جمہوریت اور سیاسی مکالمہ کا حسن

ایڈیٹوریل  اتوار 24 اکتوبر 2021
قوم سوچے کہ سماجی اجتماعیت کہاں غائب ہوگئی۔ انسان انسان سے الگ تھلگ کیوں ہوگیا ہے۔ (فوٹو: فائل)

قوم سوچے کہ سماجی اجتماعیت کہاں غائب ہوگئی۔ انسان انسان سے الگ تھلگ کیوں ہوگیا ہے۔ (فوٹو: فائل)

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت گزشتہ روز شروع ہوا۔ (ن) لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے گورنر اسٹیٹ بینک پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ پاکستان کو دیوالیہ کر رہے ہیں۔

ملکی سیاسی ماحول میں رائج بیانیے کے تناظر میں یہ پارلیمانی گفتگو نئی نہیں، اور اسی جمہوری سوچ کی عکاسی کرتی ہے جو پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتی ہو تو دنیا کا ہر پارلیمنٹیرین اس طرز گفتگو کو جمہوریت کا حسن کہے گا کیونکہ یہ گفتگو ایوان میں ہو رہی ہے اور اراکین اسمبلی منتخب اسمبلی کے نمایندے ہیں، ان پر ملک کے لیے قانون سازی کی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے لیکن اگر یہی گفتگو سڑکوں، چوراہوں، تھڑوں اور چائے خانے میں یا جلسوٕں میں بلیم گیم کے تماشے کی صورت پیش کی جائے اسے کوئی رکن پارلیمنٹ مستحسن نہیں سمجھے گا، ایک ذمے دارانہ مکالمہ جمہوریت پسندوں سے اسی انداز کے مدبرانہ مکالمہ کی توقع رکھے گا جو ملک و قوم کے دانشورانہ معیار اور پارلیمانی رویے کو فروغ دے۔

لیگی رہنما مرتضیٰ جاوید عباسی نے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر پر کہا کہ موجودہ حکومت سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار پر الزام لگاتی ہے کہ انھوں نے ڈالر کو مصنوعی کنٹرول کر رکھا تھا، حکومت کو چیلنج ہے کہ وہ عارضی طور پر ہی ڈالر کو 100روپے تک لے کر آجائے ۔ اس پر وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب خان نے کہا (ن) لیگ نے 23.6 ارب ڈالر کا قرض صرف روپے کو مستحکم رکھنے کے لیے لیا اس پر 9 ارب ڈالر سود دیا جا رہا ہے۔

وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لے کر ڈالر کے مقابلے میں مصنوعی طریقے سے روپے کی قدر کو مستحکم رکھا۔ اس پالیسی کو اب تبدیل کیا جاچکا ہے۔ خواجہ آصف نے کہا گورنر اسٹیٹ بینک کی عجیب منطق کہ روپے کی قدر کم ہونے سے اوورسیز پاکستانیز کو فائدہ پہنچا ہے، پاکستان کے 22  کروڑ عوام کا کیا بنے گا یہ نہیں سوچا، وزیر اعظم کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا کرتے تھے کہ ڈالر پر ایک روپیہ بڑھنے سے ملک کا قرض بڑھ جاتا ہے تو آج تو ڈالر کی قیمت میں روز اضافہ ہو رہا ہے۔

خواجہ آصف کا جواب دینے کے لیے اسپیکر اسد قیصر نے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کو مائیک دیا تو پیپلز پارٹی ارکان نے شور شرابہ شروع کر دیا، بابر اعوان کے بولنے سے پہلے ہی نوید قمر نے کورم کی نشاندہی کر دی۔ قبل ازیں سی پیک منصوبوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئیں جس میں بتایا گیا کہ 25 ارب ڈالر کے 39 منصوبے مکمل ہوچکے یا زیر تکمیل ہیں۔

وزارت منصوبہ بندی نے بتایا کہ اس وقت سی پیک کے 18منصوبے 15.7ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوچکے جب کہ 21 منصوبے 9.3 ارب ڈالر کی لاگت سے عملدرآمد کے مراحل میں ہیں۔ وقفہ سوالات کے بعد ایجنڈے کی کارروائی کے آغاز پر پی پی کے نوید قمر کی کورم کی نشاندہی پر قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا ۔

گزشتہ روز کے قومی اسمبلی کے اجلاس کی یہ کارروائی پارلیمانی تسلسل کا حصہ ہے، بحث کا یہ معیار اگر دشنام طرازی اور کردار کشی کے بجائے ملکی اقتصادی، سیاسی اور معاشی حالات پر بحث و تمحیث کے لیے استعمال ہو تو کسے اعتراض ہوگا کہ ایسی گفتگو ہر اجلاس میں ہو، ارکان اسمبلی اپنے فہم اور دانش کے ساتھ ملک کو درپیش مسائل پر اظہار خیال کریں، اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کریں، ان میں قوم کو باور کرانے کے لیے استدلال، اخلاقیات اور زمینی حقائق کے ادراک کی سنجیدگی اور خیر سگالی ہو، اس لیے کہ آج کی اسمبلی میں جو بحث ہوئی ہے وہ دنیا بھر کے ایوان کی ایک عمومی گونج کا تسلسل ہے، تاریخ نے ان تمام ارکان اسمبلی کی تقاریر کا ریکارڈ جمع کر رکھا ہے جنھوں نے اپنے معاشرے، شہر اور ملک کی نمایندگی کی اور قوم کو اپنے سنجیدہ خیالات سے آگاہ کیا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے اس جانب کبھی قدم نہیں بڑھائے، تین سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا، لیکن جمہوری ادارے زبوں حالی کا شکار رہے، آئین و قانون تقدیس و حرمت کو ترستے رہے، ملک میں آئین کی حکمرانی خواب و خیال رہی، ملک جرائم کی زد میں ہے اور پورا ملک مہنگائی اور غربت کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے:

زمین و زماں تیرگی تیرگی

ارے روشنی روشنی روشنی

زمینی حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور پیپلزپارٹی نے جمعۃ المبارک کو مہنگائی کے خلاف لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک گیر حکومت مخالف مظاہرے کیے، احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں، مظاہرین نے احتجاجاً بجلی اور گیس کے بل نذر آتش کیے، سیاسی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے غریب کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے، ملک کی معیشت ایسے نہیں چلے گی، ملک میں فوری انتخابات کرائے جائیں۔

مہنگائی اور موجودہ حکومت کے خلاف احتجاج عوام کے جذبات کا اظہار بھی ہے کیونکہ مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے خلاف دیگر طبقات بھی احتجاج کررہے ہیں کیونکہ مہنگائی عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہے، وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں ایک ہفتے کے دوران مہنگائی1.38  فیصد بڑھی جب کہ ہفتہ وار بنیادوں پر یہ شرح 14.48 فیصد تک پہنچ گئی۔

گزشتہ ہفتے29  اشیاء خورونوش مہنگی ہوئیں۔ تاہم مہنگائی کی روک تھام کے لیے جو ٹھوس اقدامات ہونے چاہییں وہ بظاہر نظر نہیں آ رہے، سیاسی درجہ حرارت پہلے سے زیادہ بلندیوں پر ہے، عوام کو نان ایشوز اور غیر ضروری بحثوں میں ملوث کرنے کے لیے مختلف سیاسی ومذہبی گروہوں میں تشدد، نفرت آمیز لٹریچر کی تقسیم کے باعث مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں ایسی شخصیات کا کال پڑگیا ہے جو معاشرے میں فکری اشتراک اور ثقافتی سرگرمیوں میں قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے رہنماکردار ادا کرسکیں، چنانچہ ملک میں ایک انتشار اور بدنظمی کا منظر ہے، نفسا نفسی کا عالم ہے۔

شہری گروہ اور دھڑوں میں تقسیم ہوکررہ گئے ہیں، قومی مرکزیت کی آج جتنی ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ تھی، ہم جس خرد افروز مکالمہ کی بات کر رہے تھے، اس کے لیے جس ماحول کی ضرورت ہے وہ بلڈوز ہوتا نظر آ رہا ہے، کوشش ہو رہی ہے کہ جمہوریت کی سانسیں اکھڑ جائیں، انگلینڈ میں یہ صورتحال تھی جب پارلیمنٹیرینز نے دانش میں ڈوبی ہوئی یہ آواز اسمبلی کے اجلاس میں سنی کہ ’’میکاولی کی شاطرانہ سیاسی تعلیمات اور فکر وفلسفہ کی عصر حاضر کی پارلیمانی سیاست میں کوئی قدروقیمت نہیں رہی، ان کی چالبازی، عیاری و مکروفریب کی سیاسی سوچ کو عہد حاضر میں پسند نہیں کیا۔

آج پارلیمنٹ میں جو سنجیدہ قومی بحثیں ہوتی ہیں وہ خیرسگالی پر مبنی ہوتی ہیں‘‘ اسی خیر سگالی اور عوام دوستی کی قوم آج ہمارے سیاستدانوں سے توقع رکھتی ہے، ایسی ہی پارلیمان تھی جس میں یہ کہا گیا کہ اختلاف رائے تو ہونا ہے، لیکن پوری پارلیمانی تاریخ نے ثابت کیا کہ چند ارکان نے اپنے انداز فکر کو ثابت کرنے کے لیے مخالفین سے گھنٹوں مکالمہ کرکے انھیں قائل کیا اور ایسی قانون سازی کی کہ عوام کو بے مثال فوائد حاصل ہوئے، آج بھی ایسے اراکین ہوں گے جن کے سخت موقف کو تسلیم کرکے قوم کو اتفاق رائے کے بہترین نتائج سے بہرہ مند کیا جاسکتا ہے۔

یہ روایت جمہوریت کو ہمیشہ سدا بہار رکھے گی، والٹیئر نے اختلاف رائے کے اسی حق کے لیے لڑنے کا درس دیا تھا اگرچہ اسے اس رائے سے شدید اختلاف تھا، رواداری اور تحمل کے راستے ہی بحرانوں کی دھند سے نجات کی راہیں نکالنے والے قومی سیاست دان دنیا کو یاد آتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی سیاسی صورتحال کو طوفان سے نکالا جائے، اقتصادی حالات قابل رشک نہیں، سیاسی سوجھ بوجھ والے لوگ آگے بڑھیں، مہنگائی کا اگر کسی کے پاس کوئی حل ہے وہ چاہے اسمبلی کا رکن نہ بھی ہو، پھر بھی اس کی بات سنی جائے، دانش کسی کی میراث نہیں، اور اس میں کوئی خیر اور سچائی کی بات موجود ہو تو اس کو تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، جمہوریت کی خاموشی کا ایک درس یہ بھی ہے کہ جو لوگ اسمبلیوں کے رکن نہیں ہوتے ضروری نہیں کہ وہ سب ’’بے بہرہ ہیں جو معتقد میر نہیں‘‘۔

ملک کی سیاسی کشتی منجدھار میں ہے، اسے ساحل مراد تک لانے کے لیے وسیع تر پارلیمانی اشتراک عمل، سیاسی بصیرت اور دور اندیشی درکار ہے، سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن میں تفریق کے بغیر جمہوریت کو سہارا دیں، سیاسی بحران کے خاتمے کی خاطر اختلافات ختم کریں۔ جمہوریت کو موقع دیجیے کہ وہ عوام کو اس ذہنی دباؤ اور مہنگائی و انفلیشن سے بچاؤ کے لیے اتفاق رائے سے سیاست کا دھارا پلٹ دیں۔ کوئی چیز ناممکن نہیں ہے، سیاسی بصیرت واحد راستہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن جمہوریت کی بقا کے لیے اس راستے کا انتخاب کریں جس میں قوم و ملک کا فائدہ ہو۔

ملکی سیاست کو بحران سے نجات دینے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں، سب دیکھ رہے ہیں کہ سیاست جمود زدہ ہے، سیاست دان قوم کو کسی ایک نکتے پر لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ وہ اتفاق رائے کی صائب اہمیت کے قائل نہیں، تمام سیاسی جماعتیں مہنگائی کے خلاف مشترکہ مقاصد کے لیے یک زبان نہیں، بحثوں کے موضوع بھی انوکھے ہیں، ڈرامے حقیقت سے دور کسی پرستان سے تعلق رکھتے ہیں، آج کا ادیب سیاسی نظریہ اور سیاسی منظر نامہ میں کہیں نظر نہیں آتا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم سوچے کہ سماجی اجتماعیت کہاں غائب ہوگئی۔ انسان انسان سے الگ تھلگ کیوں ہوگیا ہے، امیر وغریب کی دنیا الگ کیوں ہے، غربت کا کیا مسئلہ ہے، ایک انسانی سوچ بظاہر جمہوریت کے گرد گھومتی ہے مگر جمہوری رویوں کا کہیں کوئی نام ونشان نہیں، ایسی بیگانگی تو پاکستانی سیاست کے مقدر میں نہ تھی۔ اور نہ ہونی چاہیے۔ یہ سیاست کا سب سے اہم سوال ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔