تباہ حال پاکستان اور تعلقات کا بوجھ

شہاب احمد خان  ہفتہ 9 اکتوبر 2021
افغانستان اور ایران سے تعلقات کا بوجھ پاکستان میں بدامنی اور مہنگائی کا باعث بنا۔ (فوٹو: فائل)

افغانستان اور ایران سے تعلقات کا بوجھ پاکستان میں بدامنی اور مہنگائی کا باعث بنا۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بلند ترین مقام پر پہنچ چکا ہے۔ وہ مقام جس کے بارے میں ہم بزرگوں کے اقوال اکثر سنتے رہتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے کسی زمانے میں کہا تھا کہ ایک ایسا دور بھی آئے گا جب پاکستان کی ہاں میں ساری دنیا کی ہاں اور پاکستان کی ناں میں ساری دنیا کی ناں ہوگی۔ آج وہ دور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

کل تک اس بات کا تصور بھی نہیں جاسکتا تھا کہ ہماری حکومت امریکا کو اس کے کسی مطالبے پر ’’ہرگز نہیں‘‘ بھی کہہ سکتی ہے۔ برطانیہ کا وزیر خارجہ پاکستان کو اس بات پر راضی کرنے کےلیے کہ وہ ارجنٹینا کو جے ایف سیونٹین تھنڈر فروخت نہ کرے، بھاگا ہوا پاکستان آئے گا اور پاکستان اسے کورا جواب دے دے گا۔

یہ تمام اقدامات یقیناً اس حکومت کے دور میں ہی ممکن ہوسکتے تھے، کیونکہ شاید عمران خان ہی اسلامی دنیا کا وہ واحد لیڈر ہے جس پر دباؤ ڈالنے کا کوئی لیور مغرب کے پاس نہیں ہے۔ نہ اس کی پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت مغربی ملکوں میں پڑی ہوئی ہے، نہ ہی وہ ذہنی طور پر مغرب کا غلام ہے۔

آج سے پہلے اگر کوئی پاکستانی لیڈر ایسا کرتا تو شاید پوری پاکستانی قوم اسے سر آنکھوں پر بیٹھا لیتی، لیکن عمران خان کی ان تمام کامیابیوں کے باوجود انھیں وہ مقام یہ قوم دینے پر راضی نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ایک تو اشرافیہ کے مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ دوسری وجہ مہنگائی کا اک نہ رکنے والا سلسلہ ہے، جس پر بند باندھنے میں یہ حکومت ناکام نظر آتی ہے۔ مفادات کے ٹکراؤ کو ایک طرف رکھ کر ہم صرف مہنگائی کی بات کرلیتے ہیں۔

پاکستان اجناس کی پیداوار میں دنیا کے چند بڑے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ ہر قسم کے پھل بھی پاکستان میں وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔ ہم اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے باوجود بھاری مقدار میں چاول برآمد بھی کرتے ہیں اور دوسری کھانے پینے کی اشیا بھی بڑی مقدار میں ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ جس ملک میں جو اشیا وافر مقدار میں پیدا ہوتی ہوں تو ان کی قیمت اس ملک میں انتہائی کم ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورت حال الٹ نظر آتی ہے۔ یہاں کھانے پینے کی اشیا روز بروز مہنگی ہورہی ہیں۔ گوشت کی قیمت غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہے، جبکہ پاکستان سے گوشت اب باقاعدہ ایکسپورٹ بھی کیا جارہا ہے۔

کیا وجہ ہے کہ ہمارے ارباب اختیار مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ انھیں مہنگائی کی وجہ سمجھ نہیں آرہی یا پھر وہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی اپنی آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ دو نام نہاد برادر ملکوں کا بوجھ ہے، جو پاکستان نے غیر ضروری طور پر اپنی گردن میں ڈالا ہوا ہے۔ ایک کا نام افغانستان اور دوسرے کا نام ایران ہے۔ پاکستان میں کون ایسا معصوم ہے جو نہیں جانتا کہ افغانستان نے پاکستان کے مفدات کو ماضی میں ہر حد تک نقصان پہنچانے میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سردار داؤد کے دور تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہی تھے۔

اگر ہم ایران کی بات کریں تو وہ تو آج بھی سی پیک کو نقصان پہنچانے کےلیے ہر حربہ استمعال کررہا ہے۔ آج جتنی دوستی ایران کی بھارت سے ہے اتنی دوستی کسی اسلامی ملک سے نہیں ہے۔ آج بھی ایران تمام اسلامی دنیا کے خلاف امریکی اور صہیونی ایجنڈے کو اپنے عمل سے آگے بڑھاتا ہوا نظر آتا ہے۔ حالانکہ بظاہر ان ملکوں کے درمیان سخت دشمنی کا تاثر دیا جاتا ہے۔

اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ دونوں ملک کیسے پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا باعث ہیں۔ ایران کے متعلق تو سب کو معلوم ہے کہ اس پر بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ پاکستان کسی قسم کی کوئی برآمدات ایران کو نہیں کرتا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستانی چاول ایران کی ہر سپر مارکیٹ میں وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں خریداری کرنا اور کسی بھی مقدار میں خریداری کرنے پر کوئی چیک نہیں ہے۔ ہمارا بروکر صرف اپنے منافع سے مطلب رکھتا ہے۔ اسے اس سے غرض نہیں ہے کہ خریدنے والا کون ہے اور اتنی بڑی مقدار میں کیوں خرید رہا ہے۔ جو جتنے زیادہ پیسے دے گا وہ مال خرید لے گا۔ کچھ عرصہ پہلے چاولوں کی پاکستان میں انتہائی قلت ہوئی تھی۔ جس کی وجہ ایرانیوں کی پاکستان سے خریداری اور اسے انتہائی آسانی سے پاکستان سے اسمگل کرنا تھی۔ اگر کسی کو یہ سب باتیں لفاظی لگ رہی ہوں تو وہ کراچی کے جوڑیا بازار میں جاکر ان باتوں کی تصدیق خود کرسکتا ہے۔ یہ تمام باتیں وہاں زبان زد خاص و عام ہیں۔

اب آتے ہیں ہم اپنے دوسرے نام نہاد بھائی افغانستان کی طرف۔ ان کی کہانی تو رنگین بھی ہے سنگین بھی ہے، نمکین بھی ہے، کڑوی بھی ہے اور دلدوز بھی ہے۔ جن پاکستانیوں کا واسطہ افغانیوں سے کبھی پڑا ہو تو وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانی پاکستان سے آج بھی تقریباً اتنی ہی نفرت کرتے ہیں، جتنی کبھی وہ ماضی میں کیا کرتے تھے۔ جب افغانستان میں روس داخل ہوا اور ایک نام نہاد جہاد اس کے خلاف شروع ہوا تو افغانیوں کی بڑی تعداد پاکستان میں داخل ہوگئی۔ یہاں کچھ عرصے تو وہ کیمپوں میں رہے لیکن جب ان کو کھلا چھوڑ دیا گیا تو وہ شہروں میں پھیل گئے۔ اپنے ملک میں تو انھیں پیٹ بھر روٹی بھی میسر نہیں تھی لیکن انھیں یہاں کاروبار کے بے پناہ مواقع نظر آنے لگے۔ سرمایہ ان کےلیے کوئی مسئلہ نہ بنا۔ اب کوئی پوچھے گا کہ جنھیں پیٹ بھر روٹی میسر نہیں تھی ان کےلیے سرمایی کوئی مسیلہ کیوں نہیں بنا؟ یہ بھی ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

کون نہیں جانتا کہ افغانستان کے نام نہاد جہاد کا بیشتر خرچ ہیروئن کی آمدنی سے پورا کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں ہیروئن وہاں کھلے عام بنائی اور انتہائی سستے داموں بیچی جاتی تھی۔ افغانی دنیا کی شاید واحد قوم ہیں، جن کے ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد ہیروئن کے دھندے میں موجود ہے یا رہا ہے۔ افغانیوں کےلیے انتہائی آسان تھا کہ وہ ہیروئن کا ایک پیکٹ وہاں سے خریدیں اور پیدل چلتے ہوئے پاکستان میں کسی نہ کسی سرحد سے داخل ہوں اور اس ہیروئن کے پیکٹ کو پاکستان لاکر اچھی قیمت پر فروخت کردیں۔ یہ انتہائی مستند اور حقیقی کہانی ہے جو آپ کو سنائی جارہی ہے، جو کہ جوڑیا بازار کے ایک بروکر کی زبانی پہلی بار سن کر تو ہمیں بھی یقین نہیں آیا تھا لیکن بعد کے حالات اور واقعات نے اس کی تصدیق کردی۔ اس بروکر کے مطابق ایک افغانی افغانستان کے پانچ پھیروں میں کروڑ پتی بن جاتا ہے جبکہ اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہم نے بھی پہلا سوال اس سے یہی کیا تھا کہ کیسے؟ جس پر اس نے یہ کہانی ہمیں سنائی تھی۔

ہوتا اس طرح سے ہے کہ ایک افغانی چوری چکاری یا ہیرا پھیری سے دس ہزار پاکستانی روپوں کا بندوبست کرتا ہے۔ پھر وہ سیدھا افغانستان میں اپنے بھائی یا کسی رشتے دار سے ان پیسوں کی ہیروئن خریدتا ہے۔ یہ ہیروئن کا پیکٹ لے کر وہ پاکستان واپس آتا ہے۔ یہاں اس ہیروئن کا خریدار پہلے ہی اس کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے، جو فوراً اس سے یہ پیکٹ دس گنا قیمت پر خرید لیتا ہے۔ اب اس افغانی کے ہاتھ میں ایک لاکھ پاکستانی روپیہ ہوتا ہے۔ جسے لے کر وہ سیدھا جوڑیا بازار کا رخ کرتا ہے، جہاں سے وہ اس ایک لاکھ روپے کی کھانے پینے کی اشیا خریدتا ہے۔ اسے اس مال کو افغانستان پہنچانے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کا کوئی بھائی یا رشتے دار گڈز ٹرانسپورٹ کے بزنس میں بھی موجود ہوتا ہے، جو کہ انتہائی معمولی کرایہ پر یہ تمام سامان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں افغانستان پہنچا دیتا ہے۔ وہاں پہنچ کر یہ سارا سامان تقریباً تین گنا قیمت پر فروخت ہوجاتا ہے۔ اب اس افغانی کے ہاتھ میں تقریباً تین لاکھ روپے آگئے ہیں۔ اب وہ ان تین لاکھ افغانی کرنسی کی پھر ہیروئن خرید لیتا ہے، جسے لے کر وہ انتہائی آرام سے ٹہلتا ہوا پاکستان میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہاں خریدار انتظار میں بیٹھا ملتا ہے جو اس سے پھر یہ ہیروئن دس گنا قیمت پر خرید لیتا ہے۔ یہ چکر اسی طرح چلتا ہے اور پانچویں چکر میں اس افغانی کے ہاتھ میں ایک کروڑ پاکستانی روپیہ ہوتا ہے۔

اس کے بعد وہ اس دھندے سے نکل کر نئے بننے والے شاپنگ سینٹرز کا رخ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ پاکستانی شناختی کارڈ پہلے ہی بنوا چکا ہوتا ہے، یہاں وہ آرام سے ایک دکان خرید لیتا ہے اور اسمگلنگ کے دھندے میں ملوث افراد سے رابطہ کرکے انتہائی عمدہ جاپانی اور کوریا کا کپڑا اپنی دکان میں بھر لیتا ہے۔ جس کی وہ بہت معمولی قیمت ادا کرتا ہے لیکن پاکستانیوں کو وہ کپڑا انتہائی مہنگا فروخت کیا جاتا ہے۔ کیا ہمارے ملک میں کسی نے کبھی یہ چھان بین کی کہ پاکستان میں جاپان اور کوریا سے کپڑا امپورٹ نہ ہونے کے باوجود ہر شاپنگ سینٹر اس کپڑے سے بھرا ہوا کیسے ہے؟ یہاں بھی کرپشن پردہ ڈھک دیتی ہے۔ نہ جانے کتنے سرکاری افسران کے گھر صرف اپنی آنکھیں بند رکھنے سے ہی چل رہے ہیں۔

افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستانیوں کےلیے کسی نحوست سے کم نہیں ہے۔ کیونکہ اس کی آڑ میں پاکستان سے بھی بے شمار اشیا افغانستان پہنچا دی جاتی ہیں، وہ بھی بغیر کسی کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسز کے۔

کراچی میں مکانوں کے کرایے صرف ان افغانیوں کی وجہ سے پانچ گنا تک بڑھ گئے تھے، جو پھر کبھی واپس نہیں ہوسکے۔ آج کراچی میں یہ حال ہے کہ پورے پورے شاپنگ سینٹرز صرف افغانیوں کے تسلط میں ہیں، جس کے پیچھے کہانی وہی ہے جو ابھی آپ کو سنائی ہے۔ جوڑیا بازار میں تو ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب پاکستان کا چھوٹا تاجر ہاتھ میں محدود رقم لے کر وہاں بروکروں سے بحث کر رہا ہوتا تھا کہ اسے بھی دو پیسے بچ سکیں تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے۔ اتنے میں ایک افغانی وہاں آجاتا تھا اور مال کی قیمت پوچھتا تھا۔ بروکر اسے معمول سے بھی دس پندرہ روپے اوپر رکھ کر بتاتا تھا۔ افغانی بغیر کسی حیل و حجت کے کہتا تھا سارا مال ہمیں دے دو۔ بروکر نہ صرف سارا مال اسے بیچ دیتا تھا بلکہ پاکستانی چھوٹے تاجر کو طعنہ بھی دیتا تھا کہ کاروبار اب تمھارے بس کا نہیں ہے، جاؤ گھر میں بیٹھ کر الله الله کرو۔

پڑھنے میں تو یہ صرف ایک مزیدار کہانی لگتی ہے لیکن جو لوگ ان تمام حالات کا شکار ہوئے ہیں ان سے پوچھو جاکر کہ ان افغانیوں کی وجہ سے کتنے لوگوں کے گھر کے چولہے بجھ گئے۔

اگر کسی کو اس کہانی پر کوئی شک ہو تو وہ سیدھا جوڑیا بازار جاکر اس کی بھی تصدیق کرسکتا ہے۔ تمام کردار ابھی زندہ بھی ہیں اور ان سے تصدیق بھی کی جاسکتی ہے۔

اگر ہماری حکومت واقعی مہنگائی کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اس بات کا انتظام کرنا ہوگا کہ پاکستان کے تھوک بازاروں میں خریداری کا ایسا نظام بنایا جائے جس میں خریدار کو اپنی شناخت کرانا ضروری ہو۔ کسی غیرملکی کو نام نہاد مسلمان بھائی ہونے کے ناتے پاکستان سے کھلم کھلا اشیائے خورونوش خرید کر پاکستان سے اسمگل کرنے کی اجازت نہ ہو۔ اگر ایران پر اقتصادی پابندیاں ہمیں ان سے تجارت کی اجازت نہیں دیتی ہیں تو ہمارے پاکستانی اور ایرانی اسمگلروں کو بھی اسمگلنگ کی جرات نہ ہو۔

یہ بات ہر پاکستانی کو سمجھ لینی چاہیے کہ ہم اگر اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ان دو اقوام کو پالتے رہیں گے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب پاکستان میں بھوک اور افلاس ترقی کرتے کرتے اس مقام تک پہنچ جائے گی جہاں ہماری سلامتی بھی خطرے میں پڑجائے گی۔

الله تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اب بھی عقل عطا فرما دے اور اس نام نہاد اسلامی بھائی چارے کو سمجھنے کی صلاحیت دے دے۔ اگر کچھ ممالک پاکستان کو اسلامی دنیا کا رہنما بنا کر باقی دنیا سے لڑواتے رہیں گے اور ہم شیخی خوری میں رہنما بن کر ہر معاملے میں کودتے رہیں گے تو وہ وقت بھی آجائے گا جب ہم شاید ساری دنیا سے محض اس لیے لڑ رہے ہوں گے کہ ہم بزعم خود اسلامی دنیا کے رہنما ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

شہاب احمد خان

شہاب احمد خان

بلاگر اسلامک بینکنگ اور فائنانس میں ماسٹرز کی سند رکھتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔