بلی آنکھ سے اوجھل مالک کی موجودگی اور پوزیشن کا احساس رکھتی ہے، تحقیق

ویب ڈیسک  جمعـء 12 نومبر 2021
اگر مالک نظر نہ آئے تب بھی بلی ان کی آواز سے ان کی موجودگی کی درست جگہ معلوم کرسکتی ہے (فوٹو: فائل)

اگر مالک نظر نہ آئے تب بھی بلی ان کی آواز سے ان کی موجودگی کی درست جگہ معلوم کرسکتی ہے (فوٹو: فائل)

 ٹوکیو: اگر بلیوں کی نظر سے ان کا مالک اوجھل بھی ہوجائے تب بھی اس کی نقل و حرکت اور آواز سے وہ اس کی پوزیشن کا درست احساس کرسکتی ہیں۔

کیوٹو یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم ساہو تاکاگی کہتی ہیں کہ بلی اپنے مالک کے معاملے میں بھی بہت حساس ہوتی ہے اور صرف آوازوں کے اشارے سے ان کی درست پوزیشن معلوم کرلیتی ہے۔ اس طرح وہ دماغی طور پر اپنے مالک کی نگرانی کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ ساکت کھڑی یا بیٹھی ہوئی بلی بھی اپنے مالک کی غیر مرئی موجودگی کا احساس کرلیتی ہے۔

ساہو خود بھی بلیوں کو پالتی ہیں اور ان کے حساس کان اور سماعت میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ بلی اپنے کانوں کو مختلف سمتوں میں موڑ سکتی ہے اور آنے والی آوازوں سے ایک نقشہ مرتب کرتی ہے جس میں وہ کسی کی موجودگی کا ادراک بھی کرسکتی ہے۔

بلیوں کی سماعت انہیں سننے کے علاوہ انسانوں کی طبعی موجودگی کا ادراک بھی دیتی ہیں۔ پہلے تجربے میں ان کے مالکان کی ریکارڈ شدہ آوازیں اسپیکروں پر سنائی گئیں جو ایک دوسرے سے دور رکھی گئی تھیں۔ تجربے میں مالک کی آواز پہلے ایک اور پھر دوسرے اسپیکر پر سنائی دیتی رہی۔

جب دو اسپیکروں کے درمیان مالک کی آوازیں ادھر ادھر منتقل ہوتی رہیں تو بلیاں مخمصے کی شکار رہیں۔ دیگر تجربات سے معلوم ہوا کہ بلی آواز سے اطراف اور مالک کی موجودگی کا پتا لگالیتی ہے۔ اس طرح ان کا دماغ قدرے پیچیدہ ہے جس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

بلیوں کی نفسیات کے سند یافتہ ماہر انگرڈ جانسن کہتی ہیں کہ عمر کے ساتھ ساتھ بلی مالک سے قریب تر ہوتی رہتی ہے انہیں نہ پاکر مضطرب ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے مالک کی آواز خوب پہچانتی ہے اور اجنبی آوازوں میں فرق محسوس کرسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔