خواجہ معین الدین

محمد مکرم علی صدیقی  اتوار 21 نومبر 2021
 جن کی تخلیقات کا مقصد حُب الوطنی کا فروغ اور انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام تھا ۔ فوٹو : فائل

جن کی تخلیقات کا مقصد حُب الوطنی کا فروغ اور انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام تھا ۔ فوٹو : فائل

ڈرامے اور تھیٹر پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فنونِ لطیفہ کی یہ صنف تقریباً دو ہزار سال پرانی تاریخ رکھتی ہے۔ پہلے زمانے میں تھیٹر میلوں میں دکھائے جاتے تھے، نوٹنکی ہوا کرتی تھی یا اسٹیج پر کھیل دکھائے جاتے تھے، جن میں لوگ سامنے بیٹھ کر دیکھتے اور لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ شروع میں کبھی مذہبی موضوعات پر، کبھی شخصیات پر لکھے ہوئے ڈرامے پیش کیے جاتے تھے۔ پھر وقت اور ترقی کے ساتھ ساتھ دیگر معاشرتی موضوعات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی۔

اوّل اوّل مغربی ممالک میں تھیٹر کا رواج تھا پھر جب فرنگیوں نے ایشیا کا رخ کیا تو انھوں نے یہاں بھی اپنی ثقافتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تھیٹر اور اسٹیج پر کھیل دکھانے کا رواج آہستہ آہستہ مقبول ہونے لگا۔

برصغیر پاک و ہند میں مقامی لکھنے والوں نے دل چسپی لینا شروع کی اور پارسی تھیٹر کمپنیوں کے تحت ڈرامے دکھائے جانے لگے۔

ریاست اودھ کے حکم راں واجد علی شاہ کے ’’رادھا کنہیا‘‘ کو اردو کا پہلا ڈراما اور اُنھیں پہلا ڈراما نگار کہا جاتا ہے۔ پھر آغا امانت کا نام آتا ہے۔ غیرمنقسم ہندوستان میں اردو ڈرامے انیسویں صدی کے دوسرے عشرے سے شروع ہوئے اور اپنے دل چسپ موضوعات اور پیش کش کی بدولت بتدریج مقبول ہوتے چلے گئے۔ اس میدان میں بڑے بڑے لکھاریوں نے قسمت آزمائی کی اور اپنی جگہ بنائی مگر کچھ لوگ ہمیشہ کے لیے ڈراما نگاری کے میدان میں اپنے سکّہ جمانے میں کامیاب ہوئے جن میں آغا حشر کاشمیری، امتیاز علی تاج اور خواجہ معین الدین شامل ہیں۔

خواجہ معین الدین 23 مارچ 1924کو حیدرآباد دکن جیسی مردم خیز سرزمین پر پیدا ہوئے۔ ان کا زمیںدار گھرانے سے تعلق تھا۔ حیدرآباد (دکن) کی ریاست ہندوستان کی تہذیب یافتہ اور مالی طو پر سب سے زیادہ مستحکم ریاستوں میں سرِفہرست تھی جس کی اپنی ایک علمی و ادبی پہچان تھی۔ خواجہ معین الدین نے قیامِ پاکستان کے بعد جب پاکستان ہجرت کی تو عثمانیہ یونی ورسٹی کی تربیت اور حیدرآباد کی تہذیب و ثقافت بھی ساتھ لائے۔ خواجہ صاحب ڈراما نگاری کا آغاز پاکستان بننے سے قبل ہی کرچکے تھے۔

خواجہ معین الدین کے ڈراموں کا مقصد حب الوطنی کو فروغ اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل تھا۔ کاتبِ تقدیر نے انھیں بہت مختصر زندگی عطا کی تھی۔ اس قلیل مدت میں انھوں نے ایسے شاہ کار ڈرامے تخلیق کیے کہ آج بھی ان ڈراموں کی مقصدیت برقرار ہے اور اس کے مکالمات زندہ ہیں۔ ایسا زندگی سے بھرپور ڈراما نویس جس نے پاکستان جیسے نوزائیدہ ملک کے مسائل کو دل سے محسوس کیا ہو اور ان کو دردمندی کے ساتھ ڈرامائی شکل میں پیش کیا ہو، نظر نہیں آتا۔ ان کی انفرادیت ہی یہی تھی کہ وہ سادہ الفاظ استعمال کرتے، سادگی سے پیش کرتے، سادہ سی کاسٹ ہوتی اور سادہ ہی سیٹ ہوا کرتے تھے۔

مگر اس سادگی میں جو پُرکاری تھی جو پیغام تھا، جو جذبۂ حب الوطنی تھا، وہ اب مفقود ہے۔ نہ آج کل کی طرح انتہائی قیمتی سیٹ لگائے جاتے، نہ کوئی ناچ گانا دکھایا جاتا، نہ کوئی کسی خاتون کردار کو شامل کرکے ڈرامے کی رنگینی میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جاتی بلکہ اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش ہوتی جس کو حل کرنا مقصود ہوتا۔

خواجہ صاحب ایک ہمہ جہت شخص تھے، وہ اپنے ڈرامے کے ہدایت کار، مصنف، سیٹ ڈیزائنر اور پروڈیوسر بھی خود ہی ہوتے۔ جس زمانے میں وہ ڈرامے لکھ کر اسٹیج کیا کرتے تھے، وہ سستا زمانہ تھا، دولت کی ریل پیل نہیں تھی اور عوام کا ذوق بھی اعلیٰ تھا۔ وہ اچھی تفریح کو سراہتے تھے۔ اس لیے ’’تعلیمِ بالغاں‘‘ (1954ء) ’’لال قلعے سے لالوکھیت‘‘ (1952ء ) ’’مرزا غالب بندر روڈ پر‘‘، ’’زوالِ حیدرآباد‘‘ جیسے فکرانگیز اور پُراثر ڈراموں نے عام قاری پر اثر کیا۔ بظاہر مزاح کی چاشنی میں ڈوبے ہوئے یہ کھیل اپنے اندر درد و الم، معاشرتی پستی اور اخلاقی گراوٹ کی داستانیں لیے ہوئے ہیں۔

سقوطِ حیدرآباد پر لکھا گیا ڈراما ’’زوالِ حیدرآباد‘‘ ہو یا ’’لال قلعے سے لالو کھیت‘‘ جیسا ڈراما جو ہجرت کے کرب اور مہاجرین کے مسائل پر مبنی ہے جس میں ایک نئے وطن کے حصول کی خوشی کے ساتھ نوزائیدہ حکومت کو درپیش مسائل کو جس خوب صورتی سے پیش کیا گیا ہے، وہ قابلِ تعریف ہے۔ ’’لال قلعے سے لالو کھیت تک‘‘ خواجہ صاحب کی زندگی میں ہی 150 مرتبہ دکھایا جاچکا تھا۔

اسی طرح ’’مرزا غالب بندر روڈ پر‘‘ جیسا لطیف مزاح اور برجستہ مکالموں سے لبریز ڈراما، خاص طور پر اس کے کردار اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اگر ’’تعلیمِ بالغاں‘‘ کی بات کی جائے تو الفاظ کم پڑ جاتے ہیں کہ کس کس پہلو پر گفتگو کی جائے۔ ’’تعلیمِ بالغاں‘‘ میں ایک مفلوک الحال استاد کو بالغ شاگردوں کو پڑھاتے ہوئے دکھایا گیا جن میں قصائی، حجام، وکٹوریہ چلانے والا، دھوبی اور دودھ والا شامل ہیں۔ اس ڈرامے میں استاد و شاگرد کے درمیان بظاہر سادہ سے نظر آنے والے مکالمات اتنے ذومعنی اور گہرائی لیے ہوئے ہیں کہ سامع سن کر عش عش کر اٹھتا ہے۔

اس کھیل کا ایک ایک جملہ قابلِ تعریف ہے۔ ’’تعلیمِ بالغاں‘‘ اب تک 300 مرتبہ اسٹیج پر دکھایا جاچکا ہے۔ اس کا موضوع، کردار، سیٹ ڈیزائن، جان دار مکالمات، پیش کش، غرض ڈراما کیا ہے ایک خودغرض اور مفاد پرست معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر ہے جس میں اپنے وطن کے بانی کے اصولوں سے انحراف سے لے کر اختیارات کے ناجائز استعمال کو جس عمدگی، مہارت اور سچائی کے ساتھ طنز و مزاح کے پیراے میں پیش کیا گیا وہ خواجہ صاحب کی دور اندیشی، سیاسی سوجھ بوجھ کا نتیجہ ہے اور ایسے تحریر وہی کرسکتا ہے جو باشعور ہو، باضمیر ہو، وطن کی محبت سے سرشار ہو اور صحیح بات کو عوام تک پہنچانے کا عزمِ صمیم رکھتا ہو۔

اور ماشاء اللہ خواجہ معین الدین میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ ماضی کے تجربے، حال کی صورتِ حال دیکھتے ہوئے مستقبل کی پیش گوئی کردیا کرتے تھے تو غلط نہ ہوا۔ ہمارے معاشرے کو ایسے ہی صاحبِ فکر و نظر ادیبوں اور ڈراما نگاروں کی ضرورت ہے جن کے پاس بصارت کے ساتھ بصیرت بھی ہو۔ علم کے ساتھ فکر بھی ہو، جس کا مقصد معاشرتی اصلاح ہو جو اپنے الفاظ سے اپنے فہم و دانش سے کام لینا جانتے ہوں، جنھیں الفاظ کی قدر و قیمت کا انداز ہو۔

خواجہ معین الدین بنیادی طور پر ایک مدرّس تھے اور انھوں نے بہادر یار جنگ اسکول بھی قائم کیا تھا اس لیے تعلیم کے ساتھ تربیت کرنا بھی ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا تھا۔ شاگردوں کے ساتھ وہ عوام کی اصلاح کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے تھے اور اس کے لیے انھیں فنونِ لطیفہ سے بہتر پلیٹ فارم میسر نہیں آسکتا تھا۔ لہٰذا انھوں نے اپنے اس جذبہ اصلاح کو ڈراموں کے پیرائے میں پیش کرنا مناسب جانا۔ اور ان کا یہ فیصلہ یقیناً درست تھا۔ ان کے ڈراموں نے بہرحال لوگوں کو شعور دیا، سوچنے پر مجبور کیا، اپنے حقوق پر آواز اٹھانا سکھایا، ان ہی کی وجہ سے اب بہت سارے نااہل سیاست داں اپنے ’’ووٹ کے واؤ‘‘ کے ذریعے اسمبلیوں تک رسائی نہ پا سکے۔

یہی ایک استاد کی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ قوم کے نونہالوں کو ایک باشعور اور کارآمد شہری بننا سکھاتا ہے۔ خواجہ صاحب کے قائم کیے ہوئے اسکول کے طالب علموں میں بی بی سی کے معروف براڈ کاسٹر رضا علی عابدی، دانشور غازی صلاح الدین، مصور، فن کار و ادیب انور مقصود، شریف کمال عثمانی اور لاتعداد ایسے شاگرد ہیں جو اپنے ملک کے قابلِ فخر سپوت ہیں۔

خواجہ معین الدین کی ایک خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ انھیں اچھے دوستوں کا ساتھ میسر آیا جن کے ساتھ ان کے شب و روز گزرتے تھے۔ اپنے زمانے کے معروف شاعر، مورّخ، ادیب اور دانش ور ان کے حلقہ ارادت میں شامل تھے۔ اس لیے ان کی ہر تحریر میں کمال کی جزئیات نگاری نظر آتی ہے۔ انھیں اپنے موضوع پر مکمل عبور حاصل ہوتا۔ وہ بہت آسانی سے معمولی سے سامان کے ساتھ کسی بھی صورتِ حال کا نقشہ کھینچ لیا کرتے تھے جو بجائے خود ایک مشکل کام اور مہارت کا متقاضی ہے۔

ڈراما نگری کا یہ مسافر جو جاذبِ نظر شخصیت کا حامل تھا، خوش لباس، خوش گفتار، حیدرآباد کی تہذیب کا جیتا جاگتا مرقع جیسے کبھی کسی نے بغیر شیروانی کے نہ دیکھا ہو، جو اپنے اور پرائے سب کا غم خوار اور مددگار بھی ہو۔ ایسا وضع دار تخلیق کار 9نومبر 1971ء کو اپنے چاہنے والوں کو اداس کرکے دارِفانی کی طرف کوچ کر گیا۔

حکومتِ پاکستان نے انھیں 1966ء میں تمغہ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا تھا۔

سب کہاں کچھ لالہ و گُل میں نمایاں ہوگئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔