’’ سرخ سلام ‘‘ کا ایک دیو مالائی کردار (آخری حصہ)

زاہدہ حنا  بدھ 17 نومبر 2021
zahedahina@gmail.com

[email protected]

کراچی کے پولیس لاک اپ اور سینٹرل جیل میں رہنا، لاہور قلعے میں رہنے سے مختلف بات رہی ہوگی کیونکہ لاہور قلعہ اس وقت دہشت ناک سی آئی ڈی اور انٹیلجنس بیوروکا مرکز بنا ہوا تھا۔

حسن ناصر ، جیل حکام کے احکامات کی مزاحمت کرسکتے تھے لیکن لاہور قلعے میں ایسے مطالبات مزاحمت کے زمرے میں آتے تھے، جس کا مفہوم یہ تھا کہ سرکش قیدی کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے مزید تشدد اور ایذا رسانی کی ضرورت ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حسن ناصر نے یہاں خاموشی اختیار کر لی ہوگی اورکچھ بولنے اور اعترافِ جرم سے گریز کیا ہوگا۔

ایک قیدی ہمیشہ خاموش رہ (یا تشدد سے بے ہوش ہوکر خاموشی میں چلا جاتا ہے) سکتا ہے، جب اس سے بلوانا مقصود ہو تو وہ خاموشی اختیار کرکے اپنے تفتیش کاروں کی طاقت کو چیلنج کرسکتا ہے۔ قیدی اپنے اوپر موت سے مشابہت رکھنے والی خاموشی طاری کرلیتے ہیں جو اس کے جسم کے لیے آخری خطرہ ہوتی ہے۔ اس خاموشی کے جواب میں اکثر ایذا رسانی کی شدت میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔

تاہم ، اس معاملے میں خاموشی ، اعتراف جرم اور بامعنی زبان میں بیانیے کی عدم موجودگی کے مترادف تھی۔ اس لیے تشدد کا مقصد یہ تھا کہ جس قیدی کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ تکلیف اور اذیت کے باعث قابلِ سماعت آوازیں نکال سکے۔ کیا اس کی خاموشی کا تقاضہ یہ تھا کہ ریاستی اداروں کی جانب سے ناصر کے جسم پر کیے جانے والے تشدد کو شدید ترکردیا جائے تاکہ تشدد ایذا رسانی اور تفتیش کے ذریعے اس کے مخصوص جسم کے اندر موجود ’’ پرا گندگی و خرابی‘‘ کو ختم کرکے اسے مطیع اور اطاعت شعار بنایا جائے اور اس عمل کے ذریعے آبادی کے ایک بڑے حصے کے ذہنوں میں خوف پھیلا دیا جائے؟تاہم،  تشدد میں اضافہ تفتیشی طریقوں کی ناکامی کا بھی مظہر ہے اور اس عمل کے دوران موت کا واقع ہونا پورے دائرے کو ہی مکمل طور پر توڑ دیتا ہے۔

ان حوالوں سے حسن ناصر کی موت ، اس کے رفیقوں اور خاندان کا نقصان تھا لیکن یہ خود تشدد و ایذا رسانی کی ایک آخری حد بھی بن گئی ، ایک بولنے والا جسم جس سے امکانی طور پر اعتراف جرم بھی کرایا جاسکتا تھا اب دنیا میں موجود نہیں تھا۔

کامران نے ’’ زندگی چھین لی گئی‘‘ کے ذیلی عنوان میں حسن ناصرکی زندگی کے آخری دنوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کا آغاز حسن ناصر کے ایک خط کے اقتباس سے ہوتا ہے جو انھوں نے اپنی والدہ کے نام لکھا تھا۔

’’میں ہندوستان چلا گیا تھا لیکن اپنی جلاوطنی ختم ہونے کے بعد واپس آگیا۔ میرے خاندان کی زمینیں اور دولت مجھے وہاں روک نہیں سکی۔ میری پارٹی بھی مجھے نہ روک سکی، میرے خاندان والوں نے ان سے کہا تھا کہ میں وہیں کام کروں۔ میں وہاں رہنا کیوں نہیں چاہتا تھا ؟ یہ بات نہیں ہے کہ میں انڈیا کو پسند نہیں کرتا۔ آخر میں وہیں پیدا ہوا تھا اور اس کی زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کو کھا کر بڑا ہوا تھا۔

ایسی جگہ سے میں کس طرح نفرت کر سکتا ہوں ؟ لیکن یہ وہ جگہ نہیں ہے جہاں مجھے جدوجہد کرنا ہے، یہاں وہ مزدور نہیں ہیں جن کے ساتھ میں رہتا، سیکھتا اور جنھیں سوشل ازم پڑھاتا تھا۔ وہ سب یہاں ہیں ، کراچی میں۔ وہ ہندوستان میں نہیں ہیں۔ یہی وہ بات جس کی وجہ سے میں واپس آیا ہوں کیونکہ میں یہاں رہوں گا اور آپ بھی ایسا کریں گے ، ہماری قبریں بھی اسی زمین پر بنیں گی۔ ‘‘

19 نومبر 1960کی ایک روشن شام تھی۔ میجر محمد اسحٰق لاہور آرٹس کونسل میں فیض کے کمرے میں داخل ہوئے۔ فیض بہت پریشان نظر آرہے تھے۔ انھوں نے اسحٰق کو اپنے ساتھ ریستوراں چلنے کے لیے کہا۔ جب چائے پیش کی جارہی تھی تو فیض نے آہستگی سے بات کرتے ہوئے اسحق سے پوچھا کہ کیا ان کو معلوم ہے کہ لاہور قلعے میں کون قید ہے؟ اسحق ہچکچائے اور پھر انھوں نے جواب میں کہا کہ جو شخص قید ہے وہ حسن ناصر ہے۔ اسحق کو بھی قلعے میں ایک ماہ تک قید میں رکھنے کے بعد اکتوبر میں رہا کردیا گیا تھا۔ وہاں قید کے دوران ان کی کسی قیدی سے ملاقات یا بات نہیں ہوئی تھی تاہم ، جیل کے ایک سپاہی نے انھیں بتایا تھا کہ یہاں کراچی کا کوئی قیدی آیا ہوا ہے جس سے  تفتیش کی جارہی ہے اور یہ محض ایک قیاس تھا۔

مغل دور کا قلعہ ، لاہور فورٹ میں برطانوی عہد سے ایسی جگہیں اور قید خانے موجود تھے جن میں ایسے افراد کو قید اور بسا اوقات تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا جن کو ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ کے تحت گرفتارکیا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد اس قلعے کو سی آئی ڈی کے حوالے کر دیا گیا تھا جس نے انھیں جگہوں پر تفتیش کے لیے خصوصی علاقے مخصوص کردیے۔ یہاں تقریباً 20عقوبت خانے تھے۔ لاہور قلعہ ، لاہور کے رہنے والوں کے لیے ایک تفریحی اور سیاحت کی جگہ ہے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین اور عجائب گھرکے اہلکار آج بھی ان کال کوٹھریوں سے نکلنے والی ہولناک و خوفناک چیخوں کا ذکرکرتے ہیں جو 1988تک یہاں سنائی دیتی تھیں۔ 1988 میں اس قلعے کا زیادہ تر علاقہ وفاقی محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کردیا گیا تھا۔

فیض نے اپنا سر ہلایا اورکہا کہ لاہور قلعہ میں واقعتا حسن ناصر قید ہے اور اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ اسحق کو لاہور قلعہ کے بارے میں اچھی طرح علم تھا ، ان کو وہاں دو مرتبہ قید رکھا گیا تھا۔ وہ پہلی بار 1958میں وہاں دس دن قید رہے تھے اور اس کے بعد ان کو ستمبر ، اکتوبر 1960 میں وہاں قید رکھا گیا تھا ، وہ وہاں کے حالات کو جانتے تھے۔ ان کی ملاقات ان لوگوں سے ہو چکی تھی جنھیں پولیس کا ایک شعبہ ، کر منل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) تشدد کا نشانہ بنا چکا تھا۔ یہ محکمہ داخلی سلامتی کا ذمے دار تھا۔ اسحٰق نے راولپنڈی سازش کیس کے تحت ملنے والی سزا کے دوران قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت شروع کردی تھی۔ انھوں نے لاہور ہائی کورٹ میں حسن ناصرکی حالت معلوم کرنے کی غرض سے حبس بے جا کی ایک اپیل داخل کی تھی ۔

اس اپیل کے نتیجے میں لاہور ہائی کورٹ نے 22نومبر کو ایک فیصلہ صادر کرتے ہوئے زیر حراست قیدی کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ اسحق یہ فیصلہ سیکریٹری داخلہ کو پہنچانے فوراً روانہ ہوگئے جس کے دائرہ اختیارمیں پولیس اور جیل خانے کے محکمے کام کرتے تھے۔

ڈپٹی سیکریٹری داخلہ جن پر اس نوٹس کی تعمیل کرائی گئی تھی وہ کچھ دیر کے لیے اپنے کمرے سے باہر گئے۔ تھوڑی دیر بعد انھوں نے واپس آکر بڑے پُر سکون انداز میں اسحق کو بتایا کہ حسن ناصر کو سیکیورٹی ایکٹ آف پاکستان کے تحت 6 اگست 1960 کوکراچی سے ایک سال کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ انھیں تفتیش کے لیے لاہور لایا گیا تھا۔ ڈپٹی سیکریٹری کے مطابق انھیں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حسن ناصر خود کو ازار بند سے لٹکا کر خود کشی کرچکے ہیں۔

حسن ناصرکی موت کی خبر محمد اسحق کی پٹیشن داخل ہونے تک جاری نہیں کی گئی تھی۔ بعد ازاں، یہ مقدمہ تین ہفتوں تک جاری رہا اور پولیس نے یہی اصرارکیا کہ حسن ناصر نے اپنے پاجامے کے ایک لمبے ازار بند کے ذریعے خود کوکوٹھری کے ایک آنکڑے سے لٹکا کر خود کشی کی ہے۔ اس اقدام کے بارے میں حکومت کے وکیل کی جانب سے فوری وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ حسن ناصر اپنی والدہ کا خط پڑھنے کے بعد شدید صدمے سے دوچار ہوگئے تھے جس میں ان کے والد کی گرتی ہوئی صحت کا تذکرہ کیا گیا تھا۔

دسمبر 1960 کو، حسن ناصر کی والدہ بیگم زہرہ علم بردار حسین حیدرآباد ہندوستان سے لاہور پہنچیں۔ ان کی خواہش تھی کہ قبرکشائی کے وقت وہ موقع پر موجود رہیں اور شناخت کے بعد بیٹے کی میت کو اپنے ساتھ ہندوستان لے جائیں۔ میانی صاحب قبرستان لاہور میں 12 دسمبر کو حسن ناصر کا جسم نکالنے کے لیے قبر کشائی کی گئی جس کے بعد بیگم حسین نے عدالتی حکم کے تحت ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں سرد موسم کے باوجود قبر سے نکالا گیا جسم انتہائی گلی ہوئی حالت میں تھا جس کی شناخت ممکن نہیں تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھتیں کہ وہ جسم حسن ناصرکا تھا۔ انھوں نے جسم وصول کرنے سے انکار کردیا لہٰذا اسے دوبارہ تدفین کے لیے انارکلی پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا گیا۔ ماں اپنے بیٹے کے بغیر واپس لوٹ گئی۔

اب کسی سمت اندھیرا نہ اجالا ہوگا

بجھ گئی دل کی طرح، راہ وفا میرے بعد

’’سرخ سلام‘‘ کوئی پڑھنا چاہے تومکتبۂ دانیال،کراچی سے حاصل کرسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔