فلائی اوور سے دہشت گردی کی وارداتیں کی جانے لگیں

اسٹاف رپورٹر  پير 3 فروری 2014
دہشت گردوں نے حملوں میں میڈیا دفتر ، تھانوں اور امام بارگاہ اور پولیس موبائلوں کو نشانہ بنایا،پلوں اور فلائی اوورز پر خفیہ کیمرے نصب نہیں کیے جاسکے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

دہشت گردوں نے حملوں میں میڈیا دفتر ، تھانوں اور امام بارگاہ اور پولیس موبائلوں کو نشانہ بنایا،پلوں اور فلائی اوورز پر خفیہ کیمرے نصب نہیں کیے جاسکے۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

کراچی: شہریوں کی سہولت کے لیے بنائے جانے والے فلائی اوور دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کے لیے محفوظ مقام بن گئے جہاں سے دہشت گرد چلتی گاڑی یا موٹر سائیکل سے دستی بم، کریکر اور ٹینس بال بم پھینک کر باآسانی فرار ہوجاتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  شہر میں گزشتہ کئی ماہ سے دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کی جانب سے فلائی اوورز سے دھماکا خیز مواد پھینکے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس میں گزشتہ سال2 دسمبر کو ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفاتر کو دوسرے حملے میں کے پی ٹی انٹر چینج فلائی اوور سے نشانہ بنایا گیا جس میں بال بم پھینکے گئے اور جدید ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی جبکہ چند روز قبل اسی فلائی اوور سے قیوم آباد چورنگی پر 2 کریکر پھینکے گئے جو زور دار دھماکے سے پھٹ گئے،گزشتہ جمعہ کو سہراب گوٹھ فلائی اوور کے اوپر سے پولیس موبائل پر پھینکا جانے والا بوتل کین بم وہاں سے گزرنے والی ہائی روف پر گرا جس سے2 افراد زخمی ہوگئے اورگاڑی تباہ ہوگئی، ہفتہ کے روز دہشت گردوں نے بنارس فلائی اوور سے پیر آباد تھانے پر ٹینس بال بم پھینکا جس کے دھماکے سے 2 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

 photo 2_zps3fc1962d.jpg

گزشتہ سال14نومبر کو 9 محرم کی شب ناگن چورنگی سے سہراب گوٹھ جانے والے فلائی اوور سے ملزمان چلتی ہوئی موٹر سائیکل سے امام بارگاہ زین العابدین پر کریکر پھینک کر فرار ہوئے جس میں پولیس اہلکار اور خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ، چند ہفتے قبل بنارس فلائی اوور سے ملزمان پیر آباد تھانے پر بوتل کین بم پھینک کر فرار ہوئے جو خوش قسمتی سے نہ پھٹ سکا جبکہ بنارس فلائی اوور کے اوپر سے کئی بار کریکر اور بال بم نیچے پھینکے جاچکے ہیں جن کے دھماکوں سے خوف و ہراس پایا جاتا ہے، رواں ماہ کے دوران نامعلوم ملزمان ناگن چورنگی فلائی اوور سے نارتھ کراچی اقبال پلازہ کے قریب کریکر پھینک کر فرار ہوئے کریکر کے دھماکے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اس واقعے سے چند ماہ قبل اسی فلائی اوور کے اوپر سے اقبال پلازہ میں واقع پکوان سینٹر پر بھتہ خوروں کی جانب سے کریکر پھینکا گیا جس کے پھٹنے سے خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ایک بار مذکورہ دکان پر فلائی اوور سے فائرنگ بھی کی گئی تھی۔

گزشتہ سال عائشہ منزل سے کریم آباد فلائی اوور پر جاتے ہوئے بھتہ خور فرنیچر کی دکان پر 2  بار کریکر اور بال بم پھینک کر فرار ہوچکے ہیں تاہم ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے، پولیس دہشت گردی کے واقعات کو بھتہ خوری کا شاخسانہ قرار دے کر جان چھڑا رہی ہے ، فلائی اوورز کو دہشت گردی اور بھتہ خوری میں استعمال کیے جانے کے باوجود پولیس کی جانب سے نہ تو کوئی عملی اقدام کیا گیا اور نہ ہی  فلائی اوور پر سے دھماکا خیز مواد پھینک کر فرار ہونے والے کسی ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا، دہشت گردی اور بھتہ خوری کے ان واقعات پر شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں فلائی اوورز عوام کی آسانی اور ٹریفک جام پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے تھے جسے دہشت گرد اور بھتہ خور منظم انداز سے اپنی وارداتوں کے لیے استعمال کررہے ہیں پلوں پر خفیہ کیمرے نصب کرکے دہشت گردی کی وارداتوں کی سرکوبی کی جاسکتی ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔