سعودی عرب میں دہشتگرد قراردی گئی تنظیموں کی حمایت پر 20 سال تک سزا کا اعلان

ویب ڈیسک  منگل 4 فروری 2014
وزارت داخلہ، خارجہ اور انصاف کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی انتہا پسند گروپوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گی۔ فوٹو؛ فائل

وزارت داخلہ، خارجہ اور انصاف کے اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی انتہا پسند گروپوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گی۔ فوٹو؛ فائل

ریاض: سعودی عرب نے دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں اور بیرون ملک جنگوں میں شریک اپنے شہریوں اور انتہاپسند مذہبی گروہوں کے ارکان پر الزام ثابت ہونے کی صورت میں 3 سے20 سال تک کی سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں، سعودی شہریوں اور انتہا پسند مذہبی گروپوں کے اراکین پر دوسرے ملکو ں میں جاری جنگ میں شرکت کا الزام ثابت ہو گیا تو انہیں 3 سے 20 سال قید کی سزائیں سنائی جاسکتی ہیں، دہشت گرد گروپوں کی مالی معاونت کرنے والے افراد کو بھی پر بھاری سزائیں سنائی جائیں گی۔

سعودی حکومت نے وزارت داخلہ ، خارجہ اور وزارت انصاف کے اراکین پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو انتہا پسند گروپوں کی ایک فہرست تیار کرے گی اور ان کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں 3 روز قبل ہی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نیا قانون نافذ کیا گیا ہے جس کے مطابق ایسا فعل جو بالواسطہ یا بلا واسطہ امن عامہ، ریاست کی سلامتی اور استحکام میں خلل ڈالنے یا قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے تو وہ دہشت گردی کے زمرے میں آئے گا اور اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔