نوکریاں نہ ملنے پر پڑھے لکھے نوجوان فوڈ بزنس کرنے لگے

عامر خان  پير 25 اکتوبر 2021
کاروبارسے فاسٹ فوڈ،بریانی اورباربی کیوکے کاریگروںکی مانگ بڑھ گئی ۔ فوٹو : فائل

کاروبارسے فاسٹ فوڈ،بریانی اورباربی کیوکے کاریگروںکی مانگ بڑھ گئی ۔ فوٹو : فائل

 کراچی: کراچی کے پڑھے لکھے نوجوانوں نے سرکاری اور نجی اداروں میں نوکریاں نہ ملنے کے سبب روزگار اور کاروبارکا حل نکال لیا۔

پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد گروپ کی شکل میں یا انفرادی طور پر ازخود محدود سرمایہ کاری سے کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ ہورہی ہے کراچی کے بیشتر علاقوں میں فاسٹ فوڈزسینٹر، بریانی ، برگر اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کا کاروبار شروع ہوگیا ہے، اس کاروبار کے بڑھنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بچوں اور نوجوان نسل میں فاسٹ فوڈز اور چٹ پٹے کھانے کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے، فوڈ بزنس سے وابستہ پڑھے لکھے نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر منصوبہ بندی کے تحت یہ کاروبار شروع کیا جائے گا تو اس کاروبار میں کامیابی ہوگی۔

شہر قائد میں کھانے پینے کا کاروبار بڑھنے کے باعث بڑی تعداد میں دیگر ہنر مند افراد کو بھی ملازمت کے مواقع مل رہے ہیں جن میں کک ، ٹیبل مین اور ہوم ڈلیوری کرنے والے نوجوان شامل ہیں، ایکسپریس نے کھانے پینے کے کاروبار کے رحجان میں اضافے پر اس کام سے وابستہ مختلف نوجوانوں سے گفتگو کی۔

کورونانے شہریوں کے معاشرتی حالات پرگہرااثرڈالا

کھانے کے کاروبار سے وابستہ رانا اکرام کے مطابق کورونا کی وبا نے جہاں لوگوں کے معاشرتی حالات پر گہرا اثر ڈالا، وہیں شہری بے پناہ معاشی مسائل کا شکار ہوئے، کورونا وبا کی وجہ سے پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھا، ملک کے معاشی حالات کی وجہ سے پہلے ہی بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، خصوصاً نوجوان طبقہ جو مختلف ماسٹرز یا پروفیشنل ڈگریاں لے کر مختلف اداروں سے فارغ التحصیل ہوا ہے ان کو روزگار ملنے میں مشکلات ہیں اسی وجہ سے نوجوان طبقے کی ایک بڑی تعداد کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ ہورہی ہے اور یہ نوجوان طبقہ چھوٹے پیمانے پر مختلف علاقوں میں فاسٹ فوڈز ، برگر شاپس ، بریانی اور دیگر کھانے پینے کی اشیا کا کاروبار کھول رہے ہیں۔ اسی وجہ سے کراچی کے مختلف علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا کے کاروبار میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ کاروبار دو لاکھ روپے سے 5 لاکھ روپے کے درمیان شروع کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر یہ کام دو یا اس سے زائد نوجوان مل کر کھولتے ہیں، اس کاروبار میں اضافے کے سبب کراچی میں فاسٹ فوڈز ، بریانی اور دیگر مصالحے دار کھانے تیار کرنے والے کاریگروں کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے اس کاروبار کے سبب مختلف بے روزگار افراد کو نوکری بھی حاصل ہوئی ہے اور پنجاب ، خیبر پختونخوا اور کشمیر سے بڑی تعداد میں لوگ آکر ان فوڈز سینٹرز پر کام کر رہے ہیں جو ایک مثبت علامت ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی میں اس وقت سب سے منافع بخش کاروبار کھانے پینے کی اشیاء کا ہے۔

لیاقت آبادکے ایم بی اے کرنیوالے نوجوان نے بریانی سینٹر کھول لیا
لیاقت آباد میں بریانی سینٹر شروع کرنے والے نوجوان شکور احمد نے بتایا کہ میں نے ایم بی اے کیا ہے، مجھے میری تعلیم کے مطابق نوکری نہیں مل رہی تھی، پھر میں نے گھر کے پاس ہی بریانی سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا، یہ آئیڈیا مجھے اس وقت آیا ، جب میں نے پاکستان چوک پر ایک ٹھیلے پر سے بریانی کھائی انھوں نے بتایا کہ میں نے ایک لاکھ روپے قرضہ اور کچھ پیسے جمع کرکے یہ کام شروع کیا، آج میں ماہانہ تمام اخراجات نکال کر 30 سے 40 ہزار روپے کما لیتا ہوں۔

کھانے پینے کی اشیاکی ہوم ڈلیوری سے ماہانہ30 ہزارتک کماتا ہوں،راشد سرفراز

حسین آباد کے رہائشی راشد سرفراز نے بتایا کہ میں مختلف ایپس کی مدد سے کھانے پینے کی اشیا کی سروس فراہم کرنے کے لیے ہوم ڈلیوری کا کام کرتا ہوں، میرے علاوہ سیکڑوں نوجوان اس کام سے وابستہ ہیں اور مہینے میں ہمیں 25 سے 30 ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ ایک سماجی ادارے سے وابستہ شخص شہرندیم خان نے بتایا کہ کورونا کے باعث بے روزگار ی میں اضافہ ہوا تاہم اب نوجوان نسل میں کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ ہونے کا رحجان بڑھا ہے جس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی ہو گی بلکہ پڑھے لکھے نوجوانوں میں یہ شعور پیدا ہوگا کہ وہ اپنا ذاتی کام شروع کریں انھوں نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت کو چاہے کہ وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آسان شرائط پر بلا سود 2 لاکھ روپے سے 3 لاکھ روپے تک قرضہ فراہم کریں تاکہ نوجوان چھوٹے پیمانے پر اپنا کاروبار کھول کر باعزت طریقے سے روٹی کما سکیں۔

50ہزارروپے سے ٹھیلے پربرگرکا کام شروع کیا،نوجوان احمدعلی
لائنز ایریا میں برگر فروخت کرنے والے نوجوان احمد علی نے بتایا کہ میں نے گریجویشن کیا ہے، پہلے میں ایک دکان پر سیلز مین کا کام کررہا تھا، پھر میں نے مختلف افراد کو کھانے پینے کا کاروبار کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے بھی سوچا کہ یہ کام شروع کیا جائے، میں نے50 ہزار روپے سے ایک ٹھیلے پر برگر کا کام شروع کیا اور اس کام میں کباب اور دیگر کھانے پینے کی چیزیں والدہ اور بہنوں نے تیار کرکے دیں، اب میں نے بھی یہ پکانا سیکھ لیا ہے اور میں دوپہر 3 بجے یہ کام شروع کرتا ہوں اور رات 12 بجے تک کئی درجن برگر فروخت ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ میں ہوم ڈلیوری بھی دیتا ہوں۔

شہریوںمیں باہرسے کھانے پینے کارحجان بڑھ گیا،شہنازاختر

گھر میں ہوم کچن کا کام کرنے والی خاتون شہناز اختر نے بتایا کہ کراچی کے شہریوں میں باہر سے کھانے پینے کا رحجان بڑھ گیا ہے۔ سب سے زیادہ بچے اس شوق میں مبتلا ہیں، بچے گھر کے کھانے کے بجائے فاسٹ فوڈز خصوصا برگر، پیزا اور بریانی کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ آج کل تو ہر تیسرے گھر میں موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور اب تو باہر کھانا کھانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ بچے اور نوجوان نسل مختلف ایپس کی مدد سے آرڈر کرتے ہیں اور ان کا من پسند کھانا 20 منٹ میں گھر پر پہنچ جاتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بیشتر گھروںمیں خواتین اور بچیاں بھی ہفتے میں دو سے تین بار بریانی، حلیم کا آرڈر کردیتی ہیں اس طرح کم پیسوں میں وہ گھر بیٹھے اپنی من پسند کھانے کی چیزیں منگوا کر اسے کھاتی ہیں انھوں نے بتایا کہ اب تو ہر علاقے میں فوڈز سینٹرموجود ہیں جن پر مختلف کھانے پینے کی اشیا ملتی ہیں اور یہ کام زیادہ تر پڑھا لکھا نوجوان طبقہ کر رہا ہے اس سے بے روزگاری کم ہوئی ہے۔

فاسٹ فوڈکاکاروبارشہر کے تمام علاقوں میں پھیل گیا

پٹیل پاڑہ میں فاسٹ فوڈز سینٹر کھولنے والے نوجوان ساجد خان نے بتایا کہ میں نے ماسٹرز تک تعلیم حاصل کی، میرے دوسرے بھائی نے گریجویشن کیا لیکن ہمیں مطلوبہ ملازمت نہیں مل سکی جس کے بعد میں نے کوکنگ کا کورس ایک پروفیشنل ادارے سے کیا، عملی طور پر ایک فوڈ سینٹر پر عارضی ملازمت کی، کچھ والد کی معاونت اور کچھ رقم جمع کرکے کرائے پر دکان لی اور کھانے پینے کی اشیا کا کاروبار شروع کیا، اس فوڈز سینٹر میں مختلف اقسام کے تکے ، کباب ، بوٹی ، رول ، برگرز ، پیزا ، بروسٹ ، بریانی کا کام شروع کیا اب 6 مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں ہمار اکام چل پڑا ہے اور ہمارے ساتھ 6 سے 8 لوگ ملازم ہیں، کھانے پینے کی اشیا کی تیاری کا ابتدائی مرحلہ میں خود انجام دیتا ہوں، بقایا اس کی پکائی کاریگر کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے فاسٹ فوڈز کے مختلف علاقے ہوتے تھے جن میں برنس روڈ ، حسین آباد ، حسن اسکوائر ، لیاقت آباد ، سپر ہائی وے اور دیگر علاقے شامل ہیں۔

تاہم بے روزگاری کی وجہ سے بہت سے پڑھے لکھے نوجوان اس کاروبار کی طرف راغب ہوگئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ کاروبار شہر کے اب تمام علاقوں میں پھیل گیا ہے، متوسط علاقوں میں بڑی تعداد میں بریانی سینٹرز کھولے جا رہے ہیں پہلے یہ کام مخصوص لوگ بڑے پیمانے پر کرتے تھے لیکن اب چھوٹی سرمایہ کاری سے اس کام کا آغاز ہو جاتا ہے، انھوں نے بتایا کہ میرے ساتھ کے کئی پڑھے لکھے نوجوانوں نے اپنے اپنے علاقوں میں یہ کام شروع کیا ہے، اس کام کو شروع کرنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کی بڑی تعداد کوکنگ کا کورس کر رہی ہے تاکہ انھیں اس کام میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔