طالبان اور حکومت‘ مثبت رویے سے آگے بڑھیں

ایڈیٹوریل  اتوار 2 فروری 2014
حکومت اور طالبان میں مذاکرات کا عمل شروع ہونے کی صورت میں ملک میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی. فوٹو; پی آئی ڈی/فائل

حکومت اور طالبان میں مذاکرات کا عمل شروع ہونے کی صورت میں ملک میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی. فوٹو; پی آئی ڈی/فائل

یہ امر خوش آیند ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیشرفت کا عمل جاری ہے ۔ حکومت نے چند روز قبل چار رکنی مذاکراتی کمیٹی کا اعلان کیا تھا‘ دوسری جانب تحریک طالبان نے حکومتی اقدام کا خیر مقدم کیا تھا، اب انھوں نے ہفتے کو حکومت سے مذاکرات کے لیے پانچ رکنی رابطہ کار کمیٹی کا اعلان کر دیا ہے جس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان‘ جے یو آئی (س) کے مولانا سمیع الحق‘ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز‘ جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم خان اور جے یو آئی (ف) کے مفتی کفایت اللہ شامل ہیں۔ طالبان نے حکومت کے ساتھ خود براہ راست مذاکرات کرنے کے بجائے مذہبی و سیاسی رہنمائوں پر مشتمل رابطہ کار کمیٹی کا اعلان کیا ہے‘ اس ٹیم کے لیے جن ناموں کا اعلان کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا براہ راست تعلق طالبان سے نہیں ہے البتہ ٹیم میں شامل تمام افراد طالبان سے مذاکرات کے حامی ضرور ہیں۔ عمران خان اور جماعت اسلامی حکومت پر دبائو ڈالتے رہے ہیں کہ وہ امن و امان کا مسئلہ طالبان کے خلاف کسی کارروائی کے بجائے بات چیت کے عمل سے حل کرے۔ جس پر حکومت نے بھی دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے مذاکرات کے لیے چار رکنی ٹیم کا اعلان کیا تھا۔

طالبان کی طرف سے نامزد کردہ رابطہ کار حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ رابطہ کر کے حکومتی موقف سے طالبان مجلس شوریٰ کو آگاہ کریں گے۔ یوں مذاکرات کے تناظر میں دیکھا جائے تو محسوس یہی ہوتا ہے کہ معاملات میں مثبت سمت پیشرفت ہو رہی ہے۔ جہاں تک رابطہ کار ٹیم کے ارکان کا تعلق ہے تو تحریک انصاف نے موقف اختیار کیا ہے کہ عمران خان رابطہ کار ٹیم کا عملاً حصہ نہیں ہوں گے۔ لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ وہ ایک دو روز میں حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ وہ حکومت اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان اس مذاکراتی عمل سے پرامید نہیں ہیں کیونکہ تحریک طالبان کا مطالبہ ملک میں شریعت نافذ کرنا ہے اور وہ مذاکرات کے دوران بھی یہی مطالبہ دہرائیں گے جب کہ موجودہ حکمران اس سلسلے میں راضی نہیں ہیں۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم خان نے رابطہ کار کا کردار ادا کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔

مولانا سمیع الحق بھی رابطہ کار کا کردار ادا کرنے پر تیار ہیں البتہ مفتی کفایت اللہ نے کہا ہے کہ وہ فی الحال اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ اس طرح طالبان کی طرف سے نامزد پانچوں رابطہ کاروں میں سے عمران خان نے تو ٹیم کا عملاً حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے، مذاکرات کے حوالے سے دیگر ارکان کیا کردار ادا کرتے ہیں، وہ اس کے لیے راضی بھی ہوتے ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ ایک دو روز میں ہو جائے گا تاہم یہ خوش کن امر ہے کہ امن و امان کے حوالے سے طالبان کی جانب سے بھی مذاکرات کے حوالے سے پیشرفت ہوئی ہے اور انھوں نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا،اگر وہ ایسا کرتے تو معاملات خراب ہونے کا خطرہ تھا۔اس پیچیدہ صورتحال میں مذاکرات کا عمل جلد از جلد شروع ہو جانا چاہیے تو بہتر ہے۔ تاخیر کا عمل قطعی درست نہیں‘ جتنی تاخیر ہوتی جائے گی‘ گومگو کی کیفیت موجود رہے گی۔ پوری قوم کو امید ہے کہ مذاکرات کا عمل جلد شروع ہو گا اور قتل و غارت کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہو جائے گی اور وہ ملک دشمن قوتیں جو مشکل حالات کا فائدہ اٹھا رہی اور چاہتی ہیں کہ معاملات بہتری کی جانب رواں نہ ہوں‘ وہ قوتیں ناکام ہو جائیں گی۔ حکومتی پیشکش کے جواب میں طالبان کی جانب سے مذاکرات کے لیے پیشرفت کے بعد ملکی فضا میں موجود تنائو میں کمی آئی ہے اور حالات بہتری کی جانب بڑھے  ہیں۔

حکومت اور طالبان میں مذاکرات کا عمل شروع ہونے کی صورت میں ملک میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ مذاکرات میں کامیابی کی پہلی شرط دونوں فریقین کی جانب سے لچک دار رویہ کا ہونا ناگزیر ہے۔ ہر دو فریقوں کو کوئی ایسی شرط عائد نہیں کرنا چاہیے جس سے مذاکرات کا عمل آگے نہ بڑھ سکے یا ناکامی کا شکار ہوجائے۔ اگر مذاکرات کسی بھی وجہ سے پہلی نشست میں ناکام ہو جائیں تو مایوس ہونے، مخالفانہ رویہ اپنانے اور ہر قسم کا تعلق ترک کرنے کے بجائے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کے لیے مزید نشستیں کی جائیں تاکہ ہر دو فریقین میں موجود غلط فہمیاں باہمی بات چیت کے عمل سے دور ہو جائیں اور مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکیں۔ طالبان کی طرف سے نامزد رابطہ کاروں میں سے اگر کوئی مذاکراتی ٹیم کا حصہ نہ بننے چاہے تو اس مسئلے کو اچھالنے کے بجائے کسی نئے رابطہ کار کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ رابطہ کاروں کا کام محض حکومتی موقف سے طالبان مجلس شوریٰ کو آگاہ کرنا ہے وہ فیصلہ سازی کے کسی عمل میں شریک نہیں۔ طالبان نے حکومت سے براہ راست مذاکرات کے لیے ابھی تک کسی ٹیم کا اعلان نہیں کیا۔

عمران خان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ تحریک طالبان پاکستان مذاکرات کے لیے اپنے نمایندے منتخب کرے۔ طالبان کی جانب سے اپنے نمایندے منتخب نہ کرنے تک ابہام قائم رہے گا اور مذاکرات کے لیے ہونے والی پیشرفت بھی سست رہے گی۔ ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ہر دو فریقین کی جانب سے براہ راست مذاکرات کا عمل جلد از جلد شروع کیا جائے تب ہی معاملات کسی نتیجہ پر پہنچ پائیں گے۔ اگر مذاکراتی عمل کے دوران کسی مسئلہ پر اختلاف پیدا ہو جائے تو بھی لچکدار رویہ کی بدولت اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ امید ہے کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے رضا مندی کا جو عمل شروع ہوا ہے وہ آگے بڑھے گا اور پوری قوم کو بہتری کے حوالے سے خوشخبری ملے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔