بلوچستان میں پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپا ٹائٹس ٹیسٹ كرنے كا منصوبہ شروع

ویب ڈیسک  ہفتہ 25 ستمبر 2021
 پاكستان میں پہلی بار پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپاٹائٹس سی كے ٹیسٹ كرنے كا منصوبہ بلوچستان سے شروع كیا جارہا ہے. (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاكستان میں پہلی بار پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپاٹائٹس سی كے ٹیسٹ كرنے كا منصوبہ بلوچستان سے شروع كیا جارہا ہے. (فوٹو: انٹرنیٹ)

 کوئٹہ: ملك كی تاریخ میں پہلی بار پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپا ٹائٹس سی كے ٹیسٹ بلوچستان سے شروع كرنے كا منصوبہ تیار، عملے كی تربیت شروع كر دی گئی، پہلے مرحلے میں پی ایس سی كے ذریعے 3ماہ تک جیلوں میں ٹیسٹنگ كا آغاز كیا جائے گا۔

بلوچستان حكومت نے صوبے میں جدید پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپاٹائٹس سی كے ٹیسٹ كرنے كا فیصلہ کرتے ہوئے ٹیسٹنگ کے لیے عملے كی تربیت شروع كردی ہے۔

ہیپاٹائٹس فری پروگرام بلوچستان كی كوآرڈی نیٹر ڈاكٹر گل سبین اعظم غوریزئی كے مطابق پارلیمانی سیكریٹری صحت ڈاكٹر ربابہ بلیدی، سیكریٹری صحت عزیز احمد جمالی كی كوششوں سے پاكستان میں پہلی بار پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے ہیپاٹائٹس سی كے ٹیسٹ كرنے كا منصوبہ بلوچستان سے شروع كیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا كہ پہلے مرحلے میں پی ایس سی كے ذریعے نومبر سے 3 ماہ تک جیلوں میں ٹیسٹنگ كا آغاز كیا جائے گا، جن كے نتائج كا مشاہدہ كرنے كے بعد صوبے كے دیگر علاقوں میں اس منصوبے كو وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے كہا كہ پی ایس سی ٹیسٹنگ کے لیے عملے كی تربیت شروع كردی گئی ہے اس سلسلے میں پہلی ٹریننگ قومی ادارہ برائے ہیپاٹائٹس، کراچی كی ڈاكٹر ہما قریشی نے دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے كیے جانے والے ٹیسٹ کے لیے درجہ حرارت اور وقت كی كوئی قید نہیں ہوتی اس سے پہلے جن ٹیوبز میں خون كے نمونے اكٹھے كئے جاتے تھے وہ اكثر ٹوٹ جاتی تھیں جس سے بعض اوقات غلط نتائج بھی آتے تھے۔

پلازما سیپریشن كارڈ كے ذریعے پی سی آر ٹیسٹنگ كے لیے نمونے لئے جاسكتے ہیں، اس كے استعمال سے زائد بجٹ اور غلط نتائج آنے كے امكانات بھی ختم ہوجائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔