شعور سے لاشعور تک اور دیگر کتب

نسیم انجم  اتوار 21 نومبر 2021
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

ممتاز شاعر، مدیر، محقق اور نقاد اکرم کنجاہی اپنے علم و ادب کے حوالے سے معروف تخلیق کار ہیں۔ تحقیق و تنقید کے حوالے سے انھوں نے قابل ذکر اور قابل تحسین کام کیا ہے اور وہ بھی ادب کے خار زاروں پر چلتے ہوئے نہایت سچائی کے ساتھ۔ یقینا یہ وصف انھیں بڑا قلم کار اور بڑا انسان بنانے میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔کام اور کام کے نتیجے میں وہ اٹھارہ اہم کتابوں کے مصنف بن گئے ہیں اور مزید دو کتابیں بینکنگ کے حوالے سے لکھ چکے ہیں چونکہ وہ خود بینکر ہیں۔ لکھنا پڑھنا ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔

تحقیق لکھنا اتنا آسان بھی نہیں ہے لیکن مصنف نے اپنے وسیع مطالعے کی بنا پر اسے آسان بنا دیا ہے۔ڈاکٹر ایس ایم قریشی نے ان کی ان الفاظ میں پذیرائی کی ہے کہ جن احباب نے گزشتہ ربع صدی میں اکرم کنجاہی کے ادبی سفر پر نظر رکھی ہے، وہ گواہی دیں گے کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل بن گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم نے کہا ان کا انداز فکر منفرد اور ادبی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے۔

اس وقت میں ان کی ان چار کتابوں پر بات کرنے کی کوشش کروں گی جو حال ہی میں شایع ہوئی ہیں ان کے عنوانات ہیں۔مابعد جدیدیت اور چند معاصر متغزلی ، شعور سے لاشعور تک، محاسن فکر و فن، غنیمت کے اختصاریے چاروں کتابوں کا تعلق تحقیق و تنقید سے ہے۔ انتساب میں کنجاہی صاحب نے اپنے دیرینہ دوست مبشر اقبال صدیقی کے ایک ایسے خوبصورت شعر کا انتخاب کیا جو ان کی سوچ اور خیالات کا عکاس ہے۔

محبت نے کھلائی ہیں یہاں سب خوب رو کلیاں

دل آباد کی دنیا چمن ہے مشک و عنبر کا

مابعد جدیدیت کا پہلا مضمون شفقت رسول مرزا کا ہے نہایت خوبصورت اور وقیع تحریر ابتدائیہ کے نام سے کتاب میں شامل ہے فکری جہت کی چاشنی کے ساتھ بہت سی معلومات کے در وا کرتا ہے اور قاری کے ذہن میں جنم لینے والی پیچیدگی کو بھی مٹاتا ہے، وہ لکھتے ہیں ’’دنیا کا کوئی انسان بھی اپنی تہذیب اور کلچر سے کٹ کر زندگی بسر نہیں کرسکتا، مابعد جدیدیت انسان اور اس سے متعلق علوم کو اس فطری رشتے سے جوڑنے کی ایک سعی کا نام ہے، ہم سماجیات سے آنکھ چرا کر خلا میں قدم نہیں رکھ سکتے یہی مابعد جدید دور کی آئیڈیالوجی ہے۔‘‘

’’مابعد جدیدیت اور تازہ غزل‘‘ کتاب کی فہرست میں اول نمبر پر ہے۔ مصنف نے اپنے مضمون بعنوان ’’مابعد جدیدیت اور تازہ غزل‘‘ میں ڈاکٹر وزیر آغا کے اس مضمون کا حوالہ دیا ہے جو ’’اثبات و نفی‘‘ کے عنوان سے کلکتہ میں شایع ہوا تھا انھوں نے مابعد جدیدیت کے نظریات جن پر ڈاکٹر وزیر آغا نے وضاحت کی ہے باضابطہ تحریر میں لائے ہیں، اکرم کنجاہی صاحب نے اس پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔

انھوں نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی عالمی ادب پر گہری نظر تھی ممکن ہے عالمی مابعد جدیدیت میں ایسا ہی ہو مگر اردو مابعد جدیدیت سے متعلق ہمیں ایک مختلف انداز میں سوچنا ہوگا، یہ سچ ہے کہ ہمارا ادیب و شاعر اب کسی تھیوری یا تصور کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں ہونے دیتا مگر بہت سے مذہبی اور تہذیبی معاملات میں اس کے اعتقاد کی بنیاد مضبوط ہے۔ معاصر غزل کے حوالے سے انھوں نے ایک اہم نام قمر رضا شہزاد کا لیا ہے اور جناب قمر رضا کے پانچویں مجموعہ کلام ’’بارگاہ‘‘ سے چند غزلیہ اشعار درج کیے ہیں۔ انھی میں سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیے۔

میں کیسے ہاتھ ملاؤں یہاں کسی کے ساتھ

میری تو خود سے بھی کوئی دعا سلام نہیں

256 صفحات پر مشتمل کتاب میں سات تفصیلی مضامین درج ہیں۔ انور شعور کا ’’رنگ تغزل ۔ تاثراتی جائزہ‘‘ اسی مضمون سے دو شعر نذر قارئین:

ایمان تازہ ہو گیا الہام و کشف پر

کل اے شعور بانگِ درا‘ مل گئی

بیابان ہوں یا سمندر ہوں میں

وہی سامنے ہوں جو اندر ہوں میں

انور شعور صاحب کا شمار ہمارے ملک کے بڑے شعرا میں ہوتا ہے وہ سچے، کھرے اور منفرد لہجے کے شاعر ہیں۔ اکرم کنجاہی نے انور شعور پر طویل لیکن بے حد بصیرت افروز مضمون لکھا ہے۔ ابتدا انھوں نے اس طرح کی ہے ’’معاصر شعری منظر نامے میں غزل گوئی کے حوالے سے جناب انور شعور ایک جانا پہچانا نام ہے۔

ان کے چار مجموعے ہائے کلام میں سے تین اندوختہ، مشق سخن اور ’’می رقصم‘‘ کو فکر اسلوب کے حوالے سے معاصر غزل سے مکمل طور پر الگ کرکے پرکھا جاسکتا ہے۔ ’’دل کا کیا کروں‘‘ بہاریہ فکر کا حامل ہے ان کی غزل پر اگر کسی کا رنگ ہے تو خود ان کی ذات ہے، عجز و انکسار ان کی شخصیت سے ہوتا ہے ہوا ان کی غزل کا حصہ بنا وہ مجسم محبت ہیں۔ انور شعور نے اپنے بارے میں خود کہا:

بہروپ نہیں بھرا ہے میں نے

جیسا بھی ہوں سامنے کھڑا ہوں

اکرم کنجاہی کے تمام مضامین بے حد خلوص اور سچائی کے ساتھ لکھے گئے ہیں، مصنفی تقاضے اور لہجے کا کھرا پن ان کی تنقید کو وقار عطا کرتا ہے۔ ’’لاشعور سے شعور تک‘‘ شاعری پر تنقیدی مضامین لکھے گئے ہیں۔ کتاب پر مقدمہ عزیز احسن کی کاوش ہے۔ 288 صفحات کا احاطہ کرتی ہے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

حصہ اول میں 12مضامین ہیں، لاشعور ایک جائزہ، لاشعوری کیفیات اور اسلوب بیاں، لاشعور اور انفرادیت پسندی، لاشعوری فکریات، یہ چار عنوانات ہیں بقیہ تحریروں میں بھی شعور اور لاشعور کو موضوع بنا کر ناقدانہ صلاحیتوں پر بحث کی گئی ہے اپنے پہلے مضمون ’’لاشعور ایک جائزہ‘‘ میں مصنف اس طرح رقم طراز ہیں۔

علم وجدانی بھی ہوتا ہے، جس کی بنیاد لاشعوری کیفیات اور محسوسات ہوتی ہیں یہ انسان کی روحانی روشنی اور قوت ہے جو خوابیدہ خواہشات یادوں اور خوابوں پر مبنی ہوتی ہے تخلیق کار خواب و دانش کے ان دفینوں کو خوابیدہ کیفیات سے نکال کر شعوری سطح پر مجسم کرتا ہے تخلیق کار کے نفسی رجحانات غیر مرئی زنجیروں کی طرح ہوتے ہیں اس کی شخصیت کا جزو لاینفک ہوتے ہیں وہ چاہتے ہوئے بھی کسی صورت ان سے نجات نہیں پاسکتا۔ اختر انصاری صاحب کا مشہور زمانہ شعر بھی قاری کی آسانی کے لیے درج ہے۔

یادِ ماضی عذاب ہے یا رب

چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

وجدان و لاشعور ایک تخلیقی قوت، مذکورہ مضمون میں کنجاہی صاحب نے مغرب و مشرق کے مختلف مفکرین و ناقدین کے حوالوں کے ساتھ غزل کی تہذیبی روایات فکری اور اسلوبیاتی تقاضوں سے بحث کی ہے انھوں نے فن غزل کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے، غزل کی تشکیل میں جو عوامل و عناصر کارفرما ہوتے ہیں ان میں وجدانی کیفیات ایک رخ ہے ہاں کچھ مخصوص کیفیات کی پرتیں کھولنے میں راہنمائی ضرور لی جاسکتی ہے دیگر اصناف کی نسبت غزل کئی پابندیوں سے آزاد ہے، اصول و ضوابط کی کثرت وجدان کو پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

لیکن آزاد فضا میں لاشعور و وجدان بلا جھجک روبہ عمل رہتے ہیں۔حصہ دوم میں تاثرات و تجزیات شامل ہیں۔ یہ تاثرات ممتاز غزل گو شعرا کی شاعری کے حوالے سے ہیں اکرم کنجاہی صاحب نے بہترین تبصرہ کیا ہے، ناقدانہ بصیرت و بصارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کشادہ دلی کے ساتھ ضابطہ تحریر میں لائے ہیں مصنف کی خاص بات جس کے باعث وہ ہر دلعزیز ہیں وہ بلاتخصیص اور غیر متعصبانہ رویے کو اپناتے ہوئے اپنا نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ دوسرے حصے میں 14 مضامین ہیں پہلا زندگی کے اثبات کا شاعر، (روحی کنجاہی) اور آخری عدیل زیدی کا شعری مجموعہ ’’چلتے چلتے پر طائرانہ نظر‘‘ روحی کنجاہی صاحب کا ایک شعر جو مثبت سوچ کا مظہر ہے۔

مجھے بھی سامنا ہے کچھ عجب حالات کا روحی

مگر بے موت مر جانا اچھا نہیں لگتا

’’محاسن فکر و فن‘‘ یہ کتاب بھی شعر و سخن اور دکشن نگاری پر لکھی گئی اہمیت کی حامل ہے مصنف نے ان تمام دیباچوں اور مضامین کو کتاب کی شکل دی ہے جو انھوں نے تحریر کیے تھے۔ اکرم کنجاہی ’’غنیمت‘‘ کے مدیر اعلیٰ اور منتظم اعلیٰ ہیں انھوں نے ’’غنیمت کے اختصاریے‘‘ کے نام سے کتاب ترتیب دی ہے، قلم کاروں کی کہکشاں ہے جو کتاب میں جگ مگ جگ مگ کر رہی ہے، میں خلوص دل کے ساتھ قابل احترام مصنف اکرم کنجاہی کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔