’’گیس لائٹنگ‘‘ کیا ہے؟

سائرہ فاروق  اتوار 24 اکتوبر 2021
شک اور ذہنی تشدد پر مبنی رویہ، جو اپنے شکار کی شخصیت مسخ کرسکتا ہے ۔ فوٹو : فائل

شک اور ذہنی تشدد پر مبنی رویہ، جو اپنے شکار کی شخصیت مسخ کرسکتا ہے ۔ فوٹو : فائل

’’کن سوچوں میں گم ہو، کیا کوئی یاد آ گیا؟‘‘ اکثر اس کے خاوند کا زہریلا جملہ اس کے اعصاب کے لیے آزمائش بنتا اور وہ جزبز ہوجاتی۔

موبائل ہاتھ میں دیکھ کر کہتا،’’کیا بات ہے بڑا مسکرا رہی ہو؟‘‘ اور وہ سٹپٹا جاتی۔
کبھی کہتا،’’شادی سے پہلے کوئی گہرا دوست تورہا ہو گا، آخر لڑکوں کے ساتھ پڑھتی رہی ہو؟ وہ ناگواری سے انکار کرتی تو وہ بنا احساس کیے سوالوں کی تکرار شروع کر دیتا۔

وہ گفتگو کے اس موڑ پر سختی اور ناگواری کا اظہار کئی بار کر چکی تھی مگر وہ تو جیسے سمجھنے کو تیار ہی نہ تھا۔

’’ کوئی آیا تھا؟‘‘اس کا خاوند گھر میں داخل ہوتے ہی اکثر یہ جملہ انتہائی مشکوک انداز میں ایسے ادا کرتا کہ وہ مجرم سی بن جاتی ۔
’’ کوئی نہیں آیا۔‘‘ وہ اسے ہمیشہ جواب دیتے ہوئے پریشان ہوجاتی تھی۔ دروازہ ذراسی تاخیر سے کھلتا تو وہ فوراً سوال جڑ دیتا’’اتنی دیر سے دروازہ کھولا،کیوں؟‘‘ اور تیز تیز قدموں سے ایسے گھر میں داخل ہوتا جیسے اسے پہلے کسی مرد کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑ چکا ہو۔

’’یہ پچھلا دروازہ کیوں کھلا ہے؟‘‘
’’ساتھ والی ہمسائی آئی تھی۔‘‘
’’کہاں ہے؟‘‘ اس کا لہجہ تیز اور آنکھوں میں شک کی لہر نظر آتی۔

’’وہ تو یہاں نہیں ہے، ظاہر ہے وہ چلی گئی جب میں آپ کے لیے دروازہ کھولنے آئی تو۔‘‘ وہ رندھے ہوئے لہجے میں صفائی دینے کی کوشش کرتی تو وہ رد کرتا چلا جاتا۔ ’’بکواس کرتی ہو، سیدھی طرح بتاؤ کس سے بات کر رہی تھی؟‘‘ اور طیش کے عالم میں مسلسل ایک ہی سوال دہراتا رہتا اور وہ ان بے بنیاد الزامات سے زچ ہو کر رونے لگتی۔

’’کیسے یقین دلاؤں ایسا کچھ نہیں، ساتھ والی باجی ہی تھیں، ان سے بات کر رہی تھی، اگر یقین نہیں تو باجی سے پوچھ لیں۔‘‘

’’باجی بھی تیرے جیسی ہی ہوگی، میں کیسے یقین کروں؟‘‘ دھند لائے ذہن کے ساتھ وہ اپنے ’’گیس لائٹر‘‘ بنے شوہر کے سامنے ہر ممکن وضاحتیں پیش کر کے اتنی تھک چکی تھی کہ مزید بولتی تو وہ ہاتھ اٹھا لیتا۔ وہ کھل کر احتجاج بھی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اسے اچھی طرح جان گئی تھی۔ اگر وہ اپنے کردار کو مشکوک بنانے اور آئے دن زندگی میں زہر گھول دینے والے بے بنیاد الزامات کے خلاف آواز اٹھاتی تو اس کا شوہر ہاتھ اٹھانے میں تاخیر نہ کرتا۔ وہ بات بڑھ جانے کے ڈر سے خاموش رہنے پر مجبور تھی لیکن شادی کے صرف چار ماہ بعد ہی اس کا حوصلہ جواب دینے لگا تھا۔ وہ شوہر کے ان فضول سوالوں سے بچنے کے لیے اپنے ہمسائے، رشتے داروں سے دور ہوگئی تھی اور کہیں بھی آنا جانا ترک کردیا تھا۔

شک اور پھر اس کے اوپر بے بنیاد جرح، شادی سے پہلے کسی مرد سے تعلق رکھنے اور اسی قسم کے بیہودہ اور جنسی خواہشات کے بارے میں بے مقصد سوالات کا خوش گوار ماحول میں شروع ہو جانا ازدواجی تعلق کو مسلسل خوف سے بھرنے لگا تھا۔

یہ ہمارے پدرسری سماج کی کوئی انوکھی اور فقط ایک کہانی نہیں بلکہ ایسی کئی کہانیاں ہمارے ارد گرد موجود ہیں جن پر بات کرنے سے ہم ہمیشہ گریزاں رہے ہیں۔ ان کہانیوں جس میں نئی نویلی دلہنیں شادی کے شروع دن سے لے کر آنے والے کئی سال ازدواجی تعلق میں ’’گیس لائٹنگ‘‘ کا شکار بنتی رہتی ہیں لیکن بدقسمتی سے انھیں اس مرض کا علم بھی نہیں جس کی وجہ سے وہ بدترین ذہنی تناؤ میں مبتلا رہتی ہیں ۔

٭ یہ گیس لائٹنگ ہے کیا؟
گیس لائٹنگ ایک نفسیاتی ذہنی دباؤ کی ایسی شکل ہے جہاں ایک فرد دوسرے فرد کو ذہنی طور پر اس حد تک کم زور کر دیتا ہے کہ اس کا اپنے دماغ سے کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔

گیس لائٹر جھوٹ کو سچ بنا کر متاثرہ فرد کو یہ باور کرواتا ہے کہ ان کے رشتے میں جو کچھ غلط ہو رہا ہے اس کی وجہ وہ خود ہے۔ اور یوں گیس لائٹی احساسِ جرم میں مبتلا ہو کر اپنی ذہانت، یادداشت اور قابلیت پر شبہ کرنے لگتی ہے۔ بدقسمتی سے زیادتی کی اس قسم کی نشان دہی کرنا آسان نہیں، کیوں کہ بدسلوکی کرنے والا مرد آہستہ آہستہ عورت کی عزت نفس کو ختم کردیتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ عورت کو یہ لگنے لگتا ہے کہ وہ واقعی غلط اور قصوروار ہے اور اسی کی وجہ سے رشتہ خراب ہو رہا ہے، جب کہ اس کا رفیقِ حیات صحیح کہہ رہا ہے۔ مزید یہ کہ اس کا ساتھی جذباتی استحصال اس طرح سے کرتا ہے کہ اسے احساس تک نہیں ہوتا ۔ گویا آ پ کی مرضی، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ایک شخص کے کنٹرول میں آجاتی ہے۔ اس کیفیت کو انگریزی کی اصطلاح میں گیس لائٹنگ کہا جاتا ہے۔اب یہ اصطلاح نفسیات کی لغت میں بھی شامل ہو چکی ہے ۔

٭ گیس لائٹ کا ماخذ
گیس لائٹ کی اصطلاح 1938 کے برطانوی اسٹیج ڈرامے کے عنوان گیس لائٹ سے ماخوذ ہے۔ 1944 میں امریکا نے اس عنوان کے تحت فلم بنائی جس کے مرکزی کردار دو میاں بیوی ہیں۔

اس فلم میں شوہر گھر میں گیس لائٹ کی لو کم یا تیز کر کے بیوی کو یقین دہانی کرواتا ہے کہ اس کا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے اور یادداشت ختم ہوتی جارہی ہے اور یوں اس کے ذہن میں وسوسے، شکوک اور بے یقینی پیدا کرنے میں کام یاب ہوجاتا ہے۔

اس مقصد کے لیے وہ انتہائی چالاکی سے گیس لائٹ کو کم یا تیز کرکے چیزوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں چیز کہاں ہے؟

حالاںکہ وہ چیز خاتون (مرکزی کردار یا ہیروئن) معمول کے کام انجام دیتے ہوئے خود ایک جگہ رکھتی ہے لیکن اب وہ اپنی جگہ پر نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ جب وہ کم روشنی کی شکایت کرتی ہے تو مرد کردار اسے وہم قرار دیتا ہے۔

ایک منظر میں جب ہیروئن کسی اجنبی کو دیکھ کر بے ساختہ مسکرا دیتی ہے تو یہ مسکراہٹ بھی الزام بنا کر اس کے سر تھوپ دی جاتی ہے۔ مرد (کردار) کہتا ہے کہ یقیناً تم اسے جانتی ہو تب ہی مسکرائیں اور تم پارٹی میں بھی اسی کی وجہ سے گئی تھیں۔ وہ انکار کرتی ہے تو وہ اسے جھوٹا قرار دیتا ہے۔ ہیرو مسلسل ہیروئن کو اپنی بے بنیاد الزامات، تنقید اور شک کے شکنجے میں اس طرح جکڑتا چلا جاتا ہے کہ وہ اس جرم میں مبتلا ہوکر خود پر سے اعتماد کھونے لگتی ہے۔ شوہر یہ تمام حرکات لَو کم یا تیز کر کے کرتا تھا۔ اس لیے اس حرکت کا نام ہی گیس لائٹ ایفیکٹ پڑ گیا۔

گیس لائٹنگ کے عنوان سے متاثر ہو کر بہت سی فلمیں بنائی گئیں جن میں The girl on the train, اور Sleeping with the enemy شامل ہیں۔

٭ گیس لائٹنگ کے نقصانات
گیس لائٹنگ کا دائرہ کار صرف میاں بیوی کے رشتے میں نہیں ہوتا بلکہ طاقت اور اختیار کا ہما جس کے سر پر بیٹھا ہو وہ معاشرے میں کم زور افراد کے اذہان کو اسی طرح یرغمال بنانے کی قدرت رکھتا ہے۔ جیسے دفاتر میں باس اپنے ماتحت کو ذہنی دباؤ کا شکار کرتا ہے۔ اولاد اکثر والدین کی جانب سے تختۂ مشق بنتی ہے۔ دوست فیصلہ ساز بن کر اپنے ہی دوست کی زندگی اجیرن کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن اس بدترین رویے سے گزرنے والے اپنی زندگی کا کوئی بھی فیصلہ خود سے کرنے کے قابل نہیں رہتے۔

چوںکہ موضوعِ گفتگو خانگی امور کے دو اہم رکن زوجین سے ہیں لہٰذا انھی کو زیربحث لاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ہمارا پورا سماجی ڈھانچا انھی کے تعلق کے گرد تعمیر ہوتا ہے، اگر اس رشتے کی بنیاد ہی ایسے رکھی جائے کہ جس میں ایک فرد دوسرے فرد کو اپنی ملکیت سمجھنے لگے تو خیر کے نتائج کی توقع احمقانہ ہوگی، جس سے خاندان ہی نہیں ایک طرح سے پورا سماج متاثر ہوتا ہے۔

ایک گیس لائٹر خاوند اپنے رویے سے عورت کی شخصیت کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے احساسات، اعتماد کو بنیادوں سے ہلا چکا ہے اور ایک جیتا جاگتا وجود مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ اس قسم کی فطرت رکھنے والا مریضانہ رویوں کے اظہار کا عادی مرد دیہی تو چاہتا ہے کیوںکہ وہ ایک مضبوط عورت برداشت ہی نہیں کر سکتا۔

اس لیے گیس لائٹی (بیوی) اکثر الجھن، پریشانی اور خود پر اعتماد کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔ اور پھر اس کی عزت نفس کو اس بری طرح متاثر کیا جاتا ہے کہ وہ حق پر ہونے کے باوجود اپنا دفاع کرنے اور کسی بھی موقع پر کھل کر بات کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔

٭ گیس لائٹر سے بچاؤ
گیس لائٹنگ کا شکار فرد اپنے بچاؤ کی تدابیر اسی وقت اختیار کر سکتا ہے جب وہ اس کے بارے میں علم رکھتا ہو۔ جب مرض کی تشخیص پوری مہارت کے ساتھ کر لی جائے تو آگے کے مراحل طے کرنے قدرے آسان ہوتے ہیں۔

پاکستان کے پدرسری سماج میں گھر کا سربراہ مرد ہے۔ لہٰذا اس سے مقابلہ کرکے یا اس کے مقابلے میں آکر نفسیاتی جنگ نہیں جیتی جا سکتی، نہ ہی راتوں رات اسے بدلا جا سکتا ہے۔یہ انتہائی سست رو اور صبر آزما عمل ہے جس میں حوصلے اور سمجھ داری کی ضرورت ہوتی ہے۔

اگر خاوند مسلسل تنقید، طنز، الزامات اور تشکیک سے گزارتا رہے تو جان لیجیے کہ آپ کے مسلسل رونے اور گھبرانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا کیوںکہ یہ آپ کی ہی جنگ ہے۔ آپ کے والدین بھائی بہن آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ صرف آپ کو صبر کی تلقین کر سکتے ہیں جو ظاہر ہے کہ ایسے کیسز میں آسانی سے نہیں آتا، ایسے میں خاوند سے علیحدگی بھی آسان نہیں، کیوںکہ اس میں بھی الزام فوراً عورت کے کردار پر لگا دیا جاتا ہے۔

ہمارے پدرسری سماج میں جسمانی زیادتی یعنی جسم پر مار پیٹ کے نیل تو دکھائی دیتے ہیں لیکن ذہنی اور جذباتی تشدد نہ دکھائی دیتا ہے نہ بہ آسانی اس کی وضاحت دی جا سکتی ہے، اور اگر اس پر بات کی جائے تو سب سے پہلے اپنے ہی یہ جواز قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ لہٰذا کچھ تدابیر اختیار کر کے معاملے کی سنگینی کو کم کیا جا سکتا ہے:

٭ اگر آپ ایسے کسی معاملہ سے نبرد آزما ہیں تو سب سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی طور پر تیار کر لیں، کیوںکہ آپ کے ساتھ آپ کا خاوند بھی جانتا ہے کہ آپ پر کی گئی تنقید یا الزام درست نہیں تو پھر خود کو زیادہ ہلکان مت کریں۔

٭ اپنے گیس لائٹر بنے خاوند سے ڈرنا ختم کردیں، کیوںکہ آپ جتنا خوف زدہ ہوں گی اسے اتنا ہی آپ کو ڈرانے کا موقع ملتا رہے گا۔ لہٰذا جب وہ آپ کے ساتھ ناپسندیدہ موضوع پر بات کرنے لگے تو چلانے اور کم زوری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے انتہائی محتاط انداز میں ان سے مکالمہ کیجیے۔

٭ بعض اوقات گیس لائٹر بنا خاوند آپ سے یقین دہانی چاہتا ہے کہ کہیں آپ اسے چھوڑ کر نہ چلی جائیں۔ اس لیے بھی وہ آپ پر مسلط ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا اس کی تسکین کے لیے اظہار کرتی رہیں کہ وہی آپ کی زندگی کا محور ہے تاکہ اس حوالے سے اس کے خدشات کم ہو سکیں۔

٭ دوران گفتگو شوہر کی بات پر توجہ دیں، سنجیدہ موضوع پر تمسخر اڑانے سے گریز کریں۔ اچھی بات کی تائید کرتے ہوئے بالکل غیرمحسوس انداز میں اسے یہ احساس دلائیں کہ صرف مثبت باتوں پر ہی داد دی جا سکتی ہے۔ یوں ایک مثبت طرزفکر پیدا ہونے کی راہ ہم وار ہو گی اور منفی طرزِعمل زندگی سے کم سے کم ہوتا جائے گا۔

٭ کوشش کریں بحث سے گریز کریں۔ لیکن جب موڈ اچھا ہو تو آپ شوہر کو آرام سے قائل کریں کہ فلاں وقت کہی گئی بات ہمیشہ تکلیف دیتی ہے، تو امید ہے کہ اس کے جلد مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

٭ گیس لائٹر کے سامنے جھجک والا انداز آپ کا کیس کم زور کر سکتا ہے، لہٰذا اپنے اعتماد کو مضبوط ہتھیار بنائیں، کیوں کہ جہاں آپ کا خود پر سے اعتماد متزلزل ہوا وہاں پر آنے والا ہر لمحہ آپ کی بدترین شکست کا موجب ہوگا۔

٭ اپنے معاملات میں کسی ایسے سے مدد لینے کا بھی سوچیں جس پر آپ کا مکمل اعتماد ہو اور جو پوری دیانت داری کے ساتھ آپ کے مسئلے میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو، تو اس سے مشورہ کر نے میں کوئی حرج نہیں، یوں دل بھی ہلکا ہوتا ہے۔

٭گھبرانے، رونے، چیخنے چلانے کے بجائے پرسکون رہ کر صورت حال کا مقابلہ کریں جذباتی۔ مکالمے بولنے سے گریز کیجیے۔ اپنی ذات پر اٹھائے گئے سوالات پر اپنا موقف ٹھوس انداز میں پیش کیجیے اور احساس دلائیں کہ مفروضے یا اندازے پر کردارکشی کرنے سے گھبراہٹ نہیں ہوتی بلکہ اس سے ہمارا رشتہ کم زور ہوتا ہے۔

٭ سب سے بڑھ کر اپنے رشتے کو وقت دیں، کبھی کبھی معاملات کو خوش اسلوبی سے اور کچھ وقت لے کر بھی سلجھایا جا سکتا ہے۔ بعض تعلق ٹوٹ پھوٹ کر وقت کے ساتھ ساتھ نئے سرے سے تعمیر ہوتے ہیں۔ اس لیے موقع اور راستہ ضرور دینا چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔