حوثیوں کا سعودی عرب میں تیل اور فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

ویب ڈیسک  ہفتہ 20 نومبر 2021
سعودی حکومت نے حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی، فوٹو: فائل

سعودی حکومت نے حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی، فوٹو: فائل

صنعا: یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے فوجی اڈوں اور تیل کی تنصیبات سمیت کئی شہروں پر یکے بعد دیگرے 14 ڈرونز برسانے کا دعویٰ کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حوثی باغیوں کے ترجمان یحییٰ ساریہ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جدہ میں آرامکو کی ریفائنریوں کے ساتھ ساتھ ریاض، جدہ، ابہا، جیزان اور نجران میں فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔

حوثی باغیوں کے ترجمان نے مزید بتایا کہ کُل 14 ڈونز حملے کیے ہیں تاہم انھوں نے کسی جانی و مالی نقصان دعویٰ نہیں کیا البتہ اپنی پریس کانفرنس میں انھوں نے کئی غلطیاں کیں جیسے جدہ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام اور کنگ خالد اڈے کا مقام غلط بتایا۔

سعودی حکومت اور اتحادی افواج کے ترجمان نے حوثی باغیوں کے ڈرونز حملوں کے دعوؤں کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

اس کے برعکس سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یمن میں سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران 13 اہداف کو نشانہ بنایا جس کے دوران صنعا، صعدہ اور ماریب میں ہتھیاروں کے ڈپوز، فضائی دفاعی نظام اور ڈرون کے مواصلاتی نظام کو تباہ کردیا۔

ادھر عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے سعودی آرامکو، سرکاری تیل کی فرم اور دیگر اداروں سے حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کی تصدیق کے لیے رابطہ کیا تاہم سب نے فوری جواب دینے سے گریز کیا۔

گزشتہ روز بھی اتحادی افواج نے جنوبی سعودی عرب کی جانب داغے گئے حوثی باغیوں کے 3 ڈرون حملوں اور یمن میں چوتھے ڈرون حملے کو ناکام بنادیا تھا۔

واضح رہے کہ 2014 سے یمن میں خوثی باغیوں اور سعودی سربراہی میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان جنگ جاری ہے جس میں 25 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوگئے جب کہ دس لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔