عدل و انصاف کا حکم

مولانا حافظ عبدالرحمن سلفی  جمعـء 19 نومبر 2021
عدل کے معنی حق دار کو اس کا پورا حق ادا کر دینا ہے فوٹو : فائل

عدل کے معنی حق دار کو اس کا پورا حق ادا کر دینا ہے فوٹو : فائل

فرمان باری تعالی کا مفہوم: ’’اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ اﷲ تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے۔ بے شک اﷲ سنتا (اور) دیکھتا ہے۔‘‘ (النساء)

عدل کے معنی حق دار کو اس کا پورا حق ادا کر دینا ہے۔ اسلام میں عدل و انصاف پر بہت زور دیا گیا ہے چوں کہ یہ وہ وصف ہے جسے اپنانے والی اقوام سربلندی و سرفرازی سے ہم کنار ہوتی ہیں اور جن معاشروں میں اس گوہرِ گراں مایہ سے محرومی پائی جاتی ہے وہ رُو بہ زوال ہو کر تباہی و بربادی سے دوچار ہوجاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں عدل و انصاف کے قیام پر بے انتہا زور دیا گیا ہے۔ بہ حیثیت مسلمان ہم پر لازم ہے کہ ہم اﷲ رب العالمین کے احکامات اور رحمۃ للعالمین ﷺ کے ارشادات عالیہ پر کماحقہ عمل پیرا ہوں اور جب اﷲ اور اس کے حبیب رسولؐ کسی بات میں فیصلہ کر دیں تو انہیں بغیر چُوں و چرا تسلیم کرلیں اور انہی احکامات کی روشنی میں اپنے معاشرے میں صحیح معنوں میں عدل و انصاف کو جاری کریں۔

مالک کائنات نے اہل ایمان کو تاکیداً فرمایا کہ جب بھی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو عدل و انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ یعنی اگر کوئی حکم راں یا منصب قضا پر فائز ہے یا پنچایت کا سربراہ‘ اسی طرح برادری کا بڑا ہو علیٰ ہذالقیاس کوئی بھی شخص کسی بھی لحاظ سے انصاف کرنے کی حیثیت میں ہو تو اسے چاہیے کہ وہ فریقین کے دلائل‘ حالات و واقعات اور شہادتوں یا اقرار کی صورت میں ٹھیک عدل کرے اور مظلوم کو اس کا پورا حق دلائے اور ظالم و غاصب کے خلاف قرآن و سنّت کی روشنی میں تادیبی کارروائی کرے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ محض حق دار کو اس کا حق دلا دینا ہی کافی نہیں بل کہ اس حق کو غصب یا پامال کرنے والے ظالم کو کیفر کردار تک پہنچانا بھی لازم ہے تاکہ عدل کے تمام تقاضے پورے ہوسکیں۔ اسی طرح اس آیت مبارکہ میں آگے فرمایا کہ دیکھو یہ معاملہ اﷲ کے نزدیک اس قدر حساس ہے کہ اس بارے میں تمہارا مالک تمہیں خوب نصیحت کرتا ہے تاکہ تمہارے دلوں میں اس حکم کی عظمت راسخ ہوجائے اور یہ گمان مت کرنا کہ تم اس دھرتی پر جو کچھ کرتے ہو اﷲ کو اس کی خبر نہیں۔ تم سرگوشی کرو یا دل و دماغ میں کوئی بات سوچو اﷲ تعالیٰ تمہارے دلوں کی بات بھی سنتا ہے اور جو کچھ ظاہری یا درپردہ اعمال کرتے ہو انہیں بھی اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔

درحقیقت عدل و انصاف ایسا عالی وصف ہے جو کسی بھی قوم یا معاشرے کو استحکام عطا کرتا اور بقا کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور انصاف بھی ایسا ہو جو سب کے لیے یکساں ہو۔ یہ عدل نہیں کہ اگر کوئی امیر آدمی جُرم کرے تو اسے چھوڑ دیا جائے جب کہ غریبوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں جیسا کہ ہمارے معاشرے میں دکھائی دیتا ہے اور یوں کہا جاتا ہے کہ قانون بنایا ہی اس لیے جاتا ہے تاکہ اسے توڑا جائے اور سب سے زیادہ قانون شکنی وہی لوگ کرتے ہیں جو صاحب جاہ و منصب اور مال دار ہیں۔ حالاں کہ اسلامی معاشرے میں ایک عام آدمی سے لے کر امیر تک سب احکامات شرعیہ کے پابند ہوتے ہیں۔

جرم کوئی بھی کرے اسے اس کی سزا مل کر ہی رہنی چاہیے۔ آپؐ نے فرمایا، مفہوم: ’’اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اسی بات نے ہلاک کیا کہ ان میں سے جب کوئی بااثر فرد چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کم حیثیت والا چوری کرتا تو اس پر حد قائم کرتے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’اگر فاطمہ بنت اسد کی جگہ آج فاطمہؓ بنت محمّد (ﷺ) بھی اس جرم میں گرفتار ہوتیں تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘ (بخاری و مسلم)

امام کائنات ﷺ نے دنیا کے سامنے عدل و انصاف کی وہ روشن مثال قائم فرمائی جو رہتی دنیا تک کے لیے مشعل راہ ہے۔ یقیناً عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ حق دار کو پورا حق ادا کر دیا جائے اور ظالم کو اس کے جرم کی صحیح سزا ملے تاکہ مظلوم کے جذبۂ انتقام کو بہ ذریعہ قانون تسلی و تشفی ہو، وگرنہ معاشرے میں جرم در جرم ہوتے رہیں گے اور لوگ انصاف نہ ملنے پر قانون خود اپنے ہاتھوں میں لے لیں گے۔ اسلام مکمل عدل کی ہدایت کرتا ہے اور ظلم سے روکتا ہے ۔

مجرم کو بس اسی قدر سزا دی جاسکتی ہے جو اس نے جرم کیا ہے اس سے زاید سزا ظلم کے زمرے میں آئے گی جس کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جیسا کہ خالق کائنات نے اپنی آخری کتاب ہدایت میں عدل و انصاف کے بارے میں فرمایا، مفہوم: ’’اے ایمان والو! اﷲ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو اور لوگوں کی دشمنی تمہیں ا س بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیز گاری کی بات ہے اور اﷲ سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ اﷲ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔ (المائدہ) ’’اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتے دار ہی ہو اور اﷲ کے عہد کو پورا کرو۔‘‘ (الانعام)

ان آیات مبارکہ سے عدل و انصاف کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ یہ عمل کس قدر حساس اور لازم ہے کہ اس کے تقاضوں کو اﷲ کے ڈر خوف کے ساتھ انجام دیا جائے اور اگر عدل کرتے ہوئے اپنا قریب ترین عزیز رشتے دار بھی اس کی زد میں آ رہا ہو تو رشتوں کی پروا کیے بغیر عدل کے تقاضوں کو پورا کیا جائے اور ہر طرح کے تعلق‘ سفارش یا رشوت جیسی لعنتوں کو پائے استحقار سے ٹھکرادیا جائے تاکہ منصف بارگاہ ایزدی میں سُرخ رُو ہو اور مظلوم کی داد رسی ہو اور مقتدر صاحب ثروت یا اقتدار اور دولت کے نشے میں چُور لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ ظلم و تعدی سے باز رہیں۔ اور ایسا تبھی ہو سکتا ہے جب بے لاگ انصاف ہو ‘ جو آج ہمارے معاشرے میں مفقود ہے جس کی وجہ سے ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے‘ اور ہم قوموں کی برادری میں بے وزن ہو کر رہ گئے ہیں۔

عدل کرنے کو اﷲ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے۔ مفہوم: ’’اور انصاف کرو بے شک اﷲ انصاف کرنے والوں سے محبّت کرتا ہے۔‘‘ (الحجرات) گویا عدل کرنا حب الٰہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ حقیقی مسلمان کسی پر ظلم و زیادتی سے بہت دور رہتا ہے ۔ اس کی انصاف پسندی کو ہوائے نفس اور دنیاوی کوئی خواہش و شہوت ڈگمگا نہیں سکتی اور انہی صفات کی وجہ سے وہ اﷲ کی محبت‘ رضا‘ اعزازات و انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے۔ مفہوم: ’’انصاف کرنے والے اﷲ کے نزدیک نُور کے منبروں پر ہوں گے وہ جو اپنے فیصلوں‘ اہل و عیال اور جو ان کی حکم رانی میں ہوں‘ میں انصاف کرتے ہیں۔‘‘ (مسلم) امام کائنات ﷺ نے فرمایا کہ سات طرح کے انسانوں کو قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ اپنے سایے میں جگہ دے گا جب کہ اس کے سایے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا ان میں ایک امام عادل یعنی انصاف کرنے والا حکم ران یا قاضی ہے۔

عدل کے بہت سے مظاہر ہیں جن میں ایک حقیقی مسلمان نمایاں ہوتا ہے۔

(1) سب سے پہلے اﷲ تعالیٰ کا حق ہے کہ ا س کے ساتھ عدل کیا جائے یعنی اس کی عبادات و صفات میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ اس کا شکر ادا کیا جائے اور کفران و ناشکری سے بچا جائے۔ اس کی اطاعت کی جائے اور نافرمانی سے بچا جائے، اسے یاد رکھا جائے اور کسی حال میں بھی بھلایا نہ جائے۔ بدقسمتی سے انسانیت نے ہمیشہ اس معاملے میں ناانصافی سے کام لیا اور اﷲ کی مخلوقات کو اس کا ساجھی قرار دیا۔

مفہوم: ’’ بے شک شرک سب سے بھاری ظلم ہے۔‘‘ (سورۃ لقمان )

(2) لوگوں کے فیصلے میں انصاف یعنی ہر حق والے کو اس کا پورا حق ملے اور اس کی داد رسی ہو۔

مفہوم: ’’آپ (ﷺ) کہہ دیجیے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ (الاعراف) عدل و انصاف لوگوں کے درمیان اس انداز میں کرنا کہ کافر و مسلم کی بھی تمیز روا نہ رکھی جائے اگر کافر حق دار ہے تو اس کو اس کا حق دلایا جائے۔ امام کائنات ﷺ نے کسی رُو رعایت کے بغیر محض دلائل و براہین کی روشنی میں فیصلہ فرمایا تھا۔

(3) بیویوں اور اولاد میں انصاف یعنی ان میں برابری کی جائے اور کسی کے ساتھ دوسرے کے مقابلے پر برتری و ایثار کا سلوک روا نہ رکھا جائے۔

(4) بات میں عدل یعنی جھوٹ نہ بولے کذب اور باطل سے پرہیز کرے۔

(5) عقائد و نظریات میں عدل یعنی حق اور سچائی کو تسلیم کیا جائے۔ خلاف حقیقت اور خلاف واقع باتوں کو دل میں جگہ نہ دی جائے۔

(6) فیصلے میں خواہش نفس‘ عصبیت اور دشمنی آڑے نہیں آنی چاہیے۔ عدل کا یہ اتمام جس معاشرے میں ہوگا وہاں امن، سکون اور اﷲ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو گا۔

عدل و انصاف کرنے والی اقوام دنیا میں عروج حاصل کرتی ہیں اور ان کے معاشرے میں امن و استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ عدل کی بے شمار مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ فیصلے میں انصاف کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ نفوس میں اس سے اطمینان و سکون پھیلتا ہے۔ عدل، استقامت کی طرح انسان کے لیے بہت بڑی فضیلت اور کردار کی بلندی کی علامت ہے۔

اس کی بہ دولت اس کے حامل کو اﷲ کی حدود پر ٹھہراؤ حاصل ہوتا ہے اور وہ فرائض کی ادائی میں سستی اور کمی سے محفوظ رہتا ہے اور عبادت کے کسی جزو میں افراط کا شکار بھی نہیں ہوتا۔ عدل سے ’’وصف عفت‘‘ کو جلا ملتی ہے جس کے نتیجے میں مسلمان حلال پر اکتفا اور حرام سے اجتناب کرنے کا عادی ہو جاتا ہے۔ اور جب یہ وصف کسی قوم کا مجموعی مزاج بن جائے تو پھر انہیں دنیاوی لحاظ سے بھی عروج حاصل ہوتا اور آخرت کی کام یابی و کام رانی بھی ان کا مقدر بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس جن معاشروں میں اﷲ اور اس کے بندوں کے درمیان عدل نہیں ہوتا۔ وہ گم نامی و ذلت کی گہری کھائیوں میں جاگرتی ہیں۔ سیّدنا علیؓ کا فرمان ہے کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ قومیں عدل کی بنیاد پر مستحکم ہوتی ہیں اور ظلم و تعدی انہیں برباد کر دیتے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ اور اس کے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اﷲ ﷺ نے ہر حال میں عدل و انصاف کے احکامات دیے ہیں اور قوموں کی بقا کی ضمانت بھی اسی وصف عالیہ میں مضمر ہے۔ آج ہمارے ہاں عدل و انصاف کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں اور ہر طرف ظلم و تعدی کا بازار گرم ہے۔ اگر ہم اپنی قوم کا استحکام اور بقا چاہتے ہیں تو ہمیں اسلامی نظام عدل پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔ وگرنہ ذلت و رسوائی اور تباہی و بربادی ہمارا مقدر ہوگی۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کو عدل و انصاف کی توفیق مرحمت فرمائے تاکہ ہمارا ملک مستحکم و ترقی یافتہ ہو اور ہر طرف امن و اطمینان کی فضا قائم ہو۔ آمین

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔