اجتماعی زیادتی کیس؛ سپریم کورٹ کا پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ پرعدم اطمینان

ویب ڈیسک  منگل 4 فروری 2014
آئی جی پنجاب 10 روز میں واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کریں، سپریم کورٹ  فوٹو: فائل

آئی جی پنجاب 10 روز میں واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کریں، سپریم کورٹ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے مظفر گڑھ میں خاتون سے اجتماعی زیادتی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 10 روز میں جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین گیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے اجتماعی زیادتی کیس کی سماعت کی، اس موقع پر عدالت نے آئی جی پنجاب کے بجائے ڈی پی او کی جانب سے تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی عدالتی حکم پرعمل در آمد کرتے ہوئے پیش کیوں نہیں ہوئے؟، جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسار کیا کہ ہم نے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کی تھی کیا ڈی پی او کو آئی جی کہتے ہیں؟۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت عظمیٰ  کو بتایا کہ کیس میں 10 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں 9 زیرحراست ہیں۔ ملزمان کی شناخت کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے بھی حاصل کرلئے گئے ہیں۔ جس کے نتائج آنے کے بعد حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی جائے گی۔ فاضل بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جمع کرائی گئی رپورٹ عدالتی احکامات کے مطابق نہیں۔ آئی جی پنجاب 10 روز میں واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔