بھارتی وزیراعظم کے خطاب کے وقت اقوام متحدہ کے باہر احتجاجی مظاہرے

مظاہرین میں مسلمان، سکھ، مسیحی اور دلت قوم سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد موجود تھے


ویب ڈیسک September 26, 2021
مظاہرے میں سکھوں کے علاوہ مسلمان، مسیح اور دلت بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، فوٹو: فائل

FAISALABAD: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جس وقت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے عین اسی وقت مسلمان برادری، مسیحی کمیونٹی اور سکھ بڑی تعداد میں جمع ہوکر فاشسٹ مودی سرکار کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی نژاد مسلمانوں، سکھوں اور مسیحوں نے اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر وزیراعظم مودی اور ان کی فاشسٹ حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نےشدید نعرے بازی کی اور مودی حکومت سے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی حکومت نے بھارت کے سیکولر چہرے کو داغ دار کردیا ہے۔ مودی سرکار میں ہندوؤں کے ہم مذہب دلتوں کی بھی جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں رہی ہے۔



مظاہرین نے آسام میں برسوں سے وہاں رہنے والے مسلمانوں کو شہریت نہ دینے اور غیر مقامی قرار دیکر گھر سے بیدخل کرنے کے خلاف نعرے لگائے جب کہ گاؤ ماتا کی رکھشا کے نام مسلمانوں کے بیدردی سے قتل عام پر بھی صدائے احتجاج بلند کیا۔

یہ خبر پڑھیں : جارحیت پسند اور ہٹ دھرم مودی اقوام متحدہ میں بھی الزام تراشیوں سے باز نہ آئے

سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے انڈیپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ یہاں وزیر اعظم مودی کو خوش آمدید کہنے نہیں بلکہ ان کی اقلیتوں کے خلاف نفرت آمیز پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے آئے ہیں۔

اس موقع پر علیحدگی پسند تحریک خالصتان کے درجنوں کارکن اپنا پرچم تھامے آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اور کسان دشمن قوانین پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : مودی کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی نابینا خاتون کاؤنسلر کا دندان شکن جواب

اسی طرح مظاہرے شامل میں ایک مسیحی شخص نے بتایا کہ احتجاج کے لیے سکھ، مسلمان، مسیحی اور ہندو دلت بھی موجود ہیں اور ہم سب اس ظالم حکومت کے تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور جنگ کو روکا جائے، وزیراعظم

مظاہرین وزیراعظم مودی کی تقریر کے بعد پُرامن طور پر منشتر ہوگئے۔