پاکستانی کپتان بھارتی غرور خاک میں ملانے کیلیے بے تاب

اسپورٹس رپورٹر  اتوار 17 اکتوبر 2021
بدقسمتی سے انٹرنیشنل سیریزنہ ہوسکیں،بعض کرکٹرزکی پرفارمنس اچھی نہ ہونے کے سبب تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ فوٹو: پی سی بی

بدقسمتی سے انٹرنیشنل سیریزنہ ہوسکیں،بعض کرکٹرزکی پرفارمنس اچھی نہ ہونے کے سبب تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ فوٹو: پی سی بی

لاہور: پاکستانی کپتان ورلڈکپ میں بھارتی غرورخاک میں ملانے کیلیے بے تاب ہیں جب کہ یواے ای میں فتوحات کا اعتماد بابر اعظم کے لہجے میں جھلکنے لگا۔

ورچوئل پریس کانفرنس میں بابر اعظم نے کہاکہ ملک کی نمائندگی کرنا باعث افتخار اور میگا ایونٹ میں کپتانی چیلنج ہے،تمام کھلاڑی بہترین کارکردگی کیلیے بے تاب اور مقابلے شروع ہونے کے منتظر ہیں، ہم نے یواے ای میں بہت کرکٹ کھیلی، کنڈیشنز کا اندازہ ہے،ہم یہاں مسلسل 10فتوحات حاصل کرچکے، بھارت کیخلاف میچ میں بھی اس کا فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ معاملات کو سادہ رکھتے ہوئے ہمیں تینوں شعبوں میں اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی، بہتر کارکردگی سے اعتماد ملتا ہے،میں خود بھی اچھی فارم میں ہوں، اس کا ٹیم کو بھی فائدہ ہوگا، ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2009 کی فتح گرین شرٹس اور قوم کیلیے قابلِ فخر لمحہ تھا،ہم تاریخ دہرانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

ایک سوال پرکپتان نے کہا کہ میگا ایونٹ سے قبل بدقسمتی سے انٹرنیشنل سیریز نہ ہوسکیں، ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں کچھ کھلاڑیوں کی پرفارمنس اچھی نہ ہونے کی وجہ سے تبدیلیاں کرنا پڑیں، شعیب ملک، فخر زمان اور حیدر علی ٹیم میں آئے ہیں، شعیب تجربہ کار اور سپر فٹ کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں، ان کو پلیئنگ الیون میں شامل کرنے سے متعلق پلان ابھی بنانا ہے، ملک میں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے میچز کھیلنے کا فائدہ ہوا،تربیتی کیمپ میں بھی اسکواڈ میں شامل کھلاڑی گروپ کی شکل میں رہے۔

بابر اعظم نے کہا کہ محمد رضوان بہترین وکٹ کیپر بیٹسمین اور بہت اچھا کھیل رہے ہیں، وہ ہم سب کے لیے روشن مثال ہیں، ان کے ساتھ بیٹنگ خوشگوار تجربہ ہوتی ہے، کوشش ہوگی کہ ہم دونوں ٹیم کیلیے لمبی اننگز کھیلیں۔انھوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن بیٹنگ اور قومی پیسر حسن علی بولنگ میں فیورٹ ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔