قول و فعل میں تضاد کتنا ہے

عابد محمود عزام  جمعـء 19 نومبر 2021
 قول و فعل کا تضاد ہمارا ایک بڑا مسئلہ اور معاشرے کے لیے تباہ کن خصلت ہے

قول و فعل کا تضاد ہمارا ایک بڑا مسئلہ اور معاشرے کے لیے تباہ کن خصلت ہے

قول و فعل کا تضاد ہمارا ایک بڑا مسئلہ اور معاشرے کے لیے تباہ کن خصلت ہے۔ یہ تضاد ہی سماج کو برباد کردیتا اور برائی کو فروغ دیتا ہے۔ ایک سچے مسلمان کا عمل مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے قول و فعل میں مطابقت ہونی چاہیے ، وہ جو کہے، وہی کرے۔ دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، جو صرف باتیں نہیں، بلکہ عمل کرتی ہیں اور ان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ جن افراد اور اقوام کے ارادے صرف با توں تک محدود ہوں، ان میں عمل نہ پایا جاتا ہو، انھیں کبھی کامیابی نہیں ملتی ۔ انھیں رسوائی ملتی ہے۔

ان کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے اور دنیا میں ان کا مذاق کیا جاتا ہے۔ قول و فعل میں تضادکو اگرمنافقت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ منافقت یہی تو ہے کہ دِل ودماغ میںجو سوچ ہو، زبان سے اْس سوچ کا برعکس اظہار کیا جائے۔ قول و فعل کا تضاد ہمیں بحیثیت قوم پستی کے اس مقام تک لے آیا ہے ، جس سے نکلنا بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔ اسلام میں قول و فعل کے تضادکی مذمت بڑے واضح انداز میں کی گئی ہے۔

اہل ایمان کو نہ صرف اس سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے، بلکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے بہت بڑی ناراضگی کا باعث بھی ہے۔یہ بات اللہ تعالی کو سخت ناپسند ہے کہ انسان جن باتوں سے دوسروں کو تو روکتا ہے، لیکن اس پرخود عمل نہیں کرتا۔ آج ہمارا حال بھی یہی ہے کہ ہم باتیں کچھ کرتے ہیں اور ہمارا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے، لیکن دوسروں کی اصلاح کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

ہمارے قول و فعل میں تضا د کتنا ہے

مگر یہ دل ہے کہ خوش اعتقاد کتنا ہے

(مرتضیٰ برلاس)

آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ہم اس سے جہاں اپنے کئی مقاصد حاصل کرتے ہیں، وہیں اپنی اور معاشرے کی اصلاح کاکام بھی لیا جاسکتا ہے۔ برائی میں کمی لاسکتے ہیں اور اچھائی کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ہم بہت سی نصیحت آموز اور اچھی اچھی باتیں شیئر ضرور کرتے ہیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان باتوں پر خود عمل نہیں کرتے۔ عملی زندگی میں ان اچھی اچھی باتوں کا اثر ہماری اپنی ذات پر کہیں دور دور تک بھی دکھائی نہیں دیتا۔ ہر اچھی بات ہم صرف دوسروں کے عمل کے لیے بیان کرتے ہیں اور خود اس پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ ہمارے ہاں شاید نصیحت کرنے کا عام رواج ہے، لیکن عمل کے آگے قفل ہیں۔ یہی قول و فعل کا تضاد ہے۔ اس کااثر انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی اور حکومتی سطح تک محیط ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے، جوقول و فعل کے تضاد سے دوچار نہ ہو۔ قول و فعل کا تضاد ہر جگہ نظر آتا ہے اور ان منافقانہ رویوں کا سامنا ہمیں ہر میدان میں کرنا پڑتا ہے۔

قول و فعل کا تضاد ہمارے معاشرے کا نمایاں المیہ اور ہمارے زوال کا اہم سبب ہے۔ ہم اخلاص سے خالی اور دکھلاؤے کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ہمارا ہرعمل اغراض و مفادات کے پردوں میں چھپا ہوتا ہے۔ ہماری عبادات ، معاملات ، معیشت و تجارت، لین دین کے پیمانوں میں دو رخی اور جھوٹ شامل ہوتا جارہا ہے۔ ہمارا دین ہمیں دوسروں سے خیرخواہی کا درس دیتا ہے، لیکن ہم دوسروں کی زندگی اجیرن بنا کر خوش ہوتے ہیں۔

ہم ساری دنیا پر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں، لیکن خود اچھا مسلمان بننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم دعوے کچھ کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں ان دعوؤں پر عمل نظر نہیں آتا۔ ہم دوسروں کو سمجھاتے ہیں کہ راستہ روک کر دوسروں کو تکلیف میں مبتلا کرنا اور کسی بھی شخص کی املاک اور جان و مال کو نقصان پہنچانا گناہ اور جرم ہے، لیکن اپنے کسی مطالبے کے حصول کے لیے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بھی بلاک کرتے ہیں۔ عوام کی املاک کو جلانے اور توڑنے پھوڑنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

ہم خود کو سچا مسلمان قرار دیتے ہیں، لیکن اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہر برائی ہم میں موجود ہے۔ ہر چیز میں ہم ملاو ٹ کرتے ہیں، اس ملاوٹ سے کوئی بیمار ہوجائے یا کسی کی جان چلی جائے۔ معاشرے کو جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے ، وہ بازار سے غائب کردیتے ہیں تاکہ مہنگے داموں فروخت کی جائے۔ایمانداری میں ہمارا ملک پچھلی صفوں میں ہوتا ہے اور دھوکا دہی، مکر و فریب اور بدعنوانی میں ہم پہلی صفوں میں نظر آتے ہیں۔

ہم لوگ رشوت کو اپنا حق سمجھ کر لیتے ہیں۔ جس کا جتنا اور جہاں بس چلتا ہے، دولت سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے، یہ چاہے حلال ذریعے سے ہو یا حرام ذریعے سے، کسی کا حق مار کے حاصل کی جائے یا کسی کو دھوکا دے کر یا نقصان پہنچا کر حاصل کی جائے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ملازم تنخواہ پوری لیتا ہے اور ڈیو ٹی پوری نہیں کرتا۔ آفیسرز اپنے ماتحتوں کو بلاوجہ تنگ کرتے ہیں۔ طاقتور کمزوروں پر ظلم کرنا اور انھیں تنگ کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔

ہم اختلاف رائے کی وجہ سے دوسروں پر گھناؤنے الزام لگا کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ مسلکی اور دیگر عصبیتوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں پالتے ہیں۔ بہت جلد برداشت کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بات پر لڑ پڑتے ہیں۔ معاشرے میں عورتوں اور بچیوں تک کی عزتیں محفوظ نہیں۔ بچوں کو اغوا کر کے بیچ دیتے ہیں۔ عورتوں کو وراثت میں ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ جہیز کے نام پر عورتوں پر ظلم کرتے ہیں، ہر قسم کا نشہ معاشرے میں عام ملتا ہے۔

بدکاری، چوری، ڈاکے کرنے والے افراد بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ مجرموں کو سزا دینے والے افراد ہی انھیں تعاون فراہم کرتے ہیں۔ اقتدار اعلیٰ سے لے کر چھابڑی والے تک لوگ اپنے اختیار کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ملک کی باگ ڈور سنبھالے سیاست دانوں سے لے کر معاشرے کی اخلاقی و مذہبی تربیت کے ذمے دار علمائے کرام تک کوئی بھی ٹھیک سے اپنی ذمے داری پوری نہیں کر رہا۔

جھوٹ، مکر، فریب، غیبت ، بخیلی، تنگ دلی، ناانصافی، فضول گوئی، بے صبری، خودنمائی، خود ستائی، دروغ گوئی، وعدہ خلافی، رازکی سبوتاژی، دشنام طرازی، لڑائی جھگڑے، آبروریزی، ایذارسانی، نفرت، ظلم، غصہ، تخریب کاری، چغل خوری، حرام کاری، کام چوری، ہٹ دھرمی، ناپ تول میں کمی، حرص ، ریاکاری اور منافقت سمیت ہر برائی کی ہم مذمت کرتے ہیں، لیکن یہی تمام برائیاں ہم میں پائی جاتی ہیں۔

اس سب کچھ کے باوجود ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سچے مسلمان ہیں، اگر ہم سچے مسلمان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں قول و فعل کا تضاد کو ختم کرنا ہوگا اور زندگی میں قدم قدم پر اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرنا ہوگی۔ ہمیں اپنے قول و فعل میں ہم آہنگی پیداکرنا ہوگی۔ قول وفعل کا تضاد ہمیں پاکیزگی سے دور کر دیتا ہے۔ قول و فعل میں مطابقت زندگی میں سکون لاتی ہے اور ہمیں کامیابیوں سے نوازتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔