نور مقدم نے خود کو قربانی کے لیے پیش کیا، ملزم ظاہر جعفر

ویب ڈیسک  جمعرات 14 اکتوبر 2021
 اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم کیس کا 2 ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دے رکھا ہے  فوٹو: فائل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم کیس کا 2 ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دے رکھا ہے فوٹو: فائل

 اسلام آباد: نورمقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے عدالت کے روبرو کہا ہے کہ نور مقدم نے خود کو قربانی کے لیے پیش کیا۔

ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد عطا ربانی نے نور مقدم کیس کی سماعت کی، مرکزی ملزم سمیت 6 ملزمان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کچہری عدالت پیش کیا گیا جب کہ ضمانت پر رہا 6 ملزمان بھی عدالتی نوٹس پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے، دوران سماعت ملزمان عصمت آدم ، ذاکر جعفر اور طاہر ظہور کے وکلا نے فرد جرم عائد ہونے سے روکنے کی درخواست پر دلائل دئیے۔

ظاہر جعفر نے عدالت سے کہا کہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ اس کا وکیل نہیں، وکیل جو کچھ کہہ رہا ہے بے بنیاد ہے مجھے چھوڑدیں، میرے ساتھ کھڑے ملزمان نے نور مقدم کو مارا ہے، مجھے بولنے کا موقع دیا جائے، میں ایک فون کال کرنا چاہتا ہوں، مجھے اجازت دیں، میں اس کیس کو مضبوط کرنے کے لیے کال کرنا چاہتا ہوں۔

دوران سماعت ملزم ظاہر جعفر نے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ قربانی اسلام میں بھی جائز ہے اور نور مقدم نے خود کو قربان کے لیے پیش کیا، یہ میں نے کیا تھا اور پستول میرے باپ کا ہے، قتل میرے ہاتھ سے ہوا تھا ہاں میں مانتا ہوں، وکیل جو کچھ کہہ رہا ہے بے بنیاد ہے مجھے چھوڑدیں، ہم لڑے تھے میری غلطی تھی وہ بھی غصے میں تھی، میں جیل کی سلاخوں میں مرنا نہیں چاہتا، میری شادی ہونی چاہیے، بچے ہونے چاہئیں، مجھے گھر میں قید کر دیں جیل میں مارتے ہیں، پھانسی دے دیں میں جیل میں نہیں رہ سکتا یا معافی دے دیں۔

اس موقع پر ملزم نے مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اور آپ کی بیٹی پیار کرتے تھے ، تین سال ہم تعلق میں رہے ہیں، میری زندگی آپ کے ہاتھ میں ہے آپ مجھے بچا سکتے ہیں، آپ میری زندگی لینا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

عدالت نے ظاہر جعفر، ذاکر جعفر، عصمت آدم، افتخار، جمیل اور جان محمد سمیت 12ملزمان پر فرد جرم عائد کردی، ملزم نے صحت جرم سے انکار کردیا، عدالت نے استغاثہ کے گواہ 20 اکتوبر کو طلب کر لیے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نور مقدم کیس کا 2 ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دے رکھا ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔