بابراعظم بمقابلہ ویرات کوہلی، فیصلوں کی جنگ

حافظ خرم رشید  پير 25 اکتوبر 2021
بابر اعظم کے پراعتماد فیصلوں اور پاک ٹیم کی محنت سے کامیابی پاکستان کا مقدر بنی۔ (فوٹو: فائل)

بابر اعظم کے پراعتماد فیصلوں اور پاک ٹیم کی محنت سے کامیابی پاکستان کا مقدر بنی۔ (فوٹو: فائل)

دبئی میں جاری آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پورے ایونٹ کے سب سے بڑے اور اہم ترین معرکے میں جہاں پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا، وہیں بہت سے سوالات کو بھی جنم دیا۔

گزشتہ شام ہونے والے اس میچ میں بھارتی ٹیم میدان میں اترتے ہی مایوس نظر آئی۔ میچ سے قبل بھارتی کپتان ویرات کوہلی کا کہنا تھا کہ ابھی تو یہ پہلا میچ ہے، پاکستانی ٹیم بہت مضبوط اور کسی بھی لمحے پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس لیے ہماری توجہ نہ صرف ایک میچ پر بلکہ ورلڈ کپ کے فائنل پر ہے۔

دوسری جانب بابراعظم نے پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً ہمارے لیے یہ میچ اہم ہے کیوں کہ پاکستانی قوم اور بھارتی شائقین پاک بھارت ٹاکرے کو ایک جنگ کی صورت دیکھتی ہے، تاہم ہم اپنا سو فیصد دینے کی کوشش کریں گے۔

میچ میں کیا ہوا اور کیسا ہوا یہ تو کرکٹ کے کسی بھی شائق سے سنا جاسکتا ہے۔ یقیناً یہ میچ چیتن شرما کی آخری بال پر جاوید میاں داد کے یادگار چھکے سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے، کیوں کہ وہ چھکا کسی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنا، جب کہ گزشتہ شام کا میچ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا ریکارڈ ساز میچ بن گیا، اور تاریخ میں جب بھی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کرکٹ کی بات ہوگی، تو اس میچ کا مثال کے طور پر ذکر کیا جائے گا۔

میرا موضوع میچ میں رضوان اور بابراعظم کی شاندار اوپننگ اور وننگ پارٹنر شپ نہیں، نہ ہی شاہین آفریدی کی 31 رنز کے عوض 3 وکٹیں ہیں، کیوں کہ اگر کسی ایک فرد کی کارکردگی پر ٹیم کی جیت کا انحصار ہوتا تو ویرات کوہلی بھی اپنی ٹیم میں نمایاں بلے باز تھے اور انہوں نے بھی 57 رنز کی شاندار اننگ کھیلی۔ لیکن یہاں اصل جیت فیصلوں سے ثابت کرنی ہے۔ وہ فیصلے جو ٹیم کے چناؤ، میدان میں ٹاس، کھیل کے دوران کس کھلاڑی کو کس جگہ استعمال کرنا، اپنے اعصاب قابو میں رکھ کر حریف ٹیم کے اعصاب پر کیسے قابو پانا اور میچ کی آخری بال تک جیت کے ساتھ کس طرح جانا ہے۔

میچ سے پہلے پاکستان اور بھارت کے ٹی وی چینلز پر دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز سابق کرکٹرز دونوں ٹیموں کی خامیاں اور خصوصیات بیان کرتے اور میچ کے  بعد پاکستانی ٹیم کی تعریفیں اور بھارتی ٹیم پر تنقید کرتے نظرآئے۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی کرکٹ شائقین سمیت پوری قوم جو کرکٹ سے کوسوں دور ہے مبارکباد اورخوشیوں کا اظہار کرتی نظر آئی اور کچھ نے تو میمز کے انبار لگا دیے۔

کرکٹ کے تجزیہ کار اور سابق کرکٹرز ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ پاک بھارت ٹاکرے میں جیت ہمیشہ اعصاب کی ہوتی ہے، جو ٹیم اپنے اعصاب کو قابو میں اور توجہ میچ پر رکھے اسے جیت ملتی ہے، دونوں ممالک کے مابین اب تک 200 میچز ہوچکے ہیں، اور ان مقابلوں میں تاحال پاکستان کو برتری حاصل ہے، تاہم ورلڈ کپ کے کسی بھی میچ میں بھارت کے مقابل پاکستان کا ناکام رہنا اپنی جگہ ایک مسمم ریکارڈ بنا ہوا تھا، اور اس روایت کو گزشتہ شام بابراعظم کے منتخب کردہ 11 رکنی اسکواڈ نے توڑ دیا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاک بھارت میچ میں جیت کسی کی بھی ہوئی، جیتنے والا یکطرفہ میچ جیتا، سوائے گنے چنے میچز کے، اور یہ اس کی واضح مثال ہے کہ جو ٹیم جیت کو اپنا مقدر بناتی ہے وہ میدان میں ہشاش بشاش اور توانا نظر آتی ہے، جب کہ ہارنے والی ٹیم میدان میں اترتے ہی دباؤ کا شکار، اور اس ٹیم کے کھلاڑیوں کے ہاتھ پاؤں پھولے نظر آتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ شام نظر آیا، اور اس سے قبل چیمپیئن ٹرافی میں بھی یہی صورتحال نظر آئی۔

میری نظر میں بابراعظم کا میچ سے ایک روز قبل ہی 12 رکنی اسکواڈ کا اعلان ہی ٹیم کو اعتماد میں لینے، جیت پر توجہ دینے اور حریف ٹیم کے اعصاب پر سوار ہونے کےلیے کافی تھا، کیوں کہ پاکستان کرکٹ کی روایت رہی ہے کہ ہرمیچ کے بعد کسی بھی کھلاڑی کو سو فیصد یقین نہیں ہوتا کہ وہ اگلے میچ کا حصہ بن پائے گا یا نہیں، اور ہارنے کے بعد تو کپتان بھی سہم جاتا ہے کہ کہیں اسے ایونٹ کے بعد ہونے والی کرکٹ سے بھی ہاتھ نہ دھونے پڑ جائیں۔

گزشتہ رات بھارتی ٹیم کے ایک سابق کرکٹر اور ماہر تجزیہ کار کا یہی کہنا تھا کہ ویرات کوہلی نے ایسے کون سے ہیرے چھپا رکھے تھے جو دنیا کے سامنے لانے سے گھبرا رہے تھے۔ بھارتی کپتان نے ٹاس کے بعد اپنی ٹیم کا انتخاب کیا جو بدترین فیصلہ تھا۔ جب کہ دوسری جانب بابراعظم نےایک دن پہلے ہی  اپنے 12 رکنی اسکواڈ کا اعلان کرکے 10 پاکستانی کھلاڑیوں کو مکمل طور پر میچ کھیلنے اور جیت پر توجہ دینے پر لگا دیا تھا، کیوں کہ صرف دو لڑکوں آصف اور حیدرعلی کو ہی خوف تھا کہ ان میں سے کون اپنے روایتی حریف کے سامنے صلاحتیوں کا مظاہرہ کرے گا۔ جب کہ بھارت کے ہر کھلاڑی کا ذہن میچ کھیلنے اور جیت کی طرف دیکھنے کے بجائے اس فیصلے پر تھا کہ  پاکستان کے خلاف میچ میں میدان میں اترے گا یا اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو پانی پلانے، کوچز کے پیغام دینے یا چوکے اور چھکوں پر تالیاں بجانے پر متعین کیا جائے گا، جس سے پوری ٹیم کا مورال گر چکا تھا، اسی لیے بھارتی ٹیم میدان میں اترے ہوئے چہروں کے ساتھ داخل ہوئی۔

بھارت کے سابق کرکٹرز کی رائے اپنی جگہ درست لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کرکٹ ورلڈ کپ 1992  کی فاتح ٹیم کے کپتان اور پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان ہمیشہ یہ جملہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جو کھلاڑی صرف جیت کا عزم لے کر میدان میں اترے جیت اسی کا مقدر بنتی ہے، اور میں کبھی بھی کسی ٹیم سے ہار کا خوف لے کر میدان میں نہیں اترا۔

اب آجائیں بھارت کا وہ غرور و تکبر جو گزشتہ شام خاک میں مل گیا۔ بھارت کے سابق کرکٹرز جو میدان میں بھی پاک بھارت میچ کو ایک جنگ کی شکل دے دیتے تھے گزشتہ رات بھی سوشل میڈیا پر غرور و تکبر سے بھرے پیغامات دینے میں مصروف نظرآئے، بالخصوص ہربھجن سنگھ کا شعیب اختر کو پیغام ’’تم نے کون سا جیتنا ہے، یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے‘‘ سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں اسی پیغام کے میمز بنے اور ہربھجن سنگھ حسرت و یاس کی تصویر بنے نظر آئے۔ انہیں نہ صرف پاکستانی قوم نے بلکہ ان کے اپنے ہی سابقہ کرکٹرز نے بری طرح تنقید کا نشانہ بنایا، اور ایک بھارت کا ایک گانا ’موقع موقع‘ کی زبان زدعام رہا، جسے بھارتی تجزیہ کاروں نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے اپنی ہی ٹیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو بابراعظم کسی لمحے بھی موقع نہیں دیا، بھارتی ٹیم کو پاکستان نے نہ ہی بیٹنگ کرنے دی اور نہ ہی ان کے بولرز کو کوئی موقع دیا کہ ایک آدھی وکٹ ہی اپنے نام کرلیں۔

لیکن اب کیا ہوسکتا ہے؟ اب پچھتانے کا کیا فائدہ جب ’چڑیاں جگ گئیں کھیت‘۔ اس طرح کی بے تکی اور بے معنیٰ حوصلہ افزائی بھی بھارت کی عبرتناک شکست کا باعث بنی، کیوں کہ بھارتی ٹیم اسی خواب خرگوش میں مگن رہی کہ پاکستان تو ورلڈ کپ کے کسی میچ میں جیتا ہی نہیں، وہ تو ویسے ہی دباؤ کا شکار ہوگی۔ جب کہ پاکستانی ٹیم کچھوے کی چال چلتے ہوئے جیت کی لائن کراس کرگئی۔ کپتان بابراعظم اور ان کی پوری ٹیم تو واقعی اپنا سابقہ ریکارڈ جانتی تھی کہ وہ ورلڈ کپ میں بھارت سے کبھی بھی نہیں جیتے بلکہ 12 میچوں میں شکست کھاچکے ہیں تو اگر 13 واں میچ بھی ہار گئے تو ایسی کون سی انہونی ہوگی جو ہمیں ہماری زندگی میں چین سے جینے نہیں دے گی۔

بہت زیادہ خوداعتمادی، غرور اور تکبر بھی انسان کو لے ڈوبتا ہے، شاید اسی وجہ سے میچ کے بعد پاکستانی ڈریسنگ روم میں کپتان بابراعظم یہ کہتے نظر آئے کہ یہ جیت یقیناً خوشی کا باعث ہے اور ہم اس خوشی کو بھرپور طریقے سے منائیں گے، لیکن ہم نے اب اس جیت کی روایت کو قائم و برقرار رکھنے کےلیے مزید محنت کرنی ہے اور باقی میچز کی بھرپور تیاری کرنی ہے، اور خصوصاً بہت زیادہ خوداعتمادی کا مظاہرہ بالکل نہیں کرنا۔ یہ وہ فیصلہ ہے جو پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچنے میں مدد دے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

حافظ خرم رشید

حافظ خرم رشید

بلاگر جامعہ کراچی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کرچکے ہیں اور ابھی وفاقی اردو یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ میں ماسٹرز کررہے ہیں۔ ایک نجی چینل پر ریسرچر اور اسکرپٹ رائٹر رہ چکے ہیں جبکہ اِس وقت ایکسپریس نیوز میں بحیثیت سب ایڈیٹر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔