اقبال؛ ایک آفاقی شاعر اور عالمی مفکر

انجینئر مسعوداصغر کمالی  اتوار 14 نومبر 2021

اردو اور فارسی ادب میں بیسویںصدی کو اگر اقبال کی صدی کہا جائے تو ہرگزکوئی مبالغہ نہیں۔ان کی شاعری اور تحریروں نے تمام ہندوستان میں ایک نیاجوش اور ولولہ پیدا کیا۔

تحریکِ آزادی کے دوران بڑے سے بڑاجلسہ ایسا نہ ہوتا خواہ وہ ہندوؤں کا ہو یا مسلمانوں کا جہاں ان کی کوئی قومی نظم،شعریا ترانہ نہ پڑھا جاتا ہو۔1930میں آل انڈیا مسلم لیگ الہ آباد کے اجلاس کی علامہ ڈاکڑمحمد اقبالؒ نے صدارت کی جس میں آپ نے ہندوستان کے اندر شمال مغربی علاقوں (پنجاب،سرحد، سندھ، بلوچستان) کوایک واحد ریاست میں تبدیل کرنے کا جو تفکر پیش کیا اس کا منشاء انھوں نے یہ بیان کیا تھا کہ یہاں مسلمان اکثریت میں ہیں، اس لیے ان کو اپنی سیاست اور معیشت میں دین اسلام کے آفاقی اصولوں کو عملی جامہ پنہانے کا موقع ملے گا اس طرح سے دنیا ایسے نمونے کا مشاہدہ کرے گی جس سے انسانوں کے مادی مسائل،عدل اور انصاف کے ساتھ حل ہوں گے اور اس اجلاس کو پاکستان کے تصور کی اساس کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اقبال واقعتا ایک آفاقی شاعر اور عالمی مفکر ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح ؒخود علامہ اقبالؒ کی طرح بہت بلندنظر،ہر قسم کے تعصبات سے آزاد،نہایت عالی دماغ اور روشن خیال مدّبر تھے۔یہ بھی بڑا عجیب اتفاق ہے کہ بانی پاکستان محمد علی جناحؒ اور تصور پاکستان کے خالق محمد اقبالؒ ہم عصر ہیں،جناح 25 دسمبر1876کو کراچی میں اوراقبال 9نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

اقبال کا خاندان سیالکوٹ کا کشمیری مسلمان تھا،ابتدائی تعلیم انھوں نے سیالکوٹ میں حاصل کی، ابتداء میں والدین نے مکتب میں بیٹھادیاتھاپھرانھیں اسکاچ مشن اسکول میں شریک کروایا ۔اسکول کے زمانے سے ہی اقبال کی شاعری کا سلسلہ شروع ہوا۔ سیالکوٹ سے انٹر کرنے کے بعد لاہور آکر گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ۔اے،ایم ۔اے کیا۔ بی۔ اے میں آپ کے مضامین انگریزی،فارسی اور فلسفہ تھے، آپ نے ایم ۔اے فلسفے میں کیا۔

1899 میں پنجاب یونیورسٹی میں عربک ریڈر کے منصب پر فائز ہوئے ریسرچ فیلو سے عملی زندگی کا آغاز کیا اور اسی سال آپ نے اپنا پہلا تحقیقی مقالہ’’عبدالکریم الجبلی کے نظریہ توحید مطلق اورانسان ‘‘ پر لکھا جو ستمبر 1900میں شایع ہوا۔1903 میں ’’علم الاقتصاد‘‘پراردو میں کتاب مرتب کی جو 1904میں طباعت ہوئی اور اسی زمانے میں اقبال گورنمنٹ کالج لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر ہوئے۔ اقبال کی پہلی مشہور نظم ’’ہمالہ‘‘1901 میں شایع ہوئی۔

1904 میں اقبال نے ایبٹ آباد میں خطبہ دیا ’’قومی زندگی‘‘ کے عنوان سے ،اقبال کا یہ خطبہ ’’مخزن‘‘ کے نام سے اسی سال شایع ہوا۔ 1905 تک آپ کی کئی نظمیں مثلا تصویر درد، نیاشوالہ، سرگزشت آدم،ہمارا دیس، ترانہ ہندی، جگنو، قومی گیت سے ان کی دھوم مچ گئی۔انھی دنوں آپ کو بیرونِ ملک تعلیم کے لیے جانے کا شوق پیدا ہوا اور آپ کی نظم’’نالہ فراق‘‘اسی شوق کی ترجمانی کرتی ہے۔

آپ 1905 سے 1908 تک انگلستان اور جرمنی میں رہے۔آپ نے کیمبرج،ہا ئیڈل برگ،میونخ کی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔دورانِ قیام آپ کی تحریر کردہ نظموںمیں محبت، پیام، طلبہ علی گڑھ کے نام،چاندتارے،کوشش نا تمام، پیامِ عشق اور ان کی مشہور غزل’’زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہوگا‘‘تخلیق ہوئیں۔یہاں سے آپ نے ڈاکٹریٹ اور بیرسٹری کی سند لی۔اقبال 27 جولائی 1908 کو واپس لاہور پہنچ کر اپنے آبائی شہر سیالکوٹ چلے گئے اور پھر لاہور واپس آکر اپنی وکالت شروع کی۔

1911 میں دیا جانے والا لیکچر جو علی گڑھ مسلم کالج میں دیا تھا جس کا عنوان’’ملت بیضا پر ایک عمرانی نظر‘‘یہ لیکچر انگریزی میں دیا تھا۔1912 میں انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسے میں اقبال نے اپنی نظم ’’شمع و شاعر‘‘ پڑھی۔ اس کے بعد اقبال نے قطعی طور پر محسوس کرنا شروع کیا کہ قوموں کی اساس روحانی ہو تو انسانوںکا مستقبل بہتر ہوسکتا ہے۔اقبال مذہب اسلام اور قرآنِ کریم کی تعلیمات کی روشنی میں ہی مسلمانوں کے بہت سے مسائل کا حل تصور کرتے تھے۔ اقبال کا اہم ترین پیام اور مسلم قومیت کا نظریہ اس طرح پیش کیا ہے کہ:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

ان کی جمعیت کا ہے ملکوں و نسب پر انحصار

قوتِ مذہب سے ہے مستحکم جمعیت تیری

اس رباعی میں نہ صرف فکر کی بلندی ہے بلکہ تقا بل ِ قومیت بھی اور دینی حکم بھی ہے مسلمانوں کے لیے وہ صرف مذہب کی قوت ہے جو ان کو متحد رکھ سکتی ہے کہ اپنی ملت یا قوم کو دوسری اقوام اور امتوں سے تقابل نہ کریں۔

1915میں اسرارِ خودی،جیسی عمدہ اور اعلیٰ مثنوی تحریر کی جو اقبال کے فکری نظریئے کی ترجمان ہے، ان کے استاد نکلسن نے اس مثنوی کا کچھ سال بعدانگریزی میں ترجمہ کیا ۔1918میں رموزِ بیخودی کی اشاعت ہوئی ان مثنویوں سے اقبال کا فلسفہ حیات واضح ہوگیا، یہ فارسی زبان میں ہیں اور یہ مولانا روم کی طرز پر ہیں۔اسرارِ خودی انفرادی زندگی پر اور رموزبیخودی اجتماعی زندگی پر اسلامی نقطہ نظر سے احاطہ کرتیں ہیںجوگوئٹے کے دیوان کا جواب بھی تھا۔

ان کے کلام کا پہلا اردو مجموعہ 1924 میں ’’بانگ درا‘‘ کے عنوان سے شایع ہوا،اس میں اقبال کی’’ خضرراہ‘‘اور ’’طلوعِ اسلام‘‘ جیسی نظمیں بھی موجود ہیں۔1927 میں اقبال کا فارسی میں ’’زبور عجم‘‘ کے کلام کی اشاعت ہوئی۔ ان کی شاعری اور تفکر سب انسانوں کے لیے ہے۔ 1929 میں جاوید نامہ منظر عام پر آیایہ بھی فارسی میں ہے،ان کا ’’جاوید نامہ‘‘ جوڈانتے کی ’’ڈیوائین کامیڈی‘‘کی یاد دلاتا ہے اور اگر دیکھاجائے تو وہ ڈانتے کے کام سے کہیں ذیادہ معتبراور مؤثر ہے۔تمام اعلیٰ انسانی اقدار کا آئینہ دار ہے۔

1930 میں اقبال کے چھ لیکچرز انگریزی میں شایع ہوئے جن کا عنوان ’’اسلام کے جدید افکار کی تشکیلِ نو‘‘تھا۔اس مجموعے کے اندر ساتواں خطبہ 1934 میں شامل کیا گیا یہ مجموعہ گویا بیسویں صدی کے اوائل تک جو مغرب جدید تھا اس کی روشنی میں اسلام کا جدید علم کلام ہے اس وقت تک اس سے بہتر کتاب اسلامی افکار کے بارے میں وجود میں نہ آسکی کہ جس کے اندر جدید سائنسی اور فلسفیانہ خیالات کو سمو کر اسلام کے عقائد اور نظریات اور عبادات نے زندگی کے نظام کو پیش کیا گیا۔

1926 میں سیاست میں قدم رکھا اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور تین سال اسمبلی میں رہے پھر اس کو خیرباد کہہ دیا جس کی وجہ آپ کا مزاج تھا جو کہ روزمرہ کی سیاست سے مناسبت نہیں رکھتا تھا۔1931 میں اقبال گول میز کانفرنسوں میں شریک ہوئے جہاں انھوں نے ’’جاوید نامہ‘‘سے منسلک ایک لیکچر دیا، واپسی میں انھوں نے اسپین کا دورہ کیا مسجدِ قرطبہ بھی گئے اور یہاںانھوں نے اپنی شہرہ آفاق نظم’’مسجدِ قرطبہ‘‘ کے عنوان سے لکھی۔1933 میں ’مسافر‘، 1935 میںبالِ جبریل، اور 1936 میں ’ضربِ کلیم‘ منظرعام پر آئیں۔

1936 میں اردو نظم’’ابلیس کی مجلسِ شوری‘‘ شایع ہوئی،یہ نظم ان کے مجموعہ کلام’’ارمغان حجاز‘‘ میں موجود ہے جو 1938 میںشایع ہوئی۔اقبال کی شاعری میں تفکر اور تصور کی آمیزش ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی شمع کی طرح بنالی اور آنے والی نسلوں کے لیے اجالا کرگئے۔21اپریل 1938 کو شاعرمشرق حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؒرحلت فرماگئے۔

علامہ اقبال کے فکری خطوط جو انھوں نے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو لکھے تھے وہ بھی قراردادِ پاکستان اور قیامِ پاکستان میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور انھی خطوط میں انھوں نے بہت اہم باتوں کی نشاندہی کی جوقائداعظم ؒ کے لیے مددگار ثابت ہوئیں اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ پیش گوئیاں درست بھی ہوئیں اور انھی خطوط سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ ہندوستان میں ایک وفاق نہیں چل سکتا بلکہ دو وفاق قائم ہوناضروری ہے۔1940 میں مسلم لیگ نے بالاخر بہت غور و خوص کے بعد اس تجویز کومنظور کرلیا اور اس تجویز کو ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کہا جاتا ہے۔

علامہ اقبال کے خطوط کا پہلا ایڈیشن 1943 کو منظر عام پر آیا اس کی رونمائی کے موقع پرقائداعظمؒ نے فرمایا ’’اقبال آج ہم میں نہیں ہیں مگر وہ ہمیشہ زندہ رہیں گئے اور اس بات پر خوش ہوں گئے کہ وہ جو چاہتے تھے وہ پورا ہوا۔‘‘ پاکستان زندہ باد!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔