دین ، ٹیکنالوجی اور اقدار

ڈاکٹر نوید اقبال انصاری  جمعـء 19 نومبر 2021
apro_ku@yahoo.com

[email protected]

مسجد میں جمعہ کا خطبہ ہو رہا تھا ، امام صاحب ایک ہاتھ میں نئے ماڈل کا موبائل فون لیے اسے دیکھتے جاتے اور خطبہ پڑھتے جاتے۔ ہمارے ایک دوست نے نماز کے بعد امام صاحب کے اس عمل پر تنقید کی۔ ہمارا کہنا تھا یہ تو ایک اچھا عمل ہے اس سے تو آنے والے نمازیوں پر اچھا اثر پڑے گا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال نیک کاموں میں اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کو ایک چاقو کی مثال دے کر کہتے ہیں کہ اس سے پھل بھی کاٹا جا سکتا ہے اور ہاتھ بھی۔

ہمارے دوست نے کہا کہ نہیں معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے، ٹیکنالوجی اقداری ہوتی ہے ، غیر اقداری نہیں۔ یعنی ٹیکنالوجی جب درآمد ہوتی ہے تو اپنے ساتھ اقدار ( ویلوز) بھی لاتی ہے۔ فرض کریں نماز جمعہ میں آنے والا بچہ اپنے والد سے ضد کرتا ہے کہ اسے بھی موبائل چاہیے تو ایک باپ کیسے سمجھائے گا کہ بیٹا آپ کے لیے یہ اچھی چیز نہیں، بچہ تو مولوی صاحب کی مثال دے کر کہے گا کہ مولوی صاحب بھی تو استعمال کرتے ہیں ، میں بھی اس سے اچھی اور ثواب حاصل کرنے کی چیزیں حاصل کروں گا۔ اب اگر باپ کہتا ہے کہ ابھی تم چھوٹے ہو تو دوسرا بیٹا جو بڑا ہو تو اس کے لیے پھر کیا دلیل ہوگی؟ یہ سب جانتے ہیں کہ بڑے ہوں یا چھوٹے جو بھی موبائل استعمال کرتے ہیں وہ صبح و شام اس موبائل سے صرف ثواب حاصل نہیں کرتے، بین الااقوامی ریٹنگ میں جن ممالک میں سب سے زیادہ فحش چیزیں دیکھی جاتی ہیں ، ان میں پاکستان کا شمار ٹاپ کے تین ملکوں میں ہوتا ہے۔

مسجد میں تصاویر اور میوزک قطعاً ممنوع ہوتا ہے مگر دوران نماز موبائل سے گانوں کی دھنوں والی آواز سنائی دینا کوئی غیر معمولی بات نہیں ، اسی طرح مسجد میں بہت سے لوگ اپنا موبائل چیک کرتے ہیں اور اسکرین آن ہوتے ہی ہر قسم کی تصاویر نظر آنے لگتی ہے ، گو کہ یہ عمل غلطی سے ہوتا ہے مگر مسجد کا تقدس تو پامال ہوتا ہے ، ذرا تصور کیجیے یہ غلطی اگر اس امام صاحب سے ہوجائے جو ممبر پر خطبہ پڑھ رہا ہے تو پھر؟ بات یہ نہیں کہ ہم غلط ہیں، بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی اپنے ساتھ اقدار بھی لاتی ہے اور جہاں سے یہ آرہی ہیں وہاں فحش و عریانیت کے کلچر کو اقدار اور کلچر کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ مساجد سادگی کا نمونہ ہوتی تھیں پھر ترقی ٹیکنالوجی کی شکل میں مساجد میں تیزی کے ساتھ آتی چلی گئیں اور ہماری مساجد کا رنگ و روپ ہی بدل گیا۔ یوں وہ مساجد جو سادگی کا نمونہ ہوتی تھیں اور مسجد میں آنے والے نمازیوں کے لیے ہی نہیں ، مسافروں کے لیے بھی چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھی، اس ترقی اور ٹیکنالوجی کو اپنانے کے بعد تقریباً اٹھارہ گھنٹے بند رہنے لگی ہیں، ایسی مساجد کے باہر لکھا ہوتا ہے کہ جماعت کے آدھے گھنٹے بعد مسجد بند کردی جائے گی، لیکن آج بھی ان مساجد میں جہاں یہ ترقی اور ٹیکنالوجی داخل نہیں ہوئی ، مساجد نہ صرف چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہیں بلکہ آنے والے مسافروں کے لیے ٹھہرنے، بیت الخلاء کے استعمال کرنے اور دیہی علاقوں میں تو بستروں کے علاوہ کھانے پینے کی سہولت بھی میسر ہوتی ہے۔

شہری علاقوں میں آپ کسی مسجد کی انتظامیہ سے پوچھیں کہ جناب یہ مسجد چوبیس گھنٹے کیوں نہیں کھلی رہتی؟ تو جواب ملے گا کہ قیمتی اشیاء کے چوری ہونے کا خدشہ ہوتا ہے، گویا با الفاظ دیگر اب مسجد کا بنیادی مقصد قیمتی اشیاء کو چوری ہونے سے روکنا ہے ، نماز کی سہولت فراہم کرنا نہیں۔ مسئلے کا حل تو یوں بھی نکل سکتا ہے کہ جہاں کسی مسجد میں نصف درجن خادم ہوتے ہیں وہاں ایک خادم کی ذمے داری صرف گیٹ پر لگا دی جائے اور مسجد کے دروازے چوبیس نہیں ، تو کم از کم دن کے اوقات میں ہی کھلے رکھے جائیں مگر ایسا نہیں ہوتا کیونکہ ٹیکنالوجی اقداری ہوتی ہے اور اس کی اقدار غیر دینی ہے۔

ہمارے ہاں جب وی سی آر نیا نیا متعارف ہوا تھا تو بہت سے لوگوں کا موقف تھا کہ یہ تو ’’غیر اقداری‘‘ ٹیکنالوجی ہے یعنی کسی چاقو کی طرح ہے ، جیسا چاہے استعمال کرو ، پھل کاٹو یا کسی کا ہاتھ۔ حالانکہ یہ موقف درست نہیں تھا ، ایسا ممکن ہی نہیں تھا کہ ٹیکنالوجی کے ساتھ اقدار یا کلچر نہ آئے ، چنانچہ جب پاکستان میں وی سی آر عام ہوا تو اس کا استعمال پڑھنے اور تعلیم سے متعلق نہ ہونے کے برابر تھا مگر گھر گھر اس ٹیکنالوجی کی بدولت لوگ انڈین فلمیں رات بھر دیکھتے تھے، حد تو یہ ہے کہ لیڈ ( پرانے ٹی وی انٹینا کی تار) لگا کر ایک وی سی آر سے چلنے والے فلمیں پورے محلے کے گھروں میں دیکھنے کا بندوبست ہوتا تھا یوں ہر گھرانہ محض دس ، پندرہ روپے دے کر رات بھر مزے سے چار انڈین فلمیں دیکھتا تھا۔ یہی کچھ اس وقت ہوا جب کیبل نشریات کی سہولت گھروں میں پہنچنے لگی۔

وہ گھرانے جو کبھی انڈین فلمیں نہ تو دیکھتے تھے اور نہ ہی دیکھنے والوں کو پسند کرتے تھے، انھوں نے بھی جب اپنے گھر میں کیبل نشریات کی سہولت حاصل کرلی تو شروع میں یہی کہا کہ ہمارے ہا ں تو ’’نیشنل جیوگرافک‘‘ چینل دیکھا جاتا ہے لیکن آج ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہمارے گھروں میں کون کون سے چینلز دیکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح جب پاکستان میں ٹیلی ویژن متعارف ہوا تو ہم کہنے لگے کہ یہ تو بڑے ہدایت کی چیز ہے، شام کی نشریات تو کیا رات کی نشریات کا اختتام بھی اللہ کے کلام پاک سے ہوتا ہے اور تفریحی پروگرام بھی نیکی کا درس دینے والوں کی شمولیت کے بغیر نہیں ہوتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی نے بھی ثابت کردیا کہ یہ ’’غیر اقداری‘‘ نہیں ہے۔

آج جیسے ہی میڈیا کو آزادی ملی، ابتدائی میڈیا کا کردار تاریخ کا افسانہ بن گیا، آج اس معاشرے کے لوگ جن تفریحی ڈراموں اور دیگر پروگراموں کو دیکھ رہے ہیں ان کے بارے میں کم و بیش سب کی ایک ہی رائے ہے کہ یہ ہمارے معاشرے کے کلچر سے تعلق نہیں رکھتے، ان میں دکھائی جانے والی ’’ اقدار‘‘ ہمارے معاشرے کی قطعی عکاسی نہیں کرتے۔ پیمرا میں عوام کی جانب سے ان پروگراموں خاص کر ڈراموں کے خلاف ہزاروں شکایتیں بھری پڑی ہیں کہ یہ چینلز کونسی اور کس معاشرے کی تہذیب دکھا رہے ہیں؟ بات یہ ہے کہ یہ اسی معاشرے کی تہذیب اور اقدار پیش کر رہے ہیں جہاں سے یہ ٹیکنالوجی آئی ہے کیونکہ مغربی ٹیکنالوجی جہاں جاتی ہے وہاں اپنا کلچر بھی لے کر جاتی ہے۔

یہ تو ہماری سادگی ہے ، ناسمجھی ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھی ترقی کرنی ہے تو ہم مغربی ٹیکنالوجی درآمد کرلیں، کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جن معاشروں میں ترقی درآمد (امپورٹ) ہوتی ہے ، وہاں سے مذہب برآمد (ایکسپورٹ) ہوجاتا ہے۔ یہی صورتحال مغرب میں پیش آئی کہ ٹیکنالوجی اور ترقی کی آمد نے مذہبی معاملات کو معاشرے سے بدر کر دیا، صرف فحش قسم کی ویب سائٹس سے امریکا اور برطانیہ ہر سال اربوں ڈالر کما کر سر فہرست ہو جاتے ہیں اور شرمندہ تک نہیں ہوتے کیونکہ اس پر شرمندہ ہونے کا تصور مذہب دیتا ہے ، جو ترقی اور ٹیکنالوجی کے آتے ہی ایکسپورٹ ہوگیا۔

بہرکیف ہمارے دوست کی یہ باتیں بھلی ہوں یا بری ، کافی وزنی ہیں، آئیے! غور کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔