طالبان کی کمیٹی مکمل اورمذاکراتی امور واضح ہونے تک اجلاس کا فائدہ نہیں، حکومتی کمیٹی

ویب ڈیسک  منگل 4 فروری 2014
جب تک مذاکراتی امورواضح نہیں ہوجاتے اس وقت تک اجلاس کا فائدہ نہیں بلکہ اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،حکومتی کمیٹی فوٹو:فائل

جب تک مذاکراتی امورواضح نہیں ہوجاتے اس وقت تک اجلاس کا فائدہ نہیں بلکہ اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،حکومتی کمیٹی فوٹو:فائل

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لئے تشکیل دی جانے والی کمیٹی نے طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی سے مذاکرات سے متعلق امور پر وضاحتیں طلب کرلیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت اور طالبان کی مذاکراتی کمیٹیوں کا آج ہونے والا اجلاس مذاکرات سے متعلق امور واضح نہ ہونے پر منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک طالبان کی 5 رکنی کمیٹی مکمل نہیں ہوتی اور مذاکرات سے متعلق امور واضح نہیں ہوجاتے اس وقت تک دونوں کمیٹیوں کے اجلاس سے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے طالبان کی نامزد کردہ کمیٹی کے رکن مولانا سمیع الحق سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کہا  کہ جب تک مذاکرات سے متعلق امور پر وضاحتیں پیش نہیں کی جاتی اس وقت تک دونوں کمیٹیوں کے درمیان ہونے والی ملاقات لاحاصل ہے اس صورتحال میں اجلاس بے نتیجہ رہے گا جس سے منفی تاثر بھی نکل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں جماعت اسلامی کے پروفیسر ابراہیم، جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مفتی کفایت اللہ، لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز اور تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کو شامل کیا گیا تھا تاہم تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے  طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ بننے سے معذرت کرلی۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔