گیس نہیں ہے، آنیوالے دنوں میں بحران ہوگا، مشیر تجارت

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 18 نومبر 2021
برآمدات میں 30 فیصد اضافہ اہم، نومبر میں تاریخی ایکسپورٹ ہوگی، میٹ دی پریس
 (فوٹو: فائل)

برآمدات میں 30 فیصد اضافہ اہم، نومبر میں تاریخی ایکسپورٹ ہوگی، میٹ دی پریس (فوٹو: فائل)

 کراچی: وفاقی مشیر تجارت نے دعوی کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گیس بحران پر میں پریشان ہوں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ گیس نہیں ہے۔

کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کے دوران رزاق داؤد نے کہا کہ ایران کے ساتھ بارٹر سسٹم پر تجارتی معاہدہ تقریباً طے ہوگیا ہے جس کے تحت پاکستان سے ایران چاول برآمد کیا جائے گا اور ایران سے ایل پی جی درآمد کی جائے گی۔ سی پیک کو منجمد نہیں کیاگیا، پاکستان کی مارکیٹوں میں چینی سرمایہ کاری ہورہی ہے لیکن ہم انھیں برآمدی شعبوں میں لے جانا چاہ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مالی مسائل کی وجہ سے بار بار آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کیلیے رجوع کرنا پڑ رہاہے۔فی الوقت برآمدات میں30 فیصد کا اضافہ بہت اہم ہے۔ آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات میں گذشتہ 4 ماہ میں 35 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ رواں مالی سال مجموعی برآمدات کا ہدف 38 ارب 70 کروڑ ڈالر حاصل کرلیں گے۔ امریکا میں برآمدات کو بڑھانے کے لیے اگلے ہفتے نائجیریا جارہا ہوں۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان درآمدات پر ٹیکس لینے والا دنیا کا بڑا ملک ہے، خام مال کی درآمد پر ٹیکسوں میں کمی کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ جو صنعتیں بجلی پیدا کرنے کے لیے گیس استعمال کررہی ہیں ان کی گیس منقطع نہیں ہوگی۔ گندم ، چینی ، پام آئل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی درآمدات بھی مسئلہ ہیں۔ پاکستان میں درآمدی سطح پر 47 فیصد جبکہ بھارت اور بنگلا دیش میں 27 فیصد ٹیکس لیا جاتا ہے۔

دریں اثنا وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار رزاق داؤد نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل ٹریڈ اینڈ انڈسٹرئل فیئر میں بیلاروس کے ساتھ معاہدہ اہمیت کا حامل ہے اس معاہدے کے ذریعے ملک میں جدید تعلیم کو فروغ حاصل ہوگا۔

17 ویں آئی ٹی آئی ایف کے دوسرے روز حنید لاکھانی کی یونیورسٹی اور بیلا روس کے اداروں کے درمیان 3 معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والی 3 روزہ 17 ویں آئی ٹی آئی فیئر کے دوسرے روز مقامی تاجروں اور غیر ملکی مندوبین نے کشیر تعداد میں شرکت کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔