’’ٹی واز فنٹاسٹک‘‘

سلیم خالق  پير 25 اکتوبر 2021
شاہین شاہ آفریدی نے جب روہت شرما کو ایل بی ڈبلیو کیا تو پاکستانی شائقین خوشی سے جھوم اٹھے  فوٹو: فائل

شاہین شاہ آفریدی نے جب روہت شرما کو ایل بی ڈبلیو کیا تو پاکستانی شائقین خوشی سے جھوم اٹھے فوٹو: فائل

ویسے تو میں زیادہ چائے نہیں پیتا لیکن بھارت کیخلاف میچ سے قبل یہ جملہ یاد آ گیا تو میں نے سوچا چلو آج چائے ضرور پیتے ہیں، میں میچ کے لیے کئی گھنٹے قبل ہی دبئی اسٹیڈیم پہنچ گیا تھا کیونکہ پاک بھارت مقابلہ چاہے دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو تاخیر کی صورت میں آپ کو ٹریفک جام میں پھنسنا اور اسٹیڈیم کے باہر بھی طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس سے اچھا یہی ہے کہ پہلے آ کر اسٹیڈیم سے ہی کچھ کام کر لیا جائے، ہوٹل کے باہر ہی مجھے بھارتی ٹیم کی شرٹ پہنے کئی افراد نظر آئے، ان میں سے ایک سے میں نے پوچھا کہ کیا پورے ٹورنامنٹ کے لیے یو اے ای آئے ہیں تو اس نے بتایا کہ’’ بیشتر افراد پاکستان سے میچ کے بعد بھارت واپس لوٹ جائیں گے، یہ اتنا زبردست مقابلہ ہوتا ہے مس کیا ہی نہیں جا سکتا‘‘ اماراتی حکومت نے ستر فیصد کرائوڈ کو اسٹیڈیم آنے کی اجازت دی تھی،ٹکٹیں چند منٹ میں ہی فروخت ہو گئی تھیں اس کا تذکرہ تو پہلے بھی کئی بار ہو چکا،سوشل ڈسٹینس کے لیے چند کرسیوں کے درمیان ایک کرسی خالی رکھی گئی۔

گرمی بہت زیادہ ہے،اس کا اندازہ میڈیا سینٹر آتے آتے ہو گیا، دروازے کے باہر سینئر صحافی سہیل عمران سے ملاقات ہوئی، میں تو خیر بھاری جسامت کی وجہ سے ماسک میں بھی پہچانا جاتا ہوں، اس لیے سہیل بھائی کو بھی کوئی دشواری نہ ہوئی، انھوں نے بتایا کہ لاہور سے دس سے زائد صحافی ورلڈکپ کی کوریج کے لیے دبئی آئے ہوئے ہیں، امارات میں میرا زیادہ تر وقت عبدالرحمان رضا کے ساتھ ہی گذرتا ہے جو الیکٹرونک میڈیا کا جانا پہچانا نام ہیں، ایکسپو ٹوئنٹی ٹوئنٹی پر ان کی حالیہ رپورٹ بھی بڑی ہٹ ہوئی تھی، مگروہ علالت کی وجہ سے کئی روز سے گھر پر آرام کر رہے تھے،انھیں اسٹیڈیم میں دیکھا تو خوشی محسوس ہوئی، کچھ دیر بعد ٹیمیں اسٹیڈیم پہنچ گئیں،میتھیو ہیڈن و دیگر کوچز پچ کا معائنہ کرنے گئے۔

کھلاڑی بھی وارم اپ ہوتے رہے،میں نے سوچا کہ باہر جا کر ماحول دیکھتا ہوں، اسٹیڈیم کے باہر عوام کا جم غفیر نظر آیا، پاکستانی اور بھارتی شائقین اپنے قومی پرچم تھامے اندر داخل ہونے کے منتظر تھے، چچا کرکٹ بھی نظر آئے، ان کے دائیں جانب بھارتی اور بائیں جانب پاکستانی شائقین موجود تھے، اس سے ظاہر ہوا کہ ان کی شہرت دونوں جانب ہے، میچ کیلیے سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے تھے،گھوڑوں پر سوار پولیس اہلکار بھی گشت کرتے رہے، واپس میڈیا سینٹر آیا تو وہاں ظہیر عباس سے ملاقات ہوئی۔

میں نے ان سے پوچھا کیا لگتا ہے کون جیتے گا تو انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا‘‘ میچ کے لیے پاکستان اور بھارت سے سیاسی شخصیات بھی اسٹیڈیم آئیں،مقابلے سے پہلے میڈیا سینٹر مکمل بھر چکا تھا،شائقین کی طرح صحافیوں میں بھی بھارتیوں کی تعداد زیادہ تھی، کرائوڈ بھی بھرپور انجوائے کر رہا تھا لیکن سب تہذیب کے دائرے میں رہے، برطانیہ سے زیادہ یو اے ای میں قوانین کی سختی ہے،وہاں بھی کرائوڈ آپس میں لڑ پڑتا ہے لیکن یہاں کسی کی ایسی ہمت نہیں ہوتی،میچ شروع ہونے سے پہلے دونوں ممالک کے بڑے پرچم اسٹیڈیم میں لائے گئے۔ ورلڈ کپ کا پرچم بھی ساتھ تھا، پھر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے،شائقین نے بھی ساتھ دیا،کرکٹرز جب میدان میں داخل ہوئے تو تالیوں کی گونج میں شاندار استقبال کیا گیا۔

اس وقت ایک چھوٹی ٹیبل پر ورلڈکپ ٹرافی بھی رکھی گئی تھی، کھلاڑی جب اس کے قریب سے گذرے تو یقینا ان کے ذہن میں یہی بات ہو گی کہ بس اب اسے ساتھ لے کر وطن واپس جانا ہے، شاہین شاہ آفریدی نے جب پہلے ہی اوور میں روہت شرما کو ایل بی ڈبلیو کیا تو پاکستانی شائقین خوشی سے جھوم اٹھے جبکہ بھارتیوں پر سکتہ طاری ہو گیا،عماد وسیم کا پونی والا اسٹائل بھی مداحوں کو پسندآیا، پھر جب شاہین نے کے ایل راہول کو بولڈ کیا تب تو اورشور مچا، اس وقت ’’گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو‘‘ کے نعرے صاف سنائی دے رہے تھے۔

کوہلی نے شاہین کو چھکا لگایا تو میڈیا سینٹر میں بھی تالیوں کا شور سنائی دیا، بعد میں ان کی ففٹی مکمل ہوئی تو کراؤڈ میں موجود اداکارہ پریتی زنٹا پر کیمرہ فوکس ہوا جو خوشی سے سرشار دکھائی دیں،البتہ ان سمیت اکشے کمار اور انوشکا شرما کے چہرے کی مسکراہٹ زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکی، پاکستانی اوپنرز بابر اعظم اور محمد رضوان نے شاندار بیٹنگ سے جہاں پاکستانی شائقین کو جھومنے پر مجبور کر دیا وہیں بھارتیوں کے چہرے مرجھا گئے،میڈیا سینٹر میں بھی اب تالیوں کی آوازیں گونجنا بند ہو گئی تھیں، اس سے قبل کھانے کے وقت جب ظہیر عباس سے دوبارہ ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان کی جیت کا امکان زیادہ ہے‘‘ ان کے ساتھ اس وقت سابق ویسٹ انڈین کپتان کلائیو لائیڈ بھی موجود تھے، بعد میں یہ بات درست ثابت ہوئی اورپاکستان نے پہلی بار ورلڈکپ میں بھارت کو ہرا کر تاریخ رقم کر دی۔

اس وقت ایک پاکستانی صحافی نے دلچسپ جملہ کہا کہ ’’آج پٹاخے چل ہی جائیں گے‘‘ان کا اشارہ بھارت کے ایک اشتہار کی جانب تھا جس میں ورلڈ کپ میں بھارت کو کبھی نہ ہرانے پر گرین شرٹس کا مذاق اڑایا گیا تھا، ابھی اسٹیڈیم میں بھی زبردست ماحول ہے، پاکستان زندہ باد کی گونج سنائی دے رہی ہے، میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس وقت پاکستان میں بھی کتنی خوشیاں منائی جا رہی ہوں گی، ہماری قوم کو اس کی ضرورت بھی تھی، ابھی مجھے باہر جا کرپاکستانی شائقین کا جشن بھی دیکھنا ہے، بھارت کے سابق کرکٹرز نے میچ سے قبل بڑے بڑے دعوے کیے تھے اب سب منہ چھپاتے پھریں گے، خصوصا سہواگ کی حالت دیدنی ہو گی،اسی لیے کہتے ہیں کہ ’’غرور کا سر نیچا‘‘ خیر آپ لوگ بھی اب خود چائے بنائیں یا گھر والوں سے درخواست کریں، ہاں مگر چائے پینے کے بعد یہ ضرور کہے گا ’’ٹی واز فنٹاسٹک‘‘۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔