مالی مشکلات اور کمائی کے اضافی طریقے

کامران امین  جمعرات 21 اکتوبر 2021
طالب علم اپنی پڑھائی کے ساتھ انٹرنیٹ پر اسکلز سیکھ کر باعزت روزگار کما سکتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

طالب علم اپنی پڑھائی کے ساتھ انٹرنیٹ پر اسکلز سیکھ کر باعزت روزگار کما سکتے ہیں۔ (فوٹو: فائل)

پڑھنے کا شوق رکھنے والے زیادہ تر بچے غریب یا مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اب دو وقت کی روٹی کا انتظام مشکل سے ہوتا ہے تو یونیورسٹیوں کی فیسیں کون بھرے؟ بہت سے طالب علم دوست اس حوالے سے سوال کرتے ہیں۔ زیر نظر تحریر میں کچھ ایسی چیزیں بیان کروں گا جو امید ہے آپ کو اس قابل بنا سکیں کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نہ صرف آپ اپنا خرچہ خود نکال سکیں بلکہ گھر والوں کو بھی سپورٹ کرسکیں۔

ہمارے ہاں ایسے تمام طالب علم جو مالی مشکلات کا شکار ہیں اپنا خرچہ پورا کرنے کےلیے ٹیوشن پڑھاتے ہیں یا پھر کسی پرائیویٹ اسکول میں ٹیچنگ کرتے ہیں اور شام کی کلاسز میں داخلہ لے کر پڑھائی کا شوق پورا کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے یہ ذرا مشکل کام ہے۔ جو لوگ کسی اکیڈمی یا پرائیویٹ اسکول میں پڑھا کر خرچہ پورا کرتے ہیں ان سے کام بہت زیادہ لیا جاتا ہے اور معاوضہ بہت کم دیا جاتا ہے۔ اتنا وقت کہیں اور لگا کر اس سے زیادہ پیسے کمائے جاسکتے ہیں۔ ہاں البتہ کسی کو کہیں ہوم ٹیوشن مل جائے تو وہ پھر بھی غنیمت ہے۔ آج کے دور میں ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی وجہ سے ایسے اور بہت زیادہ مواقع میسر ہیں جن میں اتنا ہی وقت اور سرمایہ لگا کر اس سے کہیں زیادہ بہتر آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔

 

فری لانسنگ

فری لانسنگ میں کسی کی نوکری نہیں کرنی پڑتی، اپنی مرضی کا کام اپنی مرضی کی جگہ بیٹھ کر کیجئے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فری لانسنگ شاید گرافکس ڈیزائننگ تک ہی محدود ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ فری لانسنگ میں کسی کتاب پر ریویو لکھنے سے لے کر جانوروں کی دیکھ بھال تک کی نوکریاں شامل ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فری لانسنگ سے متعلقہ جو بہت ضروری اسکلز ہیں وہ پاکستان میں بہت سارے پلیٹ فارمز جیسے ایکسٹریم کامرس یا اینابلرز وغیرہ بالکل مفت سکھا رہے ہیں۔ آپ اپنی پسند کی اسکل چن کر ان کے پلیٹ فارم سے مفت سیکھ کر باآسانی کچھ وقت بعد لاکھوں میں کما سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنی پڑھائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ کام لڑکیوں کےلیے اور بھی زیادہ باعزت اس لیے ہے کہ وہ روایتی کام والی جگہوں پر ہونے والے استحصال اور کم تنخواہوں جیسے مسائل سے بھی محفوظ رہ سکتی ہیں۔
بلاگنگ

بلاگنگ ایک دوسرا اہم شعبہ ہے جس کی طرف ہمارے ہاں ابھی زیادہ رحجان نہیں ہے، لیکن اس کی اپنی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ آپ کسی بھی چیز میں ماہر ہیں یا کسی خاص شعبے میں معلومات رکھتے ہیں تو بلاگنگ کرکے باآسانی لاکھوں روپے کما سکتے ہیں۔ یا پھر اپنا بلاگ بنا لیں یا پھر کسی کےلیے بلاگنگ کرلیں بطور فری لانسر۔ اپنا بلاگ بنا کر زیادہ فائدے میں رہ سکتے ہیں۔ اس میں کسی شعبے سے متعلقہ معلومات دیں، کتابوں پر ریویوز لکھیں، خبریں اکٹھی کریں۔
سوشل میڈیا پر کاروبار

سوشل میڈیا نے بزنس اور کاروبار کرنے کو نئی جہتیں فراہم کی ہیں۔ میرے جاننے والوں میں بہت سے مدارس کے طالب علم سوشل میڈیا کا بہترین استعمال کرکے پیسے کما رہے ہیں۔ فیس بک پر میرے ایک دوست جو ایک مدرسے کے طالب علم ہیں صرف اخروٹ کی فروخت سے سالانہ 3 سے 4 لاکھ روپیہ کما لیتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ وہ دور دراز گاؤں سے اخروٹ خرید کر شہروں میں سپلائی کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے کام آپ بھی کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہاتھ سے بنی مختلف اشیا کی فروخت، سلائی کڑھائی کا کام، ڈیزائننگ، یہاں تک کہ روایتی کاروبار جیسے مستریوں کا کام وغیرہ بھی سوشل میڈیا کے استعمال سے مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
یوٹیوب ویڈیوز

یوٹیوب اپنے آپ میں نئی نئی چیزیں سیکھنے یا کاروبار کرنے کا ایک خزانہ ہے۔ گوگل کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں یوٹیوب نے کاروبار کے تین لاکھ سے زیادہ نئے مواقع پیدا کیے۔ اس سال یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہاں کاروبار کرنے کے اتنے مواقع ہیں کہ تھوڑی سی محنت سے آپ باآسانی ایک کامیاب کاروباری شخصیت بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کی آواز اچھی ہے تو شاعری پڑھیں اور ویڈیوز بنا کر یو ٹیوب پر ڈالیں، کتاب پڑھیں اور اس کی ویڈیو، آڈیو سمیت اپ لوڈ کریں۔ اور تو اور کھانا بناتے ہوئے بلکہ کھانا کھاتے ہوئے بھی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کردیں۔ تھوڑی سی محنت سے ویوز آنا شروع ہوجائیں تو آمدنی کا ایک مستقل سورس بن جاتا ہے۔
آن لائن اسٹور

اگر آپ کے پاس کوئی پراڈکٹ ہے، جیسے آپ ہاتھ سے کچھ بنا سکتے ہیں یا آپ کے گھر میں کوئی سبزی زیادہ اگتی ہے، آپ کے گاؤں میں کوئی پھل زیادہ مقدار میں ہوتا ہے تو اس کا دراز جیسے پلیٹ فارمز پر اسٹور بناکر فروخت کرسکتے ہیں۔ جس سے آپ کو اضافی آمدنی حاصل ہوجائے گی۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے اور ہزاروں کام موجود ہیں جن پر تھوڑی سی توجہ اور محنت سے آپ اپنے لیے روزگار کا باعزت ذریعہ بناسکتے ہیں۔ جس سے نہ صرف خود اپنی پڑھائی کا خرچہ اٹھائیں بلکہ اپنے گھر والوں کی بھی مدد کیجئے۔ ان میں تقریباً ساری ہی وہ چیزیں ہیں جن کےلیے آپ کو کسی خاص سرمائے کی ضرورت نہیں بلکہ محض ایک لیپ ٹاپ اور مناسب انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ آپ یہ کام گھر بیٹھے کرسکتے ہیں۔

کسی بھی روزگار کی طرح ٹیکنالوجی کے ان پلیٹ فارمز پر بھی کاروبار کھڑا کرنے کےلیے آپ کو بہت سا وقت اور محنت کرنی پڑے گی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آرام و سکون سے پیسے مل جائیں۔ شروع میں بہت زیادہ انتظار اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لہٰذا صبر اور سکون سے ایک کام شروع کیجئے اور پھر جتنا وقت ملتا ہے اس کام کو دیجئے۔ لیکن ایک بار آپ نے اپنا نام بنالیا اور ایمانداری سے کام جاری رکھا تو مستقبل میں آپ کو کسی کی منتیں کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران امین

کامران امین

بلاگر کا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے اور چین سے میٹیریلز سائنسز میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بیجنگ میں نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چائنیز اکیڈمی آ ف سائنسز سے بطور اسپیشل ریسرچ ایسوسی ایٹ وابستہ ہیں۔ چین میں تعلیمی زندگی اور تعلیم سے متعلقہ موضوعات پر لکھنے سے دلچسپی ہے۔ ان سے فیس بک آئی ڈی kamin.93اور ٹوئٹر ہینڈل @kamraniat پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔