ڈنگی سے کیسے بچا جائے

سرور منیر راؤ  اتوار 24 اکتوبر 2021

ڈنگی بخار کی وجہ سے پاکستان میں اب تک ہزاروں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اس مرض کا پرانا نام ہڈی توڑ بخار تھا۔یہ مرض نیا نہیں بلکہ اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔

مون سون اور گرم مرطوبآ ب و ہوا کے موسم میں دنیا کے 110سے زائد ممالک کے افراد ڈنگی بخار کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں ایک ارب سے زائد آبادی اس بخار کا شکار ہے۔اس سال بولیویا، برازیل، کولمبیام کوسٹاریکا، ایل سلواڈور، میکسیکو، پیرو، وینزویلا،پیراگوئے بھارت اور پاکستان زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ڈنگی مچھر 1980کی دہائی میں تھائی لینڈ سے پہنچا۔ تھائی لینڈ سے پرانے ٹائروں کا کاروبار کرنے والے اسے پاکستان میں لانے کا ذریعہ بنے۔ ڈنگی مچھر سو میٹر سے زیادہ سفر نہیں کر سکتا لیکن اگر اس مرض کا کیرئر 10ہزار کلو میٹر تک سفر کر لے تب بھی وہاں پہنچ سکتا ہے۔

ڈنگی یا گردن توڑ بخار کی علامات میں سر درد، جوڑوں اور ہڈیوں میں شدید درد اور جسم پر خسرے کی طرح کے دانوں کا نکلنا ہے۔ اگر اس کا فوری اور موثر علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بن جاتا ہے تا ہم اگر ابتداء ہی میں دوا استعمال کر لی جائے تو یہ بخار جلد اتر جاتا ہے۔

ڈنگی بخار مچھروں کی ایک خاص قسم جسے میڈیکل سائنس”ــ”Adedesـ کا نام دیتی ہے سے پھیلتا ہے، اس مچھر کے جسم پر سیاہ اور سفید پٹی سے بنی ہوتی ہے۔ عموماً یہ مچھر صبح اور شام کے وقت میں کاٹتا ہے۔ اس کا مسکن صاف پانی ہے۔ یہ مچھر سطح سمندر سے ایک ہزار میٹر یا تین سو تیس فٹ بلندی تک افزائش پاتا ہے، اس سے اوپر یا سرد مقامات پر یہ مچھر نہیں پایا جاتا۔

تاریخ میں اس مرض کے وبائی شکل میں پھیلنے کا ذکر سترھویں صدی میں آیا ۔ سترویں صدی کے آخری سالوں میں ڈنگی سے بچوں کی بڑی تعداد جنوبی امریکا اور بحر اقیانوس کے ممالک میں متاثر ہوئی۔اس صدی کے دوران ڈنگی کی وبا سے کریبین ممالک، پورٹو ریکو، کیوبا، وسطی امریکا، سنگا پور، جنوب مشرقی ایشیا، ویسٹ انڈیز، بھارت اور مشرق وسطیٰ کے ممالک بھی متاثر ہوئے۔ اس مرض کے علاج کے لیے اب تک کوئی حفاظتی دوا یا علاج کے لیے مخصوص ویکسین دریافت نہیں ہوئی۔ ڈنگی سے بچنے کے لیے عالمی ادارہ صحت نے بھی جو تجاویز دی ہیں، وہ سب حفاظتی نوعیت کی ہیں۔

تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈنگی کامرض تشویشناک ہونے کے باوجود ایسا مرض نہیں ہے کہ اس سے خوف زدہ ہوا جائے۔یہ مرض ٹائیفائڈ سے زیادہ نقصان دہ نہیں بشرطیکہ اس کا علاج بروقت شروع کر دیا جائے۔ ڈنگی سے بچائو کے لیے سماجی اور سیاسی اعتبار سے اس خواہش کا ہونا ضروری ہے کہ ہم نے اس مرض کا تدارک کرنا ہے۔ سنگا پور جیسے ملک میں 30فی صد سے زائد آبادی اس مرض میں مبتلا تھی۔ انھوں نے سرکاری سطح پر ایک مہم چلا کر عوام کو ترغیب دی اور آج یہ مرض ڈیڑھ فی صد آبادی تک محدود ہو گیا ہے۔

ڈنگی کے مرض سے بچنے کے لیے ایلو پیتھی کے ساتھ ساتھ ہومیو پیتھی اور حکمت میں بھی اس مرض کے مختلف علاج موجود ہیں ۔ ڈنگی کے مچھروں کی افزائش روکنے کے لیے کھلی جگہ پر کھڑے پانی پر سپرے کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھر کی مختلف جگہوں پر کافور کی پوٹلی اور فنائیل کی گولیاں رکھ دینی چاہیے۔گھروں کے اندر گملوں میں ” نیاز بو ” اور لیمن گراس کے پودے لگا دیں۔( سنگا پور میں سرکاری حکم کے تحت یہ پودے لگانے لازم ہیں)۔

کموڈ کا ڈھکنابند رکھیں۔کچن کے سینک اور برتنوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ ہرمل اور گوگل کی دھونی گھر میں دینے سے ہر قسم کا کیڑا مکوڑا ، مچھر، لال بیگ اور چھپکلی ختم ہو جاتی ہے۔ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت بڑھانے کے لیے شہد کا ایک چمچ نیم گرم پانی میں پئیں۔ سالن میں سرخ مرچ کے بجائے کالی مرچ استعمال کریں۔اجوائن، پودینہ، ادرک اور میتھی کا قہوہ پئیں۔سیب ، ناشپانی اور اناز کے جوس میں چند قطرے لیموں کا عرق ڈال کر چائے کی طرح پینے سے بھی ڈنگی کا بخار کم ہو جاتا ہے۔

ڈنگی بخار کی وجہ سے انسانی جسم میں پلیٹ لیٹس کی مقدار کم ہو جاتی ہے ایک تحقیق بتاتی ہے کہ پپیتے کے پتوں کا جوس نکال کر پینے سے پلیٹ لیٹ کی تعداد میں جلد اضافہ ہو جاتا ہے۔وبائی مرض خواہ کورونا ہو یا ڈنگی ان سے بچا کے لیے متعین کردہ SOP اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت سب سے زیادہ اہم ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔