بھارت میں مزید 2 مسلمان ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید

اے پی پی  جمعـء 24 ستمبر 2021
آسام میں بے دخلی پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر فورسز کا تشدد، 2 جاں بحق۔ فوٹو:فائل

آسام میں بے دخلی پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر فورسز کا تشدد، 2 جاں بحق۔ فوٹو:فائل

نئی دہلی: بھارت میں ہندو بلوائیوں نے ایک 65سالہ معمر مسلمان اور ایک 25سالہ نوجوان کو شہید اور 2 دوسرے مسلمان شہریوں کووحشیانہ تشددکانشانہ بنایا۔

بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے مسلمانوں پر حملوں اور وحشیانہ تشددکاسلسلہ جاری ہے اوربہار اور اتر پردیش کی ریاستوں میں ہندو بلوائیوں نے ایک 65سالہ معمر مسلمان اور ایک 25سالہ نوجوان کو شہید اور دو دوسرے مسلمان شہریوں کووحشیانہ تشددکانشانہ بنایا۔

ریاست بہارکے ضلع مدھی پورہ میں ہندوانتہاپسندوں کے ایک گروپ جس میں مردوخواتین دونوں شامل تھے نے ایک معمرمسلمان کوقتل کردیا۔ نوافرادکے خلاف معمرمسلمان کے قتل کامقدمہ درج کیاگیا جس میں چارخواتین اورپانچ افرادکوگرفتارکیاجاچکاہے۔

بہارکے ضلع کیمورمیں بعض نامعلوم افرادنے گھرکے باہرسوئے ہوئے 25 سالہ مسلم نوجوان سید خان کوبے رحمی سے گلاکاٹ کر قتل کردیا۔

دریں اثنا بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہرمتھورا میں ایوب اورمعظم نامی دومسلمانوں کوگائے کا گوشت لے جانے پرہندوجنونیوں نے وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایا۔

بھارتی ریاست آسام کے ضلع دارنگ میں ریاستی حکومت کی طرف سے بے دخلی کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر بھارتی فورسز کے وحشیانہ تشدد سے کم سے کم دو افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں بھارتی پولیس کو ضلع دارنگ میں نہتے مظاہرین کاپیچھا کرتے ہوئے مسلمانوں کو وحشیانہ تشددکا نشانہ بناتے ہوئے دکھایاگیاہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔