اگر سوشل میڈیا کا استعمال ترک کردیں

تحریم قاضی  اتوار 21 نومبر 2021
آج کل سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے ہر شخص سوشل نیٹ ورکس پہ متحرک دکھائی دیتا ہے فوٹو : فائل

آج کل سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے ہر شخص سوشل نیٹ ورکس پہ متحرک دکھائی دیتا ہے فوٹو : فائل

آج کل سوشل میڈیا کا دور دورہ ہے ہر شخص سوشل نیٹ ورکس پہ متحرک دکھائی دیتا ہے، بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اکثریت کو سوشل میڈیا کے استعمال کی لت لگ چکی ہے۔

روزوشب سوشل میڈیا پہ مصروف گزرتے ہیں۔ کہنے کو تو یہ سوشل میڈیا سماجی رابطوں کا ذریعہ ہے مگر ان رابطوں کی قیمت بعض افراد اپنے قیمتی وقت اور رشتوں سے دوری کی صورت چکاتے ہیں۔ہر چیز اپنے اندار فائدے اور نقصان رکھتی ہے جہاں سوشل میڈیا کے مثبت استعمالات ہیں ونہیں اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں ۔ چلیے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اگر آپ کچھ وقت کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال ترک کر دیں تو اس کے آپ کی زندگی پہ کیا اثرات ہوں گے۔

آخر کیوں؟!: مندرجہ بالا بحث سے جو سوال سب سے پہلے کسی بھی ذی شعور فرد کے ذہن میں اٹھے گا وہ یہ کہ آخر سوشل میڈیا کا استعمال ترک کیا ہی کیوں جائے! سوشل میڈیا ایک تنگ چھلنی کی مانند ہے ، یہ کسی کے لئے جہاںباعث لطف ہوسکتا ہے ونہیںباعث اشتعال بھی۔ یہ جہاںکم احساس تنہائی محسوس کرنے کا موجب بن سکتا ہے وہاںآپ کے اندر چیزوں کی کمی اورالگ ہونے کا احساس کمتری بھی پیدا کر سکتا ہے۔ جو لوگ زیادہ وقت سوشل میڈیا پہ گزارتے ہیں ان کے لئے اس کے بنا زندگی گزارنے کا تصور ہی محال ہو جاتا ہے۔

اس کے باوجود ایسے بیسیوں اسباب ہیں جو آپ کو سوشل میڈیا کی دنیا میں لاحاصل دوڑسے اجتناب کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اگر آپ سوشل میڈیا کے اس سفرِناتمام کو ترک کرنے کو تیار ہیں تو آئیں ہم آپ کوبتاتے ہیں اس کے کیا مثبت اثرات ہوسکتے ہیں اور آپ کو یہ فیصلہ کیو ں کر لینا چاہئے۔

زیادہ اور جلد!: لوگ اپنی زندگیوں میں بہت سی پریشانیاں خود خرید کر لاتے ہیں ، اب اپنے ارد گرد پڑی ان آلات کا ہی سوچ لیجئے جن پہ آپ ہمہ وقت سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ کبھی فیس بک سے نوٹیفیکشن آرہی ہے تو کبھی انسٹاگرام سے۔ آپ ہر وقت ایک ان دیکھے پیغام کے انتظار میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ ماہرین کی بھی اس بارے میں یہی رائے ہے کے سوشل میڈیا مسلسل ہماری روٹین میں خلل ڈالتا ہے۔ہم خود کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روک نہیں پاتے اور کام کے ساتھ ساتھ اس کا استعمال ہماری یکسوئی کو متاثر کرتا ہے ۔

یوں ہم ہمہ وقت ہمہ جہت کام کرتے ہیں جس سے کسی بھی ایک کام کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور کام کا معیار بھی متاثر ہوتا ہے۔ امریکی انجمن برائے ماہرین امراض نفسیات نے ایک وقت پہ ہمہ جہت کام کرنے والوں پر ایک تحقیق کی جس میںاہم کام کے دوران فیس بک کا استعمال کرنے والوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کے ان کا 40فیصد سے زیادہ قیمتی وقت سوشل میڈیا کی نظرہوگیا۔ جو کہ چند لائیکس اور کمینٹس کی خاطر چکائی جانے والی ایک بھاری قیمت ہے!

تخلیقیت: بعض اوقات ایسا بھی ہوتاہے کہ آپ کوئی بھی تخلیقی کام نہیںکرپاتے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کے اندر کا تخلیقی شخص کہیں مر گیاہے۔ ایسا اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کے آپ کی سوشل میڈیا استعمال کی عادات ہو سکتی ہیں ۔ تخلیقیت ایک خدائی صفت ہے لیکن اس کے اظہار کے لئے ذہنی آسودگی بھی ضروری ہے۔ خیالات واحساسات کا توازن ایک شاندار تخلیق کا موجب بنتا ہے۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ سوشل میڈیا سے کچھ وقفہ لیا جائے۔ ہر وقت سوشل میڈیا کو سر پہ سوار کر رکھنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی آپ کو پیچھے سے آوازیں کستا ہو اور آپ کو آگے کے بجائے پیچھے مڑ کر دیکھنا پڑے،اور نتیجتاًآپ منزل پہ پہنچنے میں ناکام رہیں گے۔ماہرین کی اس حوالے سے یہ رائے ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال ترک کرنے سے آپ خود کو بلا ضرورت معلومات سے محفوظ رکھتے ہوئے تخلیقیت کے اظہار کے بہترین مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔

بے چینی: ایسا ہوتا ہے نہ کہ جب آپ کو کسی شخص یا چیز کی عادات ہو جائے تو اس کے بنا سکون نہیں ملتا۔آپ ہر لمحہ ہر وقت بے کل اور بے قرار رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا نشہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ کبھی ایک ادھ دن کے لئے آپ کے گھر کا انٹرنیٹ خراب ہو یا کوئی اور مسئلہ ہو تو عجب بے چینی اور بے کلی رہتی ہے اور بے وجہ کا چڑچڑا پن شخصیت کا احاطہ کئے رکھتا ہے۔

یہ احساسات اس لئے غالب رہتے ہیں کیونکہ ہم کسی چیز کے مستقل اعصابی طور پہ خود سے جڑے رہنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں اور اس سے دوری ہمارے اعصاب پہ گراں گزرتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر آپ کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی لت لگ چکی ہے تو آپ کو خود کو اس سے آزاد کرانے کی اشد ضرورت ہے ،اور خوش قسمتی سے اگر آپ ایسا کر گزرتے ہیں تو یہ بے چینی اور پژمردگی کے احساسات زیادہ دنوں کی بات نہیں۔ شروع کے چند دن مشکل ہوں گے مگر آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا اور آپ اپنی زندگی کو مثبت مقاصد کے لئے گزار سکیں گے۔

دباؤ: انسانی فطرت ہے کہ وہ ہر لمحہ توجہ چاہتا ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو ہمہ گیر توجہ چاہتے ہیں مگر کیونکہ یہ ایک ایسے سوپر اسٹور کی مانند ہے جہاں ہر چیز اور ہر برانڈ دستیاب ہے جو کے کسی ایک چیز پہ اکتفا نہ کرنے کی پرکشش دعوت دیتا ہے ،جو کہ اس کا منفی پہلو بھی ہے۔ سوشل میڈیا پہ آنے والے افراد کو بھی جب ہر وقت توجہ نہیں ملتی تو وہ چوبیسوں گھنٹے اس پہ توجہ طلب نگاہیں جمائے رکھتے ہیں اور یوں وہ نفسیاتی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ہر وقت یہ جاننے کی خواہش میں آن لائن رہنا کہ کیاچل رہا ہے کوٹیسول نامی ہارمون کو بڑھاتا ہو جو کہ دباؤ کی وجہ بنتا ہے۔یہ دباؤ ذہن پہ منفی اثرات مرتب کرتا ہے اور اس کے خطرناک اثرات یاداشت کی کمی اور ڈپریشن کی صورت واضع ہوسکتے ہیں۔سوشل میڈیا سے دوری آپ کو دباؤ سے بچانے اور پرسکون و یکسو رکھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

خود اعتمادی: آپ نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہوگا جو اپنے سوشل میڈیا پہ اپنی زندگی کی کامیابیوں، مسرتوں اور کامرانیوں کو شئیر کرتے ہیں،جو کے بظاہر ایک اچھی اور مثبت چیز معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب ان لوگوں کے ساتھ ہم خود کا اور اپنی زندگی کاموازنہ کر کے دیکھتے ہیں تو ہم مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ماہرین نفسیات کے مطابق اپنے اور سوشل میڈیا پہ نظر آنے والے لوگوں کے درمیان منفی انداز میں موازنہ کرنے کی صلاحیت فطری طور پہ انسان میں موجود ہوتی ہے ۔ جیسے کے کچھ لوگ جو اولاد کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں ،جب وہ صاحب اولاد افراد کی پوسٹوں کودیکھتے ہیں توخودترسی کا شکار ہوتے ہیں ۔

ایک تحقیق سے یہ معلوم ہوا کے جو لوگ متواتر فیس بک استعمال کرتے ہیں وہ انتہائی درجے کا موازنہ کرتے ہیںجو کے ان میں ڈپریشن کا سبب بنتا ہے۔ فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کا استعمال ترک کرنے اس اعلیٰ درجے کے معاشرتی و نفسیاتی موازنے سے چھٹکارے کا بہترین حل ہو سکتا ہے۔ جس سے انسان میں خود شناسی اور خود اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے ۔ یہ جان لینا بے حد ضروری ہے کہ دوسروں سے اپنی ذات کا موازنہ کرنا خود کو منوانہ نہیں بلکہ اپنی ذات کے مثبت اور منفی پہلوں سے آگاہی ہی اصل کامیابی ہے۔

نیند: بعض لوگ نیند نہ آنے کی شکایت کرتے ہیں اور اس وجہ سے نفسیاتی اور جسمانی صحت بھی بگڑتی ہے۔ اب نیند نہ آنے کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کابے جا استعمال بھی ہو سکتی ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کو یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ بار بار اپنے سوشل میڈیا کو سکرول کرتے ہیں اور خصوصاً رات سونے سے قبل سوشل میڈیا کو چیک کرتے ہیں۔

ماہرین نے اس حوالے سے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا کے عموماً لوگ رات سونے سے پہلے گھنٹہ یا دو گھنٹے تو فیس بک یا انسٹاگرام پہ سکرول کرتے گزار دیتے ہیں جس سے نیند کا وقت جاتا رہتا ہے اور کم وہ بیش ہفتے میں 15گھنٹے سوشل میڈیا کی نظر ہو جاتے ہیں۔اور یاد رہے کہ ایسا لوگ کسی مثبت کام یا دوست کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے نہیں بلکہ لوگوں کی پوسٹوں کو جن کا ان سے کوئی لینا دینا ہی نہیں لائیک، کمینٹ اور شیئر کرتے گزار دیتے ہیں۔جب آپ سوشل میڈیا کا استعمال ترک کرتے ہیں تو آپ اپنی ذات کو زیادہ وقت دیتے ہیں اوراپنے سونے کی عادات کو بہتر کر سکتے ہیں،اگر آپ خود کو پرسکون رکھنا چاہتے  ہیں تو سونے سے قبل کوئی اچھی کتاب پڑھیں یا اپنے آنے والے دن کی ترتیب طے کریں۔

رشتے: انسان کی زندگی میں اس کے رشتے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔گو کہ سوشل میڈیا آپ کو ان لوگوں سے جڑنے میں مدد دیتا ہے جو آپ سے دور ہوںجیسے آپ کے بچپن کے دوست یا وہ لوگوں جو سمندر پار ہوںمگر اس کا نقصان دہ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ آپ کوآپ کے قریب رہنے والے لوگوں سے کاٹ دیتا ہے۔ کسی سے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بات کرنا دو جدا گانہ انداز ہیں۔جدید سائنس بھی اس بات پہ اتفاق کرتی ہے کہ قربت اور دوری آپ کے تعلق پہ اثر انداز ہوتی ہے اور جو مضبوطی قریب رہنے والوں کے تعلق کا خاصا ہوتی ہے وہ دوری پہ مبنی تعلقات میں نہیں۔ رشتوں سے جڑے رہنا ا ٓپ کو ذہنی آسودگی اور اطمینان بخشتا ہے۔

بوریت: لوگ اکثر اوقات موبائل فون اور سوشل میڈیا کا استعمال بوریت دور کرنے کی غرض سے کرتے ہیں۔ کیا آپ کو کبھی لائن میں لگنے کا اتفاق ہوا، وہاں بہت سے لوگ انتظار کو آسان بننانے کی غرض سے سوشل میڈیا استعمال کر تے دکھائی دیتے ہیںلیکن تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سوشل میڈیا کا 30منٹ تک استعمال بوریت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔اپنی بوریت دور بھگانے کے لئے سوشل میڈیا سکول کرنے کے بجائے کوئی ذکر، کتاب بینی یا کرس ورڈگیم کا انتخاب مناسب ثابت ہو سکتا ہے۔

آرام: زندگی میںجتنا ضروری کام کرنا ہے اس سے کئی زیادہ ضروری ہے آرام ، کیونکہ جیسے مشین کو چلنے کے لئے انرجی درکار ہوتی ہے ویسے جسم کو بھی آرام اور طاقت درکار ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے خواتین وحضرات دیر تک بیٹھے رہتے ہیں اور یہ ان کے لئے اسی قدر نقصان دہ ہے جس قدر سگریٹ نوشی۔ جی ہاں!یہ کسی عام انسان کا تجزیہ نہیں بلکہ ماہرین کی رائے ہے۔سارا دن بیٹھ کر کام کرنے کے بعد اسی حالت میں اپنے فارغ اوقات کو سوشل میڈیا کے استعمال کی نذر کر دینا جسمانی صحت کے لئے منفی اثرات کا سبب بنتا ہے۔

ایک سروے میں لوگوں نے بتایا کہ وہ کام کرنے کے بعد فیس بک استعمال کرنے کی غرض سے 90منٹ تک ایک ہی جگہ بیٹھے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے جان چھڑا کر اچھی مثبت اور صحت بخش عادات کو اپنایا جاسکتا ہے۔

خود آگاہی: سوشل میڈیا پہ لوگ دوسروں کو دیکھتے اور سننتے ہیں۔ اور یوں وہ اپنی ذات کے علاوہ ہر اس چیز پہ توجہ دیتے ہیں جو شاید ان کے لئے اہم نہیں ہوتی۔اور بعض اوقات تو دوسروں کی باتیں اور رائے اپنی ذاتی رائے پہ حاوی ہونے لگتی ہے اور اپنا نقطہ نظر کہیں دب کے رہ جاتا ہے۔کوئی ڈنر پہ جا رہا ہے یا چھٹیا ںگزارنے اس کا بھلا آپ کی صحت پہ کی اثر؟ دوسروں کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر خود کو تلاش کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ خودآگاہی کے لئے خود کو وقت دینا ضروری ہے۔اس سے آپ اپنی ذاتی رائے کو بہتر بنا سکیں گے اور فضول گفتگو سے بھی اجتناب ممکن ہوگا۔آپ میں شخصی ذہانت ترویج پا سکے گی اور دنیا کو تنقیدی نگاہ سے پرکھنے کا ہنر پروان چڑھے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔