’’جراسک پارک‘‘

رانا نسیم  اتوار 24 اکتوبر 2021
بچوں سے لے کر بڑوں تک کو اپنا گرویدہ بنانے والی مقبول زمانہ فلم کے دلچسپ حقائق ۔ فوٹو : فائل

بچوں سے لے کر بڑوں تک کو اپنا گرویدہ بنانے والی مقبول زمانہ فلم کے دلچسپ حقائق ۔ فوٹو : فائل

عمومی طور پر فلم کی اصناف میں مزاحیہ، رومانوی، ایکشن، سنسنی خیز، ڈرائونی، ڈرامہ، فکشن، سائنس فکشن اور فینٹسی شامل ہیں، یوں جیسے فلم کی اصناف مختلف ہوتی ہیں، انہیں دیکھنے والے شائقین بھی مختلف ہوتے ہیں اور ان شائقین کی پسند نا پسند کا معیار مختلف ہوتا ہے۔

کچھ فلمیں بچوں کو بہت پسند جبکہ بڑوں کے لئے وہ ایک بیزاریت کے سوا کچھ نہیں ہوتیں لیکن فلمی دنیا کی تاریخ میں ایسی فلمیں بہت کم آئی ہیں، جو بیک وقت بچوں اور بڑوں کو اپنا گرویدہ بنا لیں۔ ایسی ہی فلموں میں ایک فلم جراسک پارک ہے۔ ہالی وڈ کی سائنس فکشن ایکشن فلم 1993ء میں امریکی سینما گھروں کی زینت بنی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ پوری دنیا میں پہنچ گئی۔

یہ فلم اس قدر کامیاب ہوئی کہ پروڈکشن کمپنی نے اسے ایک سیریز میں منتقل کر دیا اور اب تک اس سیریز کی 5 فلمیں آ چکی ہیں جبکہ چھٹی آئندہ برس ریلیز ہونے والی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جراسک پارک سیریز کی 5 فلمیں مجموعی طور پر باکس آفس پر اب تک 5 بلین ڈالر کے قریب کمائی کر چکی ہیں جبکہ ان کا بجٹ صرف 549 ملین ڈالر کے لگ بھگ تھا۔ تاہم یہاں ہم جراسک پارک سیریز کی پہلی فلم کا ہی ذکر کرتے ہوئے اپنے قارئین کو اس کے پردہ سکرین کے پیچھے چھپے دلچسپ حقائق کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

جراسک پارک سیریز کی پہلی فلم کا بجٹ 63 ملین ڈالر جبکہ کمائی 1.6 بلین ڈالر سے زیادہ رہی۔ دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے والی اس فلم نے پیسے اور شہرت کے ساتھ فلمی دنیا کے بڑے بڑے اعزازات بھی اپنے نام کئے، جن میں 3 آسکر، ایک ایک بمبی، ایوارڈ آف دی جیپنیز اکیڈمی، بافٹا، پیپلز چوائس اور 4 سیٹورن ایوارڈ نمایاں طور پر شامل ہیں۔ اس فلم کو 2018ء میں لائبریری آف کانگریس امریکا نے نیشنل فلم رجسٹری میں شامل کیا گیا۔

جراسک پارک فلم کا جادو اس قدر سر چڑھ کر بولا کہ بعدازاں اس پر متعدد کتب اور ناول لکھے گئے، کارٹون، ویڈیو گیمز، تھیم پارک اور لائیو تھیٹر بھی بنائے گئے۔ جراسک پارک فلم سیریز کی شروعات معروف امریکی ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ کی ڈائریکشن اور کیتھلین کینیڈی، جارالڈ آر- مولن کی پروڈکشن میں ہوئی۔ 1989ء میں سٹیون سپیلبرگ ایک ٹیلی ویژن ای آر پر کام کر رہے تھے۔

جہاں ان کی ملاقات امریکی مصنف وفلم ساز مائیکل کرکٹن سے ہوئی اور اسی ملاقات کے دوران سٹیون کو مائیکل کی غیرمطبوعہ کہانی کے بارے میں معلوم ہوا، جس کا نام ’’جراسک پارک‘‘ تھا، سٹیون سپیلبرگ کو یہ کہانی اس قدر پسند آئی کہ انہوں نے فوری طور پر معروف پروڈکشن کمپنی یونیورسل پیکچرز کو اس کے بارے میں بتایا، جس پر یونیورسل پیکچرز نے سٹیون سپیلبرگ پر بھروسہ کیا اور ڈیڑھ ملین ڈالر میں مائیکل کرکٹن سے جراسک پارک کے حقوق خرید لئے، علاوہ ازیں پہلی فلم کے لئے اس کہانی کو استعمال کرنے پر5 لاکھ ڈالر مزید فراہم کئے۔

یوں ایک عجب بات یہ ہے کہ عموماً کتابوں میں چھپی ہوئی کہانیوں پر فلم بنائی جاتی ہیں لیکن جراسک پارک کے معاملے میں الٹ ہوا اور پہلے اس کہانی پر فلم بنی بعدازاں یہ شائع ہوئی۔

جراسک پارک فلم کی ریلیز سے قبل شائد ہی کسی کو معلوم ہو گا کہ ڈائینوسار کیسے دکھتے تھے، اسی لئے اس فلم میں ڈائینوسار کو پیش کرنے کے لئے سٹیون سپیلبرگ نے خصوصی طور پر دو ماہرین قدیم حیاتیات کی خدمات حاصل کیں، جن میں جیک ہارنر نے ڈائینوسار کی وضع قطع اور رویے کے بارے میں کافی کام کیا جبکہ دوسری طرف رابرٹ ٹی بیکر نے ڈائینوسار کی حرکات کے بارے میں اینیمیٹرز کو آگاہی فراہم کی، لیکن اس تمام تر مشقت کے باوجود ناقدین کا خیال ہے کہ سٹیون سپیلبرگ فلم میں ڈائینوسار کو اچھی طرح سے پیش نہیں کر سکے۔

فلم کا مرکزی کردار ڈاکٹر ایلن گرانٹ کا رول پہلے مشہور امریکی اداکار ہیریسن فورڈ کو دیا جانا تھا لیکن انہوں نے یہ آفر ٹھکرا دی، دوسری طرف ڈاکٹر آئن میلکولم کا رول اداکار جم کیری کو مل رہا تھا اور انہوں نے تو آڈیشن بھی دے دیا تھا لیکن فلم کے پروڈیوسر کو اس کردار کے لئے جیف گولڈبلم پسند آ گئے، پھر ڈاکٹر جان ہیمنڈ کا رول سب سے پہلے جیمز بانڈ شان کانری کو دیا جا رہا تھا لیکن انہوں نے یہ آفر ٹھکرا دی، جس کے باعث یہ کردار ایک ایسے اداکار یعنی رچرڈ ایٹنبرو کو دیا گیا، جو 15سال قبل اداکاری سے ریٹائر ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر ایلی سیٹلر کا کردار پہلے سینڈرا بولک، گوونتھ پالٹرو اور جولین مورے جیسی بڑی اداکارائوں کو دیا جا رہا تھا لیکن حتمی طور پر یہ کردار لورا ڈیرن کو دیا گیا، اسی طرح کچھ رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ بھارتی اداکارہ سری دیوی کو بھی اس فلم کی کاسٹ میں شامل کرنا چاہتے تھے لیکن سری دیوی نے اس پیش کش سے فائدہ نہیں اٹھایا، جس کا انہیں پچھتاوا ضرور ہوا ہو گا۔

فلم میں بچوں کے کرداروں کی بات کریں تو پہلے لیکس مرفی کے کردار کے لئے امریکی اداکارہ و آرٹسٹ آریانا رچرڈز کو آڈیشن کے لئے بلایا گیا اور اس موقع پر انہیں چیخنے کو کہا گیا تو وہ کچھ یوں چیخیں کہ ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ نے انہیں فوراً ہی منتخب کر لیا، اسی طرح ٹم مرفی کا کردار نبھانے والے جوزف میزیلو ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ کی 1991ء میں بننے والی ایک فلم کے لئے آڈیشن دینے گئے تھے لیکن اس وقت وہ ناکام رہے تاہم جراسک پارک فلم کے لئے انہیں فوراً ہی کاسٹ کر لیا گیا۔

ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ پہلے پہل فلم میں روبوٹک ڈائنو سار دکھانا چاہ رہے تھے تاہم اتنے سارے روبوٹک ڈائیوسار بنانا بہت زیادہ خرچے والا کام تھا، اس لئے اینیمیشن سے ہی کام چلایا گیا۔ جراسک پارک میں بہت سارے CGI (Computer-generated imagery) مناظر ہونے کے باوجود کچھ مناظر کو حقیقت سے قریب تر دکھانے کے لئے بہت سارے الیکٹرانک کٹھ پتلیوں کا بھی استعمال کیا گیا، جس کے لئے ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ نے ویژل ایفکٹ آرٹسٹ سٹین ونسٹن سے رابطہ کیا اور سٹین ونسٹن کی کمپنی نے جراسک پارک کے لئے بہت ساری کٹھ پتلیاں بنائیں، جن میں قابل ذکر Tyrannosaurus rex کا پتلا بھی شامل ہے۔

اس Tyrannosaurus rex کے تمام پارٹس الگ الگ بنائے گئے اور انہیں الگ الگ ہی آپریٹ کیا جاتا تھا۔ یہاں ایک ذکر امر یہ ہے کہ Tyrannosaurus rex بارش اور پانی کی وجہ سے اپنا توازن کھو بیٹھتا تھا، جس کے باعث فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک واقعہ بھی پیش آیا۔ فلم کے ایک سین میں جب ٹم اور لیکس جیپ کا شیشہ ٹوٹنے کی وجہ سے چلاتے ہیں، یہ سین درحقیقت فلم میں تھا ہی نہیں لیکن Tyrannosaurus rex کے پتلے کے عدم توازن کی وجہ سے ٹم اور لیکس بہت زیادہ ڈر گئے اور چلانے لگے۔

ساڑھے 6 کروڑ سال قبل ڈائینو سار کیسے چلاتے تھے یا ان کی آواز کیسی ہوتی تھی، اس کا اندازہ تو لگایا جا سکتا ہے لیکن حتمی طور پر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ڈائینوسار کی آواز کیسی تھی، لہذا ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ کو اس معاملہ میں کافی سہولت محسوس ہوئی اور انہوں نے متعدد جانوروں کی آواز کو مکس کرکے ایک نئی آواز پیدا کی، ان جانوروں میں چیتا، مگرمچھ، ہاتھی، بندر، سانپ اور مینڈک بھی شامل تھے۔

جراسک پارک کا لوگو فلم کے اندر ہر جگہ دیکھائی دیتا ہے، جو پروڈکشن کمپنی یعنی فرنچائز کا سمبل بھی ہے، یہ سمبل امریکی گرافک ڈیزائنر چپ کڈ نے بنایا تھا جنہوں نے یہ لوگو بنیادی طور پر نیویارک کے نیچرل ہسٹری آف میوزیم سے خریدی ایک کتاب سے اخذ کیا تھا۔ 1993ء میں ریلیز ہونے والی فلم جراسک پارک کی بے انتہا مقبولیت اور کامیابی کے بعد یونیورسل سٹوڈیو نے مائیکل کرکٹن کو اپنی پہلی کتاب (جراسک پارک) کا سیکوئل یعنی اگلا حصہ لکھنے کے لئے بہت زیادہ رقم دی، یہ بات الگ ہے کہ مائیکل کرکٹن اس وقت تک سیکوئل لکھا نہیں کرتے تھے۔

تاہم ڈائریکٹر سٹیون سپیلبرگ نے جراسک پارک کے سیکوئل کے لئے 1925ء میں بننے والی ایک فلم The Lost World کو ماڈل کے طور پر لینا شروع کر دیا اور جراسک پارک سیریز کی دوسری فلم کا ٹائٹل بھی The Lost World ہی ہونے والا تھا لیکن دوسری طرف نئی کہانی لکھی جا چکی تھی، جس کے باعث سٹیون سپیلبرگ نے جراسک پارک کی اگلی فلم کو نئی کہانی اور فلم The Lost World پر کمبائن کر دیا۔

اب اگر قسمت کی بات ہو ہی رہی ہے تو ہم آپ کو ایک اور دلچسپ بات بتائیں کہ معروف بالی وڈ اداکار عرفان خان (مرحوم) جنہوں نے جراسک پارک 4 میں سائمن میسرانی کا کردار نبھایا تھا، انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جب 1993ء میں جراسک پارک فلم ریلیز ہوئی تو ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں تھے کہ وہ سینما کی ٹکٹ ہی خرید سکیں، لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب وہ خود اس فلم کا حصہ بن گئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔