توسیعی ٹرائیکا اجلاس کا اعلامیہ

ایڈیٹوریل  ہفتہ 13 نومبر 2021
دنیا بلاشبہ ایک مثبت شکل میں افغانستان کا خیر مقدم کرنے کا انتظار کرے گی۔ فوٹو: پی آئی ڈی

دنیا بلاشبہ ایک مثبت شکل میں افغانستان کا خیر مقدم کرنے کا انتظار کرے گی۔ فوٹو: پی آئی ڈی

ٹرائیکا پلس نے ان توقعات کا اعادہ کیا ہے کہ طالبان اپنے ہمسایوں، خطے کے دیگر ممالک اور باقی دنیا کے خلاف دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے اپنے عزم کو پورا کریں گے۔

طالبان پر زور دیا گیا کہ وہ پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں، عالمی قوانین کے تسلیم شدہ اصولوں، بنیادی انسانی حقوق، افغانستان میں غیر ملکی شہریوں، اداروں کے تحفظ اور جائز حقوق کے تحفظ کے لیے افغانستان کی بین الاقوامی قانونی ذمے داریوں کی پاسداری کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جمعرات کو افغانستان کی صورتحال سے متعلق پاکستان، چین، روس اور امریکا پر مشتمل توسیعی ٹرائیکا کا اجلاس ہوا۔ توسیعی ٹرائیکا نے اجلاس کے موقع پر طالبان کے سینئر نمایندوں سے ملاقات کی۔ اجلاس کے اختتام پر تیرہ نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

اقوام متحدہ اور اس کی خصوصی ایجنسیوں پر زور دیا گیا کہ وہ افغانستان میں خوشحالی کے لیے پروگرام تیار کریں۔ عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ افغانستان کو کورونا کے خلاف امداد کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

قبل ازیں ٹرائیکا پلس اجلاس میں سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، افغانستان میں پاکستان کے سفیر ایمبیسڈر منصور احمد خان، پاکستان کے نمایندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق ، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمایندہ خصوصی برائے افغانستان ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری تھامس ویسٹ، روس کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان ضمیر کابلوف، چین کے نمایندہ خصوصی برائے افغانستان یایانگ شریک ہوئے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان معاشی تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، عالمی مالی امداد نہ ہونے سے تنخواہوں کی ادائیگی تک میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، عالمی برادری منجمد وسائل تک رسائی اور ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائے۔

طالبان رابطوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ دنیا انھیں تسلیم اور ان کی مدد کرے۔ طالبان کو عالمی حقائق کے ادراک میں دیر نہیں لگانی چاہیے، گلوبل تہذیب بے پناہ سیاسی، اقتصادی اور مالی مشکلات کے ساتھ دلدل میں پھنسی ہوئی ہے، افغانستان کو ایک نئی ریاست کا بار کاندھوں پر اٹھانا ہے اور اسے اندازہ ہے کہ دنیا کو طالبان سے توقعات بہت ہیں، دنیا کے مطالبات بھی پھیلتے جا رہے ہیں، دہشتگردی اور علاقائی متحارب قوتوں کے تنازعات کی پیچیدگیاں کم ہونی چاہییں، مساجد اور دیگر مقدس مقامات کے احترام اور تشدد و شورش کے خطرات کم ہونگے تو امن کے قیام کے امکانات بھی مزید روشن ہونگے۔

طالبان علاقائی شورش کے اسباب، محرکات اور انسانی جانوں کے ضیاع پر بھی توجہ دیں، سیاست میں کشمکش، تضادات اور تناؤکے اسباب پر غور کریں، امن کو قدم جمانے دیں، مفاہمانہ سیاست اور رواداری کو سیاسی رویوں کی بنیاد بنائیں، کچھ تحمل اور برداشت کو بھی موقع دیں، سیاسی تصادم اور دیگر دہشتگردانہ کارروائیوں کے خاتمے کے لیے بھی خطے میں امن، رواداری اور خواتین کے حقوق کے احترام کے وعدوں کی تکمیل ضروری ہے، طالبان پر مشترکہ اعلامیہ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین اور بچوں کی تعلیم کے معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

افغان عورتوں کو جدید دور کی علمی سرگرمیوں سے محروم رکھنے کا کوئی جواز نہیں، طالبان خواتین کی آزادی اظہار پر اسلامی حد بندیوں میں جائز انسانی اصولوں ، مساوات اور اظہار رائے کی آزادی میں ایک توازن رکھنے کے امکانات کو ضرور ملحوظ رکھیں تاکہ افغان عورت جدید عہد کے تقاضوں کی تکمیل میں اپنے حقوق کے غصب ہونے کی شکایات کے ازالے کی کوششں سے مطمئن ہو، چنانچہ عالمی برادری افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے غیر روایتی اقدامات پر بھی زور دے تاہم وہ بہرطور ماضی کی غلطیاں دہرانے سے بچے اور مثبت روابط جاری رکھے۔

افغانستان میں امن واستحکام پاکستان کے براہ راست مفاد میں ہے۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ افغانستان کے اندر فعال دہشت گرد عناصر سے موثر انداز سے نمٹا اور مہاجرین کے ایک نئے بحران سے بچا جائے۔ عالمی برادری ہنگامی بنیادوں پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ پاکستان نے افغان عوام کی سہولت کے لیے پہلے ہی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ اجلاس میں شریک غیرملکی مندوبین سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

توقع ہے عالمی برادری ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے، افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی نہیں دہرائے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے متعلق بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں طالبان کو مدعو کریں گے، جسے قائل کرنا ہے اسے میز پر لانا ہوگا تاکہ ان کے تحفظات کو بھی سنا جا سکے۔ افغانستان میں امن کے گلوبل اور علاقائی فوائد ہوں گے اور اگر بگاڑ پیدا ہوا ، پاکستان متاثر تو ہوگا لیکن آپ بھی بچ نہیں پائیں گے۔

عالمی قوتوں کو ادراک کرنا ہوگا کہ افغانستان ایک موقع ہے امن و سیاسی مشاورت اور اتحاد و یکجہتی کا، اگر اس موقع کو ضایع کیا گیا تو دنیا کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہوگا، اس انتباہ میں کوئی مبالغہ نہیں، بلکہ خیر خواہی ہے ، اس لیے تمام اسٹیک ہولڈرزکو امن و مفاہمت کے لیے ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلانے کی روایت قائم کرنا ہوگا۔شاہ محمود قریشی اور افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان وزارت خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا طالبان افغانستان کے اندر اور باہر امن مخالف عناصر پر کڑی نظر رکھیں۔

افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے عالمی سطح پر کوششیں جاری ہیں لیکن ضرورت دنیا کے متحدہ اقدامات اور افغان عوام کے انسانی بحران کے سدباب میں ابھی مزید کوششوں کی ضرورت ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو طالبان کو تنہا ہجوم کے اندیشے سے نکالنا ناگزیر ہے، اس انبوہ کثیر کو ایک ریاست شناخت کی اشد ضرورت ہے، دنیا طالبان میں اپنائیت کو فروغ دے کر اور انھیں ساتھ لے کر چلنے کے امکانات پیدا کرکے ہی بنیادی تبدیلیوں کو ممکن بناسکتی ہے۔

طالبان ، کو نئے پڑوسی بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے ، انھیں مالی مسائل درپیش ہیں، دنیا اپنے وعدوں میں مخلص ہے، اور طالبان کو بھی حکومتی تعلقات اور سفارتی سطح پر اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو پھیلانے کے لیے امن اور سیاسی روابط کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے دوستی کے نئے میثاق قائم کرنا ہونگے، یہ عہد نئی دوستیوں کے امکانات پیدا کرنے کا ہے، طالبان سے کہا گیا کہ وہ اقوام عالم میں اپنی شناخت کو یقینی بنائیں، خطے میں ہمسائیگی کے مضبوط روابط بنائیں، سفارت کاری کو انسانی رشتوں کے فروغ میں مثالی حوالوں سے یادگار بنائیں، طالبان کو ایک نئے زمانے کے ساتھ چلنا ہے۔

یہ دنیا افغانستان کو سیاسی و ثقافتی طور پر خطرات سے دور دیکھنے کی خواہاں ہے، سیاست اور معیشت طالبان کو ایک مستحکم ریاستی تعمیر میں مدد دے سکتے ہیں لیکن افغانستان کو عالمی کمٹمنٹس کا ساتھ دینا ہوگا، طالبان دنیا کو اس کی ضرورتوں کے مطابق برتنے کی خو ڈالے تاکہ سیاست میں امکانات کے ہنر سے اپنی سیاست کو بہتر انداز سے سیاسی اور انسانی معاملات کو مثالی بنانے کے اہداف تک رسائی حاصل کرسکے۔ انھی مشترکہ مقاصد کو ساتھ لے کر اعلامیے کو عملی شکل دینے کی صورت گری کی گئی ہے، امید ہے کہ دنیا بلاشبہ ایک مثبت شکل میں افغانستان کا خیر مقدم کرنے کا انتظار کرے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔