سیف علی خان کی جائیداد ان کے بیٹوں میں کیوں تقسیم نہیں ہوسکتی؟

ویب ڈیسک  منگل 26 اکتوبر 2021
سیف علی خان بھارت کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور پٹودی خاندان کے دسویں نواب ہیں فوٹوفائل

سیف علی خان بھارت کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور پٹودی خاندان کے دسویں نواب ہیں فوٹوفائل

ممبئی: بالی ووڈ کے نواب سیف علی خان کے تینوں بیٹے ابراہیم، تیمور اور جہانگیر علی خان ان کے آبائی جائیداد جس کی مالیت 5000 کروڑ ہے کے وارث نہیں ہیں اور نہ ہی سیف علی خان کے تینوں بیٹوں میں یہ جائیداد تقسیم ہوسکتی ہے۔

سیف علی خان بھارت کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور پٹودی خاندان کے دسویں نواب ہیں۔ ان کی بھوپال میں موجود آبائی جائیداد کی مالیت تقریباً 5000 کروڑ روپے ہے۔ تاہم سیف علی خان اپنے تینوں بیٹوں کو اس جائیداد میں سے ایک روپیہ بھی نہیں دے سکتے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سیف علی خان کی ہاؤس آف پٹوڈی سے تعلق رکھنے والی ساری جائیداد اور دیگر متعلقہ اثاثے حکومت ہند کے متنازع اینیمی ڈسپیوٹ ایکٹ کے تحت آتے ہیں۔ جس کے تحت کوئی بھی ایسی جائیدادوں یا اثاثوں میں سے کسی کا وارث ہونے دعویٰ نہیں کرسکتا جو مذکورہ ایکٹ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

اور اگر پھر بھی کوئی شخص اس جائیداد کے وارث ہونے کا دعویٰ کرنا چاہے تو اسے ہائی کورٹ جانا ہوگا بعد ازاں سپریم کورٹ اور آخر میں بھارت کے صدر کے پاس یہ معاملہ لے جانا ہوگا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں سیف علی خان کی آبائی جائیداد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ سیف علی خان کے  پردادا حامد اللہ خان جو کہ برطانوی دور میں نواب تھے انہوں نے کبھی بھی اپنی جائیدادوں کے لیے کوئی و صیت نہیں بنائی تھی۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے تو خاندان میں تنازع ہوسکتا تھا خاص طور پر پاکستان میں موجود سیف علی خان کی پھپھو سے تعلق رکھنے والے افراد سے تنازع ہوسکتا تھا۔

ان تمام قانونی پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیف علی خان کے بھوپال اور ہریانہ میں موجود جائیداد کو اپنے تینوں بیٹوں میں تقسیم کرنے کے امکانات کافی کم ہیں۔

واضح رہے کہ سیف علی خان کے چار بچے ہیں بڑی بیٹی کا نام سارہ علی خان ہے جو کہ اداکارہ ہیں اس کے علاوہ تین بیٹے ابراہیم علی خان، تیمور علی خان اور جہانگیر علی خان ہیں۔ سارہ اور ابراہیم ان کی پہلی بیوی امریتا سنگھ کے بچے ہیں جب کہ تیموراور جہانگیر ان کی دوسری بیوی کرینہ کپور کے بچے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔