شکست کی ٹھوکر سے شیرازہ نہ بکھر جائے، بابر کو فکر ستانے لگی

عباس رضا  ہفتہ 13 نومبر 2021
ہمارا ایک یونٹ بن چکا اسے ٹوٹنا نہیں چاہیے، کوشش جاری رکھیں نتائج خود بخود ہی آئیں گے۔ فوٹو: آئی سی سی

ہمارا ایک یونٹ بن چکا اسے ٹوٹنا نہیں چاہیے، کوشش جاری رکھیں نتائج خود بخود ہی آئیں گے۔ فوٹو: آئی سی سی

 لاہور:  بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سیمی فائنل میں شکست کے بعد فکر ستانے لگی۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم کو سیمی فائنل میں بھی فیورٹ قرار دیا جا رہا تھا، گرین شرٹس نے اچھا مجموعہ بھی اسکور بورڈ پر سجا دیا مگر میتھیو ویڈ نے آخری لمحات میں حیران کن اننگز کھیل کر گرین شرٹس کی امیدوں پر پانی پھیر دیا،حسن علی کی کمزور بولنگ اور بعد ازاں 19ویں اوور میں ڈراپ کیچ نے کینگروز کا سفر آسان کردیا،مس فیلڈنگ اور رن آؤٹس کے مواقع بھی ضائع ہوئے۔

کپتان بابر اعظم نے میچ کے دوران غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ کوشش بھی کی کہ ایک شکست کی ٹھوکر سے ٹیم کا شیرازہ نہ بکھرنے پائے،سیمی فائنل کے بعد انھوں نے ڈریسنگ روم میں پلیئرز سے خطاب کیا جس کی ویڈیو پی سی بی نے سوشل میڈیا پر جاری کی۔

بابر نے پہلے ٹیم مینجمنٹ کا شکریہ ادا کیا، پھر کہا کہ سب کو معلوم ہے ہم نے کہاں غلط کیا اور کہاں بہتر کرنا چاہیے تھا،ہم بطور ٹیم اچھا نہیں کھیلے، ہمیں اس سے سیکھنا ہے، کوئی کسی پر انگلی نہ اٹھائے اور یہ نہ کہے کہ اس نے ایسا کردیا  یا ویسا کردیا، ہماری ٹیم ایک یونٹ بن چکی اس کو ٹوٹنا نہیں چاہیے، کپتان ہونے کے ناطے میں سب کو بیک کرتا ہوں، ہم ہار گئے ہیں کوئی مسئلہ نہیں، دکھ تو ہوا مگر یہ وقت ایک دوسرے کو حوصلہ دینے کا ہے،ہم اس شکست سے سبق سیکھتے ہوئے آئندہ کرکٹ میں یہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ تمام میچز میں ہر کھلاڑی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، کسی بھی کپتان کو اپنی ٹیم سے یہی توقع ہوتی ہے،ہمارا بہترین ماحول رہا، ٹیم بڑی مشکل سے جڑتی اوراس میں وقت لگتا ہے،ہمیں اسی ماحول کو برقرار رکھنا ہے، کوشش اور محنت جاری رکھیں تو نتائج خود بخود ہی آئیں گے۔

قبل ازیں میچ کے بعد میڈیاکانفرنس میں کپتان نے کہا کہ ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں اچھا کھیل پیش کیا مگر سیمی فائنل کا دن مایوس کن رہا، ہم نے اچھے رنز بنائے تھے تاہم اچھی طرح میچ کو ختم نہیں کرسکے، مجھے پورا اعتماد ہے کہ ہم اپنی عمدہ کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھیں گے، کیچ ڈراپ نہ ہوتے تو شاید صورتحال کچھ اور ہوتی، ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں گے۔

حسن علی کے اہم کیچ چھوڑنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ پیسر ہمارے اہم بولر ہیں،انھوں نے کئی میچز جتوائے ہیں، ان کو پورے ٹورنامنٹ میں اعتماد دیتے رہے ہیں، پرفارمنس نہ ہونا آپ کے ہاتھ میں نہیں، ہم صرف پوری محنت کرسکتے ہیں، حسن تھوڑی مایوسی کا شکار ہیں تاہم ہم ان کا حوصلہ بڑھائیں گے، امید ہے آگے جاکر وہ پرفارم کریں گے۔

کپتان نے کہا کہ ہم نے صورتحال کے مطابق اسپنرز آزمائے،شاداب خان نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، گرین شرٹس کو پورے ٹورنامنٹ میں شائقین نے بہت سپورٹ کیا، ٹیم بھی اس ماحول سے لطف اندوز ہوئی۔

کھلاڑیوں سے بات کرتے ہوئے کوچنگ پینل کے سربراہ ثقلین مشتاق نے کہا کہ اب کھلاڑیوں میں دوستی کی فضا مزید بہتر اور ایک دوسرے پر اعتماد زیادہ ہونا چاہیے، اچھے تجربات کو دہرانا اور غلطیوں کو سدھارنے کیلیے محنت کرنا ہے،سیکھتے ہوئے یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔

بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن نے کہا کہ ہم سیمی فائنل ہار گئے مگر کارکردگی پر فخر ہونا چاہیے،محمد رضوان اور شاداب خان نے بہترین پرفارم کیا،اپنے سر اٹھاکر رکھیں،جو اچھا کیااس کو جاری رکھیں جو غلطیاں ہوئیں ان کو بھی نہ بھلائیں بلکہ بہتری لانے کیلیے انفرادی اور ٹیم کے طور پر کام کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔