء اللہ رواں مالی سال کے اختتام پر تنخواہوں، پنشن اور POL کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ریلوے کے منافع میں گزشتہ سال کی نسبت 300 کروڑ روپے کا اضافہ ہوچکا ہوگا۔ خواجہ سعد رفیق نے ابھی چند روز قبل ’’بحالی کا سفر‘‘ کے عنوان سے ایک پریس کانفرنس میں اپنے محکمے سے متعلق 6 ماہ (11 جون تا 31 دسمبر2013) کی کارکردگی کی رپورٹ بھی پیش کی تھی۔

گھوسٹ ملازمین اور ریلوے کی زمینوں پر ناجائز قبضہ پاکستان ریلویز کے دو بڑے ناسور ہیں جو عرصہ دراز سے مسلسل رس رہے ہیں۔ یہ وہ دیمک ہے جس نے ریلوے کے محکمے کو برسوں سے چاٹ چاٹ کر اندر سے کھوکھلا کردیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ریلوے کے بدعنوان اہل کاروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتا۔ ہم ریلوے کے وزیر اور چیئرمین کی فوری توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ وہ اس صورت حال کا سختی سے نوٹس لیں گے اور بلاتاخیر تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائیں گے۔ بلا ٹکٹ سفر اور ٹکٹوں کی بلیکنگ میں فروخت کی حوصلہ شکنی بھی ازحد ضروری ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔