متنازعہ زرعی اصلاحات

ظہیر اختر بیدری  جمعـء 24 ستمبر 2021
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے حالانکہ اس نظام کو ختم کرنے کے لیے کئی بار زرعی اصلاحات کی گئیں لیکن بااثر جاگیرداروں اور وڈیروں نے سندھ اور جنوبی پنجاب میں کسی نہ کسی طرح اپنی زمینیں بچا لیں اور آج بھی ہزاروں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں۔

مشکل یہ ہے کہ یہ طبقہ حکومتوں میں انتہائی اثر و رسوخ کا مالک ہے اور اپنے خلاف ہونے والے ہر اقدام سے اپنے آپ کو بچا لیتے ہیں۔اس حوالے سے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک کمیشن بنایا جائے جو سندھ اور جنوبی پنجاب میں تحقیق کرے کہ اب بھی کتنے جاگیرداروں کے پاس کتنی زمین ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اب تک اشرافیہ کے خلاف جو بھی کارروائی کی گئی اسے اشرافیہ نے ناکام بنادیا کیونکہ بعض حلقے ابھی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ پاکستان میں جاگیردارانہ نظام ختم ہو گیا، اس کی صحت کو جانچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کمیشن بنایا جائے جو یہ دیکھے کہ کس جاگیردار کے پاس خاص طور پر سندھ اور جنوبی پنجاب میں کتنے جاگیرداروں کے پاس کتنی زمینیں ہیں۔

یہ اقدام اس لیے ضروری ہے کہ سیاست میں جاگیردار اب بھی بہت اثر و رسوخ کے مالک ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیاست اور حکومت میں یہ طبقہ اب بھی بڑے اختیارات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ہماری سیاست پر بھی جاگیردارانہ چھاپ لگی ہوئی ہے، یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ دنیا بھر میں آزادی کے بعد آزاد ہونے والے ملکوں کے سربراہوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ زرعی اصلاحات کرکے جاگیردارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

پاکستان میں ایک نہیں کئی بار زرعی اصلاحات کا ڈول ڈالا گیا لیکن نتیجہ اس لیے ناکامی کی صورت میں ظاہر ہوا کہ یہاں جاگیردار طبقہ بہت مستحکم رہا ہے، کوئی حکومت ایسی نہیں رہی کہ جس میں جاگیردار بڑے زمیندار اثر و رسوخ کے مالک نہ رہے ہوں۔

اب بھی ایسے خاندان موجود ہیں جو ہزاروں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں اور سیاست میں صف اول میں موجود ہیں، ایسا کیوں ہے اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک کمیشن بنایا جائے جو ملک میں خاص طور پر سندھ اور جنوبی پنجاب میں ذمے داری کے ساتھ یہ سروے کریں کہ کس کے پاس کتنی زمینیں ہیں، یہ اس لیے ضروری ہے کہ ہماری سیاست میں اب بھی جاگیردار بہت مضبوط اور مستحکم ہیں جس سیاست میں اشرافیہ مضبوط ہوتی ہے، وہاں جمہوریت برائے نام ہوتی ہے۔

ہمارے ملک میں اشرافیہ ہر شعبہ زندگی پر حاوی ہے اور اس کی اس مستحکم پوزیشن کی وجہ ہمارا ملک ابھی تک صحیح معنوں میں صنعتی دور میں داخل نہیں ہوا، نہ ہمارا کلچر صنعتی بن سکا۔ اگر سیاست اور حکومت پر نظر ڈالی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ زرعی اشرافیہ اپنے مفادات کا تحفظ پوری طرح کر رہی ہے، ہمارے ملک میں غربت کی دوسری وجوہات کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اشرافیہ سیاست اور حکومت پر حاوی ہے، اسے ہم اپنی بدقسمتی سمجھتے ہیں اور یہ ملک کی بدقسمتی بھی ہے کہ ہم چوہتر سال بعد ابھی تک صنعتی دور میں پوری طرح داخل نہ ہوسکے، آج کی دنیا صنعتی دنیا ہے جو ملک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں جہاں صنعتی کلچر مستحکم ہے کیا ہماری پسماندگی کی ایک بڑی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم ابھی تک ایک ترقی یافتہ صنعتی ملک نہیں بن سکے۔

وزیراعظم عمران خان ملک میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے دعویدار ہیں، اگر یہ درست ہے تو ان کو سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ ہماری معاشی پسماندگی کی وجوہات کیا ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ چوہتر سال گزرنے کے باوجود ہمارے ملک میں جمہوریت مستحکم نہ ہوسکی جس جمہوریت کو ہم جمہوریت کہتے ہیں وہ بالادست طبقے کی اجارہ داری ہے، اشرافیہ خواہ اس کا تعلق صنعت سے ہو یا زراعت سے، اس کے اختیارات میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تک ہم صنعتی کلچر کو نہ اپنائیں جاگیردارانہ کلچر کسی نہ کسی شکل میں ملک پر مسلط رہے گا۔

اب یہ نئی حکومت کے سربراہ کی ذمے داری ہے کہ اشرافیہ کو تحفظ دینے والے تمام قوانین کو ختم کردیں کیونکہ یہی ادارے اشرافیہ کی طاقت ہیں۔ ہم نے کالم کی ابتدا زرعی اصلاحات سے کی تھی لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ اور جنوبی پنجاب میں سختی سے یہ سروے کیا جائے کہ ان علاقوں میں اب بھی کتنے جاگیردار موجود ہیں اور ان کے قبضے میں کتنے ہزار ایکڑ زمین موجود ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔