ماحولیاتی تبدیلیوں سے 10 بدترین متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے، امین اسلم

ویب ڈیسک  جمعـء 15 اکتوبر 2021
ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کے نتیجے میں پاکستان کو بدترین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کے نتیجے میں پاکستان کو بدترین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اسلام آباد: وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی جناب امین اسلم نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

’’ہم قدرتی آفات کا بہت زیادہ شکار ہیں اور آب و ہوا کے خطرے کو کم کرنے کی واحد حکمت عملی آفات کے خطرے میں کمی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ آفات کے خطرے میں کمی کے بارے میں مزید بات کی جائے اور آب و ہوا اور تباہی کے خطرے کو کم کرنے کےلیے مضبوط پالیسیاں اور پروگرام سامنے لائے جائیں۔

پاکستان کے سابق سینیٹر جناب جاوید جبار نے کہا کہ پاکستان 2005 کے زلزلے، 2010 میں سیلاب، 2020 میں وبائی امراض سے نمٹنے میں کامیاب رہا لیکن ہر سطح پر آفات کی تیاری اور تخفیف پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت ہے جیسے سارک جیسا فورم جو جنوبی ایشیائی ممالک کےلیے قدرتی تباہی کے خاتمے اور تیاری کےلیے وسیع تعاون کےلیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط اعدادوشمار اور تحقیق پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ قدرتی آفات کی پیش گوئی کیسے کی جائے کیونکہ اس وقت ملک میں اس طرح کا ڈیٹا اور تحقیق دستیاب نہیں۔ انہوں نے آفیشل اور غیر سرکاری ڈپلومیسی چینلز کو فعال کرنے پر بھی زور دیا کہ جو قدرتی آفات کے خطرے کو کم کرنے کےلیے علاقائی، قومی اور بین الاقوامی شراکت داری قائم کرتے ہیں۔

پاکستان ہیومینیٹیرین فورم نے عالمی سالانہ آفات کے خطرات میں کمی کے دن کے موقع پر ورچوئل سیشن کا انعقاد کرتے ہوئے رواں سال کے موضوع ’’ترقی پذیر ممالک کےلیے بین الاقوامی تعاون، ان کی آفت کے خطرے اور تباہی کے نقصانات کو کم کرنے کےلیے‘‘ پر مرکوز کیا۔ سیشن میں مقررین، دانشوروں، ترقی پسندوں اور انسانی ہمدردوں نے شرکت کی۔

جناب عابد قیوم سلہری نے کہا کہ قدرتی آفات ناگزیر ہیں لہذا صحیح پالیسیوں اور طریقوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے جو قدرتی آفات کو انسانی سانحے میں تبدیل ہونے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سطح پر آفات کے خطرے کی تیاری حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگرچہ پاکستان اس وقت این ڈی ایم اے کی قیادت میں مختلف اقدامات پر توجہ دے رہا ہے لیکن علاقائی آفات سے نمٹنے یا آفتوں کے دوران پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کےلیے زیادہ توجہ مرکوز حکمت عملی پر ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اتحاد بنانا چاہیے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کےلیے آفات کے خطرے کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے انسانی حفاظت کےلیے عالمی تعاون و سرکاری سرپرستی پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا کیونکہ اس ڈیجیٹل دور میں ہم تنہائی میں کام نہیں کرسکتے اور ہمیں کسی کو پیچھے نہ چھوڑنے کے نعرے کے ساتھ تباہی میں کمی سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف پر اپنے عزم کی تجدید کرنا ہوگی۔

آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ہر سطح پر خاص طور پر کمیونٹیوں کےلیے لچک پیدا کرنا حکومت کی اعلیٰ ترجیح ہونی چاہیے۔

جناب فرحان احمد خان سی ای ایس وی آئی نے کہا کہ بین الاقوامی اور قومی تعاون پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں  لوگ ہمیشہ آفت سے نمٹتے  رہے ہیں لہذا یہ وقت ہے کہ آفات میں تخفیف کی حکمت عملی پر کام کیا جائے اور ہر سطح پر خاطر خواہ کارروائی کےلیے بین الاقوامی اور قومی فورمز کو فعال کیا جائے۔

آفات لوگوں کی زندگیوں کو بہت سے طریقوں سے متاثر کرتی ہیں جیسے کہ کووِڈ 19 لوگوں کی زندگیوں پر اثر خاص طور پر معاش پر کافی تباہ کن ہے۔ اس طرح کے اثرات واقعی بین الاقوامی اور قومی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار یورپین سول پروٹیکشن اینڈ ہیومنیٹیرین ایڈ نے کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس بات کی فوری ضرورت ہے کہ تمام ترقیاتی شراکت داروں، حکومت کو آفت کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے اور علاقائی و بین الاقوامی تعاون پر زیادہ زور دینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔