انگلینڈ نے فلاور کونئی ذمہ داری سنبھالنے کی پیشکش کردی

اسپورٹس ڈیسک  اتوار 2 فروری 2014
اینڈی فلاور نے انگلش کرکٹ کی کافی خدمت کی،مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے،چیئرمین انگلش کرکٹ بورڈ۔ فوٹو:فائل

اینڈی فلاور نے انگلش کرکٹ کی کافی خدمت کی،مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے،چیئرمین انگلش کرکٹ بورڈ۔ فوٹو:فائل

میلبورن: انگلینڈ نے مستعفی کوچ اینڈی فلاور کو نئی ذمہ داری سنبھالنے کی پیشکش کردی،کچھ وقت تک وہ سلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں گے، ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ ون ڈے کوچ ایشلے جائلز کو سونپنے پر غور ہونے لگا۔

انگلش بورڈ کے چیئرمین جائلز کلارک نے فلاور کے استعفے میں کیون پیٹرسن کا کوئی ہاتھ نہ ہونے کی وضاحت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا کے ہاتھوں ایشز سیریز میں 0-5 سے وائٹ واش شکست پر اینڈی فلاور نے ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ سے استعفیٰ دیدیا، بعض اطلاعات کے مطابق انھیں انگلش بورڈ نے ہی اس کی ہدایت دی تھی۔ وہ اب کسی اور حیثیت سے ان کے تجربے سے مزید فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے،انھیں نئی قیادت کی تراش خراش کے حوالے سے پیشکش کی گئی تاہم ابھی اس بارے میں فلاور نے کوئی جواب نہیں دیا ہے، چیئرمین ای سی بی جائلز کلارک کا کہنا ہے کہ اینڈی فلاور نے انگلش کرکٹ کی کافی خدمت کی،مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہی رہیں گے، وہ ہماری کرکٹ کو بہت کچھ دے سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوان پلیئرز کی رہنمائی میں کارآمد ثابت ہوں گے، ان میں کوچنگ کی بہترین صلاحیتیں موجود اور ہم ان کی خدمات سے محروم نہیں ہونا چاہتے۔

 photo 6_zps7ddcb71d.jpg

جب جائلز کلارک سے سوال کیا گیا کہ وہ فلاور کو کوچنگ ذمہ داریاں جاری رکھنے پر راضی کرنے کی کوشش کرینگے تو انھوں نے کہا کہ سابق زمبابوین کرکٹ اپنی دھن کے پکے ہیں، وہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو ایک بار فیصلہ کرلیں تو پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹتے، اس لیے ہم ان کی خدمات کسی اور حیثیت میں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ گذشتہ دنوں میڈیا میں یہ رپورٹس بھی آئی تھیں کہ فلاورنے بورڈ سے مطالبہ کیاکہ اگر کیون پیٹرسن کو ٹیم سے باہر نہیں کیا گیا تو وہ استعفیٰ دے دینگے، اس بارے میں جائلز نے کہاکہ فلاور کے فیصلے میں پیٹرسن کے معاملے کا کوئی کردار نہیں، ویسے بھی کسی کو منتخب کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا سلیکٹرز کا کام ہے۔ انھوں نے اس موقع پر ون ڈے اور ٹوئنٹی 20 کوچ ایشلے جائلز کو ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کیلیے بھی مضبوط امیدوار قرار دیا، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاملہ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر پال ڈائونٹن دیکھیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔