حلال فیشن

 راؤ محمد شاہد اقبال  اتوار 24 اکتوبر 2021
پاکستان کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کے لیے امکانات کا ایک جہانِ نو ۔ فوٹو : فائل

پاکستان کی لڑکھڑاتی ہوئی معیشت کے لیے امکانات کا ایک جہانِ نو ۔ فوٹو : فائل

جیسے ہی موبائل کی گھنٹی بجی اور میں نے آنے والی فون کال کو سننے کے لیے موبائل کان سے لگایا، دوسری جانب سے انتہائی منحنی سی آواز سنائی دی،’’جناب! میں فیصل بات کررہا ہوں، ساہی وال سے، حلال ایجوکیشن پر آپ نے ایکسپریس سنڈے میگزین میں جو مضمون لکھا تھا، وہ بے حد معلوماتی ہی نہیں بلکہ ہم طلباء طالبات کے لیے انتہائی کارآمد بھی تھا، لیکن مضمون پڑھنے کے بعد حلال ایجوکیشن سے متعلق میرے ذہن میں جو مزید نئے نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں اُن کے جواب درکار ہیں، کیا آپ راہ نمائی فرمائیں گے؟‘‘

’’سب پہلے تو شکرگزار ہوں کہ آپ نے تحریر کو انہماک اور دل چسپی سے پڑھا اور اس پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار بھی کیا۔ رہی بات راہ نمائی کی تو اپنے محدود علم کے مطابق جتنی معاونت کرنے کے قابل ہوا ضرور فراہم کرنے کی مقدور بھر کاوش کروں گا۔‘‘

میرا جواب سُن کر گویا فیصل کو ’’لائسنس ٹو کال‘‘ مل گیا اور اُس نے حلال ایجوکیشن پر اُوپر تلے ایک ہی سانس میں پانچ، چھے سوالات کردیے۔‘‘ فیصل کے تمام سوالات بارِ دگر سننے اور سمجھنے کے بعد، اُن کے ضروری اور تفصیلی جواب دینے کا دورانیہ کم ازکم نصف گھنٹے پر محیط رہا اور جب وہ مطمئن ہوگیا تو بالآخر میری جانب سے کال منقطع کردی گئی۔

یاد رہے کہ میرے موبائل فون پر فیصل کی آنے والی کال نہ تو پہلی تھی اور نہ ہی آخری۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ حلال ایجوکیشن کو ایکسپریس سنڈے میگزین میں اشاعت پذیر ہوئے کئی ماہ بیت چکے ہیں لیکن آج تک میرے موبائل پر اِس مضمون کے متعلق وقفے وقفے سے کالیں موصول ہونے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ نیز ای میل اور واٹس ایپ پر درج بالا مضمون کے متعلق تسلسل کے ساتھ موصول ہونے والے تحریری وآڈیو پیغامات اس کے علاوہ ہیں۔ رابطہ کرنے والوں کی اکثریت اُن نوجوان طلباء و طالبات پر مشتمل ہے جو کافی مدت سے ایسے تخصیصی مضامین کے متلاشی تھے، جن میں وہ تعلیمی اسناد حاصل کر کے اپنے کیریئر اور مستقبل کو زیادہ سے زیادہ شان دار اور محفوظ بناسکیں۔

بلاشبہ حلال ایجوکیشن نسبتاً ایک نیا شعبہ ہے۔ اس لیے یہ عین فطری سی بات ہے کہ اس شعبے میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوان اس کے متعلق زیادہ سے زیادہ جان کاری و آگاہی حاصل کرکے اپنی خوب تسلی کرنا چاہتے ہیں، جب کہ ’’جو بولے، وہی کنڈی کھولے‘‘ والے محاورہ کے مصداق چوںکہ حلال ایجوکیشن کا موضوع سب سے پہلے میری ہی ایک تحریر میں زیربحث آیا تھا، لہٰذا اَب لازم ہے کہ گذشتہ مضمون میں تشنہ رہ جانے والے عنوانات پر علیحدہ علیحدہ تفصیل سے روشنی ڈال لی جائے، تاکہ قارئین کو حلال ایجوکیشن کے تصورِتعلیم کو ذرا وضاحت کے ساتھ سمجھنے اور اُسے بطور کیریئر اختیار کرنے میں مزید سہولت و آسانی میسر آسکے۔ زیرنظر مضمون میں حلال ایجوکیشن کے ایک اہم ترین ذیلی شعبہ ’’حلال فیشن‘‘ کی درست تعریف و تفہیم، اہمیت و افادیت اور امکانات کا مختصر سا جائزہ پیش خدمت ہے۔

’’حلال فیشن‘‘ سے کیا مراد ہے؟
انگریزی لفظ فیشن (Fashion) کے لیے مترادف لفظ عربی لغت میں ’’زینت‘‘ موجود ہے۔ یاد رہے کہ دین اسلام ’’زینت‘‘ یعنی فیشن کے خلاف ہرگز نہیں ہے۔ لیکن ہادی عالم حضرت محمدﷺ نے تمام معاملات میں خواہ وہ مذہبی نوعیت کے ہوں یا رسم و رواج سے متعلق ہوں، اُن کے لیے ایک حدبندی کردی ہے اور کچھ اُصول و ضوابط ضرور متعین کردیے ہیں۔

اگر اسلام کی مقرر کردہ حدود میں رہ کر کسی بھی مسلمان مرد یا عورت کی جانب سے فیشن کو اپنایا جاتا ہے تو اس میں کوئی عیب یا گناہ نہیں، بلکہ اسلام تو ایک ایسا الہامی مذہب ہے، جو اپنے متعلقین کو باطنی صفائی کے ساتھ ساتھ جسمانی صحت و خوب صورتی برقرار رکھنے کے لیے بھی خصوصی تعلیم دیتا ہے۔ مثلاً شریعت مطہرہ میں ناخن تراشنے، بال بنوانے اور اچھا لباس پہننے کے واضح احکامات متعدد احادیث میں پوری صراحت اور جزیات کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ دراصل اسلام صرف مذہبی عبادات اور فقہی قوانین کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات بھی ہے۔

اس لیے اسلام اپنے ماننے والوں کو ایک بے مثال معاشرہ اور ایک عمدہ تہذیب و ثقافت کے ساتھ ساتھ بے نظیر رسوم ورواج دیتے ہوئے پابند کرتا ہے کہ وہ رہبانیت اختیار کرنے سے گریز اور پراگندہ بال، گرد آلود چہرہ اور حال سے بے حال ہونے سے حتی المقدور حد تک اجتناب کریں۔ ایک حدیث رسول مقبولﷺ ہے کہ ’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب صورت ہے، خوب صورتی کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ اگر بنظرغائر جائزہ لیا جائے تو منکشف ہوگا کہ اپنے لباس کو دین اسلام کی ہدایت کے عین مطابق آراستہ کرکے سترپوشی کا موثر وسیلہ بنانا یا ناخن تراشنے، زلفیں سنوارنے، دانتوں کو چمکانے، چہرے کو تروتازہ و شگفتہ رکھنے اور اپنے جسمانی وجود کی صفائی ستھرائی یقینی بنانے کے لیے مضرصحت اشیاء سے گریز کرتے ہوئے اسلامی احکامات کو پیش نظر رکھنا ہی تو ’’حلال فیشن ‘‘ ہے۔

’’حلال فیشن‘‘ امکانات کا جہانِ نو
کچھ عرصہ قبل وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کے نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے، پروگرام کے میزبان کی جانب سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا،’’معاشرے میں بے راہ روی کے پنپنے کی بے شمار وجوہات میں سے ایک بڑا سبب لباس کا غلط انتخاب بھی ہے۔‘‘ وزیراعظم پاکستان کے اس بیان پر جہاں پاکستانیوں کی بڑی اکثریت نے اظہار مسرت کرتے ہوئے اسے مسلم تہذیب و ثقافت کی دیارِغیر میں وکالت قرار دیا، وہیں دوسری جانب ملک اور بیرون ایک اقلیتی طبقہ ایسا بھی تھا، جس کے نزدیک عمران خان کی گفتگو کا یہ حصہ خواتین کی شخصی آزادی پر شب خون مارنے کے مترادف تھا۔

ابھی الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر مناسب اور غیرمناسب لباس پر ہونے والی بحث کی گرد پوری طرح سے بیٹھی بھی نہیں تھی کہ’’مرے کو مارے شاہ مدار‘‘ کے عین مصداق پاکستان کے پڑوسی ملک افغانستان میں امریکی افواج کے عبرت ناک فوجی انخلاء کے درمیان میں ہی طالبان کو اقتدار حاصل ہوگیا اور حیران کن طور پر اگلے ہی لمحے افغانستان بھر میں مغربی لباس کی جگہ افغانیوں کا روایتی پہناوا پوری طرح سے رواج پاچکا تھا۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اسکارف، چادر، برقع، ٹوپی اور پگڑی پہننے سے کسی فرد کی شخصی آزادی متاثر ہوتی ہے یا نہیں؟ یہ بحث و مباحثہ عالمی ذرائع اور سوشل میڈیا پر سردست ابھی بھی ٹاپ ٹرینڈ پر ہے۔

مغربی طرزِ بودوباش اور مسلم ثقافتی لباس کی اہمیت و افادیت کا یہ ابلاغی تنازعہ مستقبل قریب میں کیا رخ اختیار کرتا ہے، فی الحال نہ تو یہ ہمارا موضوع تحریر ہے اور نہ ہی اس بابت، کوئی یقینی پیش گوئی کی جاسکتی۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر افغانستان میں مغربی تہذیب و ثقافت کے سرخیل امریکا کو عسکری و سیاسی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، تو یقیناً اس واقعے سے دنیا بھر میں مسلم ثقافت کی قدروقیمت میں بھی ضرور اضافہ ہوا ہوگا۔ چوںکہ ’’حلال فیشن‘‘ کی اصطلاح دنیا بھر میں متعارف ہی مغربی فیشن کے متبادل کے طور پر کی گئی ہے۔ اس لیے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تناظر میں آنے والے ایام میں ’’حلال فیشن‘‘ کی صنعت میں زبردست بڑھوتری اور فروغ کی یقینی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔

جیسا کہ رواں برس جاری ہونے والی ’’اسلامی معیشت کی عالمی صورت حال کی رپورٹ‘‘ (State of the Global Islamic Economy Report 2020-21) میں حلال تجارت کے روشن مستقبل کے لیے جن شعبہ جات کو بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

اُن میں ’’حلال فیشن‘‘ کی صنعت کو سرفہرست رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’’گذشتہ کئی برسوں سے ’’حلال فیشن‘‘ کی صنعت کے پھلنے پھولنے کے امکانات میں اضافہ، صرف مسلم ممالک تک ہی محدود نہیں رہا ہے، بلکہ ’’حلال فیشن‘‘ کی صنعت بڑی تیزرفتاری کے ساتھ بھارت سمیت امریکا، برازیل، فرانس، روس، چین، ارجنٹائن، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور تھائی لینڈ کی معیشت میں بھی مرکزی حیثیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ سب سے خوش گوار با ت یہ ہے کہ اِن ممالک میں رہنے والے غیرمسلم صارفین کی ایک بڑی اکثریت بھی بڑی تیزی کے ساتھ ’’حلال فیشن‘‘ کی جملہ مصنوعات کی جانب راغب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

دراصل مغربی فیشن کی معروف مصنوعات خاص طور پر آرائش و زیبائش کے سامان کی تیاری میں بعض جانور وں کا خون، فضلہ اور دیگر ناجائز وحرام اجزا کا استعمال عام کیا جاتاہے۔ اس لیے جہاں مسلمان افراد کے نزدیک ایسی اشیاء سے پرہیز کرنا ضروری ہے، وہیں اَب غیرمسلم افراد کی خاصی بڑی تعداد بھی کاسمیٹکس مصنوعات میں مضرصحت اجزا شامل ہونے کی بناء پر ’’حلال فیشن‘‘ کے ذیل میں دست یاب آرائشی سامان خریدنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کی وجہ سے گذشتہ چند برسوں میں حلال کاسمیٹکس، اسکارف، عبایا، برقعے اور دیگر آرائشی زیب وزینت کی سامان کی کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

شاید اسی لیے مذکورہ، رپورٹ میں آئندہ پانچ برسوں میں ’’حلال فیشن‘‘ کی صنعت میں ترقی (Growth) میں 3.9 فی صد سے لے کر 7.3 فی صد کی رفتار سے شرح نمو میں اضافہ کا قوی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب عالمی معیشت میں ’’حلال فیشن‘‘ کی تیزرفتار شرح نمو نے فیشن مصنوعات بنانے والی بڑی کمپنیوں اور بڑے برانڈز کو بھی اپنی سمت متوجہ کیا ہے اور اَب فیشن انڈسٹری کے شعبے میں سکندر وانگ(Alexander Wang) کیلون کلین(Calvin Klein)، ورسیسے(Versace)، لنون(Lanyon)، ڈائر(Dior)، چینل(Chanel)، بلینسیگا(Balenciaga)، اور مارک جیکبز (Marc Jacob)جیسے بڑے بڑانڈز بھی ’’حلال فیشن‘‘ کے شعبے میں وسیع سرمایہ کاری کررہے ہیں۔

مثال کے طور پر گذشتہ برس AW18 فیشن شو میں بھی پہلی بار مسلم خواتین کے لیے ملبوسات کی نمائش کا اہتمام کیا گیا، جس میں مسلم خواتین کے ملبوسات کی بڑے پیمانے پر نمائش کی گئی۔ ’’حلال ایکسپو‘‘ کے موقع پر سجائے گئے اس فیشن شو کو ’’مسلم فیشن شو‘‘ کا نام دیا گیا تھا اور اس منفرد فیشن شو میں ماڈلز دیدہ زیب ملبوسات اور اسکارف پہن کر ریمپ پر جلوہ گر ہوئی تھیں۔ حاضرین نے بھی خوب صورت حجاب، عبایا اور اسکارف کے حیادار امتزاج کو بہت پسند کیا اور اسے بنانے اور پیش کرنے والے ڈیزائنرز، اور ماڈلز کو خوب داد دی۔

یاد رہے کہ 2016 میں، ڈولس اینڈ گبانا (Dolce & Gabbana) نے حجاب اور عبایا سے مزین ملبوسات کا ایک خصوصی برانڈ فروخت کے لیے پیش کیا تھا، جب کہ اینیسیہ ہسیبوان(Anniesa Hasibuan) انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی وہ پہلی فیشن ڈیزائنر تھیں جنہوں نے این وائی ایف ڈبلیو کے اسٹور میں حجاب کی ایک پوری رینج پیش کی تھی، جسے مغربی ممالک میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی اور کمپنی کو دنیا بھر سے اس کے ریکارڈ آن لائن آرڈرز موصول ہوئے تھے۔

’’حلال فیشن‘‘ کے مستقبل کے متعلق ’’حلال فوٹو گرافی‘‘ کی بانی اور معروف فیشن فوٹو گرافر حلیمہ بیگم کا کہنا ہے کہ ’’جب سے انہوں نے WWAGS اسٹوڈیو، میں حجاب، اسکارف اور عبایا سے آراستہ خواتین کی اسٹائلش فوٹوگرافی کا آغاز کیا ہے، اُن کی آمدنی میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آنے والا کل صرف حلال فیشن انڈسٹری کے فروغ کا ہے۔‘‘

حیران کن بات یہ ہے کہ اسی برس نومبر میں مشہورو معروف اولمپک ویٹ لفٹر آمنہ الحداد کی تجویز کی بنیاد پر، دنیا کی مقبول ترین کھیلوں کا سامان بنانے والی کمپنی نائکی (Nike) نے پروحجاب(Pro Hijab) تیار کیا تھا، جسے بعدازآں ایک بین الاقوامی فیشن مقابلے میں بیجلے فیشن ڈیزائن آف دی ایئر کے اعزازسے بھی نوازا گیا تھا۔ نائیکی پروحجاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کمپنی کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ’’پرو حجاب خصوصی طور پر حجاب اوڑھنے والی مسلم خواتین ایتھلیٹس کے لیے متعارف کروایا گیا ہے، تاکہ انہیں کھیل کے دوران یا کھیلوں میں حصہ لینے پر بھی کوئی دقت محسوس نہ ہو۔ نیز پرو حجاب کو متعارف کروانے کی وجہ اسپورٹس میں خواتین کھلاڑیوں کا حجاب پہننے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ہے۔‘‘

دل چسپ بات یہ ہے کہ مسلم کھلاڑیوں کی دیکھا دیکھی کئی غیرمسلم خواتین کھلاڑیوں نے بھی پرو حجاب کو دوران کھیل استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ پروحجاب کی مقبولیت ظاہر کرتی ہے کہ ’’حلال فیشن‘‘ کی صنعت میں ترقی کے زبردست مواقع موجود ہیں۔ سادہ الفاظ میں یوں سمجھ لیجیے کہ اگر مسلم ممالک دل چسپی لیں تو ’’حلال فیشن‘‘ انڈسٹری کی ذیل میں وہ 230 بلین ڈالر کا حصہ بہ آسانی حاصل کرسکتے ہیں۔

حلال فیشن میں اعلٰی تعلیم کی ضرورت، اہمیت اور افادیت؟
ویسے تو آج کل ہر صنعتی شعبے میں ہی واجبی تعلیم کے حامل افراد کے مقابلے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ طلباء و طالبات کے لیے ترقی و کامیابی کے زائد مواقع دست یاب ہیں۔ لیکن چوںکہ فیشن انڈسٹری تو نام ہی جدت اور اختراع کا ہے۔

اس لیے فیشن انڈسٹری کو بطور کیریئر اختیار کرنے والے افراد کے لیے تو لازم و ملزوم ہے کہ وہ اس صنعت میں آگے بڑھنے کے لیے درکار تمام جدید تقاضوں سے کماحقہ آگاہ ہوں ۔ ’’حلال فیشن‘‘ میں تخصیصی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ آپ اس واقعے سے بخوبی لگاسکتے ہیں کہ کچھ ماہ قبل پاکستان کی ایک معروف میٹرس یعنی گدے بنانے والی کمپنی نے ’’حلال میٹرس‘‘ کے نام سے اپنی مصنوعہ فروخت کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ابھی مذکورہ کمپنی نے ’’حلال میٹرس‘‘ فوم کا تعارفی اشتہار اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ہی پوسٹ کیا تھا کہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ’’حلال میٹرس‘‘ اور اسے متعارف کروانے والی کمپنی کی میمز اور کڑوے کسیلے جملوں سے اتنی بھد اُڑائی گئی کہ بالآخر چند گھنٹوں کے اندر، اندر کمپنی کو نہ صرف اپنی ویب سائٹ سے ’’حلا ل میٹرس‘‘ فوم کا اشتہار ہٹانا پڑا، بلکہ کمپنی کی جانب اس منفرد مصنوعہ کی فروخت کا تمام منصوبہ بھی ملتوی کردیا گیا۔

واضح رہے کہ بطور ایک مصنوعہ ’’حلا ل میٹرس‘‘ میں قطعاً کوئی خامی نہیں تھی، مگر کیوںکہ مذکورہ کمپنی کو ’’حلال فیشن ‘‘ کی تخصیصی تعلیم کے حامل افراد کی خدمات حاصل نہیں تھی۔

اس لیے ایک منفرد اور کارآمد مصنوعہ کی پیشکش کچھ اس قدر بھونڈے انداز میں کی گئی کہ ’’حلا ل میٹرس‘‘ کی لانچنگ کا منصوبہ ایک تجارتی سنگ میل بننے کے بجائے لوگوں کے لیے مذاق بن کر رہ گیا۔ دراصل بعض اداروں کے منتظمین کا یہ سمجھنا کہ فقط کسی شئے کے ساتھ لفظ ’’حلال‘‘ کا لاحقہ لگادینے سے اُس چیز کا شمار ’’حلال مصنوعات‘‘ کی ذیل میں کرلیا جائے۔ یہ ایک ایسی خام خیالی اور کوتاہ علمی ہے، جس کا علاج حلال ایجوکیشن کی تحصیل سے سوا کچھ بھی نہیں۔

یاد رہے کہ جس طرح فیشن انڈسٹری سمیت ہر صنعتی شعبے کی تیکنیکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں مختلف عنوانات کی ذیل میں درس و تدریس کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری و ساری ہے۔ بالکل اُسی اُصول پر اَب دنیا کے کئی بڑے اداروں میں ’’حلال فیشن‘‘ کی تدریس کا عمل بھی باقاعدہ طور پر شروع ہوچکا ہے۔ مثلاً بھارت، امریکا، برازیل، فرانس، روس، چین، ارجنٹائن، جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ اور تھائی لینڈ میں کئی تعلیمی اداروں میں ’’حلال فیشن‘‘ کے موضوع پر سرٹیفکیٹ اور ڈپلوما کورسز کروائے جارہے ہیں، جب کہ ملائشیا، انڈونیشیا وغیرہ ایسے ممالک کی صف میں شامل ہیں جہاں ’’حلال فیشن‘‘ پر کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر گریجویٹ، ماسٹرز اور پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرنے کی سہولت موجود ہے۔

’’حلال فیشن‘‘ کی تعلیم کس کی ضرورت ہے؟
سب سے پہلے تو یہ نکتہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے کہ ’’حلال فیشن‘‘ کی تعلیم کیریئر کی منزل مقصود تک لے جانے والی کوئی شاہراہ عام یا پکی سٹرک نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا کچا پکا سا راستہ ہے، جو ابھی تعمیر کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس لیے ’’حلال فیشن‘‘ میں تخصیصی تعلیم فقط اُن طلباو طالبات یا ایسے چنیدہ افراد کو ہی حاصل کرنے کی خواہش رکھنی چاہیے، جن کے کیریئر کا براہ راست تعلق فیشن انڈسٹری کے کسی بھی شعبے سے بنتا ہو یا مستقبل قریب میں بننے کا امکان پایا جاتا ہو۔ مثلاً کاسمیٹکس، بیوٹیشن، ہیئرسیلون، بوتیک، ٹیکسٹائل ڈیزائننگ، فیشن شوز، فوٹوگرافی، انٹریئر ڈیزائننگ یا آرائش و زیبائش و ملبوسات کی صنعت و تجارت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر منسلک افراد یا ایسے طلباو طالبات، جو اِن میں سے کسی شعبے بھی کو بطور کیریئر اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں، اُن سب کے لیے بلاشبہ ’’حلال فیشن‘‘ کی تخصیصی تعلیم مستقبل میں بے حد کارآمد اور مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

علاوہ ازیں سیلز مین، مرچنٹ ڈائزر، اسٹائلسٹ، پبلک ریلیشن آفیسر، انونٹری پلانر، فیشن ڈیزائنر، گرافک ڈیزائنر، کریٹیو ڈائریکٹر، پروڈکٹ ڈویلپر، ٹیکنیکل ڈیزائنر، کوالٹی ایشورینس منیجر اور پروڈکشن منیجر وغیرہ جیسے شعبے میں ملازمت کرنے والے افراد کے لیے بھی ’’حلال فیشن‘‘ کے شعبے میں تعلیم حاصل کرنے سے مزید آگے بڑھنے کے کئی نئے اور نفع بخش مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

’’حلال فیشن‘‘ کی تعلیم کہاں سے حاصل کریں؟
جیسا کہ ہم نے مضمون کی ابتدا میں بتایا تھا کہ دنیا کی کئی نام ور تعلیمی درس گاہوں میں ’’حلال فیشن‘‘ یا موڈیسٹ فیشن (Modest Fashion) کے موضوعات پر مختلف عنوانات کے تحت سرٹیفکیٹ کورسز، ڈپلوما اور ڈگری کورسز کروائے جارہے ہیں، جب کہ بعض بین الاقوامی تعلیمی اداروں کی جانب سے آن لائن کورسز کرنے کی سہولت بھی دست یاب ہے، لیکن اگر پاکستان میں اس شعبے کی باقاعدہ تعلیم فراہم کرنے والے تعلیمی اداروں کی بات کی جائے تو یہاں ابھی تک صرف لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ’’حلال فیشن‘‘ کے موضوع پر باقاعدہ درس و تدریس کا آغاز ہوا ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ یہ یونیورسٹی ’’حلال فیشن‘‘ میں سرٹیفکیٹ کورسز کے علاوہ ڈپلوما اور ڈگری کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کررہی ہے۔

علاوہ ازیں یہ یونیورسٹی مختلف مواقع پر ’’حلال فیشن‘‘ کی تعلیم کے حصول کی جانب طلباء و طالبات کو زیادہ سے زیادہ راغب کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد بھی کرتی رہتی ہے، جس میں ’’حلال فیشن ‘‘ کی مختلف جزیات پر تفصیلی روشنی ڈال کر سامعین و ناظرین کو بتایا جاتا ہے کہ مستقبل قریب میں ’’حلال فیشن‘‘ کی صنعت، عالمی معیشت بالخصوص پاکستانی معیشت میں کس قدر بہتری اور ترقی کا باعث ثابت ہوسکتی ہے۔ یاد رہے کہ اس یونیورسٹی کی جانب سے منعقد ہونے والی ’’حلال فیشن‘‘ آگاہی ورکشاپس میں شرکاء کا داخلہ بالکل مفت ہوتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔