دوران زچگی خواتین کی زندگی کا تحفظ ہماری اولین ترجیح

تحسین عزیز  اتوار 21 نومبر 2021
ایکسپریس میڈیا گروپ کے زیر اہتمام سیمینار کے موقع پر(SOGP)اور (Métier Groupe)کے اراکین کا گروپ فوٹو

ایکسپریس میڈیا گروپ کے زیر اہتمام سیمینار کے موقع پر(SOGP)اور (Métier Groupe)کے اراکین کا گروپ فوٹو

ایکسپریس میڈیا گروپ کے زیر اہتمام ) (Métier Groupe اور (SOGP) کے اشتراک سے “انفیکشن پریوینشن ان ہیلتھ کیئر اینڈ وومن ہائجین” کے موضوع پرمقامی ہوٹل میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

پروگرام کے مقررین میں پروفیسر رضیہ کوریجو،پروفیسر راحیل سکندر،پروفیسر سارہ قاضی،پروفیسر شہناز حسینی،پروفیسر سنبل سہیل،ڈاکٹر قرت الامان،پروفیسر تزئین عباس،پروفیسر سبحانہ طیب،پروفیسر حلیمہ یاسمین ،ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سندھ عبدالحفیظ ابڑو، محمد کامران بزنس یونٹ مینجر ) (Métier Groupe اور ڈائریکٹر مارکیٹنگ ) (Métier Groupe محمد ریاض تھے جبکہ میزبانی کے فرائض پروفیسر فرخ ناہید صاحبہ نے انجام دیئے۔

پروفیسر رضیہ کوریجو
پروفیسرآبسٹیڑیشن اینڈگائنی بی یو ایم ڈی سی کراچی،پریذیڈنٹ (SOGP)
ایس اوجی پی کئی دہائیوں سے میدان میں سرگرم عمل ہے، ہیلتھ کئیرز پروائیڈرز کو سہولیات مہیا کر رہی ہے اور ہماری سوسائٹی کے قیام کامقصد خواتین کے صحت کے بہتر معیار کے لیے کام کرنا ہے ۔ہم خواتین کے صحت کے معیار کو اسی وقت بہتر بناسکتے ہیں جب ہم زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی شرح کواپنی کوششوں سے کم کردیں اور یہی ہمارا اصل مقصد ہے۔ہماری سوسائٹی پورے پاکستان میں اپنی جڑیں پھیلا چکی ہے اور اب اس کی 23 مقامی جبکہ 2 بین الاقوامی شاخیں ہیں جن میں ایک عرب امارات اور دوسری برطانیہ میں قائم ہے۔اس طرح کے سیمینار کروانے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم سب ایک ساتھ مل بیٹھیں اور اپنے تجربات ایک دوسرے سے شئیر کریں ،اسی سے ایک دوسرے کو سیکھنے کو ملے گا جس سے ہمارے مقصد کو تقویت ملے گی۔

پروفیسر راحیل سکندر
چیئرپرسن پروفیسر آبسٹیڑیشن اینڈگائنی، لمس۔کو چئیر پرسن ایس او جی حیدرآباد چیپٹر
آج میرا موضوع ہے کہ سیپسیس پر بات کرنا کیوں ضروری ہے ؟ہر سال زچگی کے دوران پوری دنیا میں 6.9ملین خواتین سیپسیس سے متاثر ہوتی ہیںجبکہ برطانیہ میں دوران زچگی اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی بیماری ہے۔ امریکہ میں اس کی وجہ سے دوران زچگی اموات کی شرح میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے اور کم آمدنی والے ممالک میں اسکی شرح خوفناک حد تک زیادہ ہوکر 33 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

سیپسیس کی وجوہات پر اگر نظر ڈالی جائے تو اسکی متعدد وجوہات ہیں۔جن میںموٹاپا،ذیابیطیس،کمزور قوت مدافعت،جسم میں خون کی کمی ،اندام نہانی سے پانی کااخراج ،ماضی میں پیلوک انفیکشن یا گروپ بی اسٹریپٹوکوکل انفیکشن کا ہونا،امنیوسینٹیسز،اوررطوبت والی جھلیوں کا اچانک پھٹ جانا شامل ہیں۔

دوران حمل سیپسیس کا شدید حملہ اور بچہ دانی میں اچانک جھٹکے لگنے کی وجوہات پر ایک نظرڈالیں تو اسکی بھی کئی وجوہات ہیں۔جس میں زچگی کے دوران وجوہات میں حاملہ ہونے کے دوران استعمال ہونے والی اشیا کا استعمال برقرار رکھنا ،کوریوامنیونائٹس،اینڈومیٹریٹس اور پھوڑے و انفیکشن شامل ہیں۔جبکہ ایسی صورت میں جب خاتون حاملہ نہ ہو تو اس دوران آنتوں کے انفیکشن،لبللے کی سوزش ،نمونیا یا کسی بھی قسم کے وائرل مثلا انفلوئنزا کی وجہ سے سیپسیس کا شکار ہوسکتی ہے۔ٍ

دوران زچگی سیپسیس کا ہونا ایک جان لیوا حالت ہے جو اعضا کو خرابی کی طرف لے جاتی ہے جو حمل، بچے کی پیدائش، اسقاط حمل کے بعد، یا بعد از پیدائش کے دوران ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ہمیں اس بات کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ سیپسیس ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے جیسے ہارٹ اٹیک ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے اور اس میں بھی ایک ایک منٹ مریض کی زندگی کے لیے اہم ہوتا ہے۔اب ہم اس طریقہ علاج کی طرف آتے ہیں جو اس بیماری کے مقابلہ کرنے کے لیے طے کیا گیا ہے اور ہم اس کو “کیئربنڈلز”کے نام سے جانتے ہیں۔بنڈلز درحقیقت علاج کے مختلف درجات کا ایک مجموعہ ہے جو مختلف شہادتوں پر مبنی بہترین رہنما اصولوں کے تحت بنایا گیا ہے جن کو ایک ساتھ مریض پر نافذ کیا جاتا ہے اور یہ مجموعہ انفرادی علاج کے مقابلے میں بہتر نتائج دیتا ہے۔

اس میں (SOFA q) کے زریعے ابتدائی اسکریننگ اور سیپسیس سے متعلق اعضا کی ناکامی کی فوری تشخیص اور علاج کا انتظام شامل ہے اوراس میں یہ تمام عمل 6 سے 24 گھنٹے کے دوران مکمل کرلیا جاتا ہے۔اب کیئر بنڈل کے اہم حصے یعنی میٹرنل سیپسیس بنڈل کی بات کرتے ہیں ۔دوران زچگی ہونے والی سیپسیس عالمی سطح پر زچگی کی اموات کی تیسری بڑی وجہ ہے۔حاملہ خواتین کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سیپسیس کیئر بنڈل موجود نہیں ہیں جنہیں کم وسائل کے ساتھ نافذ کیا جاسکتا ہے۔افریقہ میں صورتحال اس سے بھی زیادہ بدتر ہے جہاں ہیلتھ کیئر نظام کا صرف 1.5 فیصد حصہ اس قابل ہے کہ بنڈل کے رہنما اصولوں کو مکمل طور پر نافذ کرسکے۔اسی لیے کم سے کم وسائل کے استعمال کے ساتھ FAST-M میٹرنل سیپسس بنڈل 2019میں بین الاقوامی اتفاق رائے سے تیار کیا گیا ہے۔

اس بنڈل کے تحت فوری بحالی کے جو مراحل ہیں ان میں درج زیل چند نکات پر فوری عمل کیا جانا چاہیئے اگر آپ کے پاس کوئی مریضہ آئے تو فوری طور پر اینٹی بائیوٹک انتظامیہ سے پہلے خون کے نمونے حاصل کرنے کا کہیں ۔شدید سیپسیس کی شناخت کے ایک گھنٹے کے اندر وسیع اسپیکٹرم اینٹی بائیوٹک کا انتظام کریں۔سیرم لییکٹیٹ کی پیمائش کریں۔ہائپوٹینشن کے لیے واسوپریسرز (نوریپائنفرین) لگائیں ۔اگلا مرحلہ اس ماخذ کی تلاش اور اس پر قابو پانا ہے جہاں سے یہ بیماری پھیلی ہے۔کوشش کریں کہ مکمل جانچ کے ساتھ مریضہ کی ہسٹری لیں ،یہ بیماری کی تصدیق میں آپکی مدد کرے گی۔مخصوص اینٹی بایوٹک کے ساتھ انفیکشن کے ذریعہ کی شناخت اور علاج کریں۔اسکے بعد ہم ٹرانسپورٹ کی بات کریں گے۔نقل و حمل کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب مریضہ کا زچگی کیس ہو اور وہ سیپسیس میں بھی مبتلا ہو،اگر علاج کے باوجود مریضہ کی حالت بگڑ رہی ہو۔

آپ انفیکشن کے ماخذ کو تلاش کرنے میں ابھی تک ناکام ہوں یا مریضہ کا مناسب علاج کروانے سے قاصر ہوں۔نقل و حمل کا فیصلہ ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے سے کرنا چاہیئے۔یہ کوشش کی جانے چاہیئے کہ مریضہ کو وارڈ کے بجائے انتہائی نگہداشت وارڈ یعنی آئی سی یو میں منتقل کیا جائے۔اس کے بعد مانیٹرنگ یعنی دیکھ بھال کا مرحلہ آتا ہے ۔علاج کے اثرات کو جانچنے اور مریض کی حالت میں بہتری یا بگاڑ کا اندازہ لگانے کے لیے نگرانی اشد ضروری ہے۔مریضوں کے مشاہدات کا ریکارڈ رکھنے کے لیے MEOWS چارٹ استعمال کریں۔اگر اینٹی بائیوٹک ادویات اور فلوڈ کے استعمال کے باوجود مریض کی حالت بگڑ رہی ہے تو فوری طور پر اپنے معالج کو اپنے خدشات سے آگاہ کریں۔

پروفیسر سارہ قاضی
ڈائریکٹر پروفیشنل سینٹر ڈاؤ یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ سائنسز،لائف ممبر آف ایس او جی پی
میرے آج کے موضوع کے تین بنیادی نکات ہیں ،پہلا زچگی کے عمل کے دوران انفیکشن کی روک تھام،دوسرا گائناکولوجیکل انفیکشن کی روک تھام اور تیسرا خواتین کی حفظان صحت کا کردار ہے۔میں اپنی گفتگو اس نکتہ سے شروع کروں گی کہ حمل سے پہلے اور حمل کے دوران کن کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے انفیکشن سے بچا جا سکتا ہے۔

سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ انفیکشن ہونے کے خطرات کس حد تک ہیں،اپنے ہاتھوں کی مستقل اور مکمل صفائی رکھیں،معیاری احتیاطی تدابیر اختیار کیں مثلا گاوٗن ،دستانے اور چشمہ پہن کر رکھیں،سیپٹک تدابیر اختیار کریں،اوراپنے زیر استعمال تمام آلات جن میں نس بندی کے آلات بھی شامل ہیں کو جراثیم کش ادویات سے صاف کریں۔سب سے پہلے ماؤں کی قوت مدافعت اور حفاظتی ٹیکوں کی حیثیت کا جائزہ لیں۔خون سے پیدا ہونے والے انفیکشن کو جانچنے کے لیے فوری اسکریننگ کریں۔

مریضہ کے جسم میں موجود ٖغذائیت کی مقدار اور شوگر لیول جانچیں۔جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کو جانچنے کے لیے اسکریننگ کریں۔ٹی بی سیرولوجی،بی سی جی اور سی ایکس آر کی جانچ کریں۔یورین کلچر ،پروٹین اور گلوکوز ٹیسٹ فوری کروائیں۔اندام نہانی کے بار بار چیک اپ سے گریز کیا جائے ۔اب ہم ان انفیکشنز کی طرف آتے ہیں جو دوران حمل جنم لیتے ہیں۔ان میںجی بی ایس ،لیسٹیریا مونوسیٹوجینز،ہیپاٹائٹس بی ،مختلف قسم کے کیل مہاسے اور ایچ آئی وی شامل ہیں۔کچھ انفیکشنز ایسے ہوتے ہیں جو بنا جنسی عمل کے منتقل ہوجاتے ہیں۔

جن میں Candida albicans، Bacterial vaginosis،Streptococcus agalacticae (Group B strep)، ایکولی اور ٹی بی شامل ہیں۔ان انفیکشنز کا آسان شکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو کمزور قوت مدافعت رکھتے ہیں،شوگر کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں،او سی پی کا شکار ہوتے ہیں ،ایسی خواتین جو زچگی میں مبتلا ہوتی ہیں،غیر محفوظ جنسی عمل بھی انفیکشنز کا باعث بن سکتا ہے اورکمزور حفظان صحت بھی ان انفیکشنز کو انسانی جسم میں خوش آمدید کہتی ہے۔اب ان انفیکشنز اور انکی تشخیص و علاج کے بارے میں بات کرلیتے ہیں جو جنسی عمل کے نتیجے میں ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتے ہیں۔۔سب سے پہلے مرض کی تشخیص کی جاتی ہے لہذا سب سے پہلے وجینائٹس کی علامات اور خارج ہونے والے مادہ میں تبدیلی کی جانچ کریں۔

کلیمائڈیا اور سوزاک (سب سے زیادہ عام STIs)، ٹرائکوموناس اندام نہانی (گیلی سلائیڈ پر نظر آنے والا متحرک پروٹوزووا) کی جانچ کریں۔اگر پی آئی ڈی کی علامات ہیں تو، مائکوپلاسما جینیٹلیم (ایم. جین) کے لیے ٹیسٹ کریں۔علاج کے بعد 2 ہفتوں تک اپنے شوہر سے جنسی تعلقات سے گریز کریں۔پی سی آر ایچ ایس وی کا ٹیسٹ کروائیں اور اگر تشخیص ہوتی ہے تو Acyclovir 400mg TDS کے ساتھ 5-7 دنوں تک علاج کریں (پھیلنے کے وقت کورس کو دہرایا جا سکتا ہے) اور درد کے لیے ٹاپیکل انسٹیلجیل استعمال کروائیں۔اب میں کچھ تجاویز دینا چاہوں گی جن پر عمل کرکے خواتین اپنی اندام نہانی کو انفیکشن سے بچاسکتی ہیں۔اندام نہانی کے اندر کا حصہ صرف پانی سے دھوئیں،اندانی نہانی کے اندر صابن ،پرفیوم یا کریم کسی بھی صورت جانے سے روکیں۔ایسی فینسی مصنوعات سے پرہیز کریں جن کی”اندام نہانی کی صحت” کی مصنوعات کے طور پر مارکیٹنگ کی جاتی ہے۔صرف غیر الکوحل اور غیر خوشبو شدہ صابن (مثلاً پانی والی کریم) سے ولوا اور نالی کو دھوئیں۔

براہ کرم اندام نہانی کومت چھوئیں کیونکہ یہ عام طور پر بیکٹریا خارج کر رہی ہوتی ہے۔نہانے کے بعداندام نہانی کو باہر سے خشک کرنے کے لیے تولیہ کا استعمال کریں۔پیشاب کرنے کے بعد، سامنے سے پیچھے تک پانی ڈالیں۔ماؤں کو چاہیے کہ اپنی بچیوں کو چھوٹی عمر سے ہی جسمانی صفائی کے بارے میں مشورہ دیں۔ہر 4-6 گھنٹے بعد سینیٹری پیڈ یا ٹیمپون تبدیل کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ایک اہم ترین بات بتاتی چلوں کہ انفیکشنز سے بچانے میں پائیوڈین کا کردار بہت اہم ہے۔

یہ ایک اینٹی میکروبیل ایجنٹ / بیکٹیریوسائڈ ہے جو سرجری سے پہلے اور بعد میں جلد کی جراثیم کشی کے لیے بطورجراثیم کش ایجنٹ استعمال کیا جاتا ہے اور ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے دھونے اور اسکربنگ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔آخر میں بتاتی چلوں کہ ان تمام مسائل اور بیماریوں سے بچانے میں والدین بالخصوص ماؤں کا کردار بھی بہت اہم ہے ۔تولیدی صحت، جنسیت اور متعلقہ مسائل کے بارے میں والدین کی طرف سے دی گئی غلط تعلیم بھی مسائل کا سبب بنتی ہے۔

پروفیسر سنبل سہیل
پروفیسر آبسٹیڑیشن اینڈگائنی ضیاالدین یونیورسٹی،جنرل سیکرٹری پاکستان مینوپاؤس سوسائٹی
میں سمجھتی ہوں خواتین میں ان انفیکشنر کے روک تھام میں کمی نہ ہونے کی ایک اہم وجہ ہم ڈاکٹرز بھی ہیںکیونکہ اکثر ڈاکٹرز اپنی مریضاؤں کو بے تحاشہ اینٹی بائیوٹکس استعمال کروا رہے ہوتے ہیں،میرے پاس کچھ دور دراز علاقوں سے جو خواتین آتی ہیں اور انکے پاس جو پرانے نسخے موجود ہوتے ہیں ان میں تین تین اینٹی بائیوٹک تجویز کی گئی ہوتی ہیں جو غیر ضروری ہوتی ہیں ۔میں سمھجتی ہوں کہ ہمیں اس سمت میں زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نہیں چاہتے کہ ہماری نوجوان نسل میں اس قسم کی بیماریاں مزید پھیلیں۔ایک اور بات جو میں نے تازہ مطالعہ سے حاصل کی وہ یہ ہے کہ اگر ہم سیزیرین سیکشن سے پہلے وجائینہ کو پایوڈین سے اچھی طرح صاف کرلیں تو اس بھی خواتین انفیکشن سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

پروفیسر شہناز حسینی
کنسلٹنٹ گائنی آف لیاقت نیشنل ہاسپٹل، کنسلٹنٹ گائنی آف کانسیپٹ فرٹیلیٹی سینٹر
سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہوں گی کہ میں بنڈل آف کیئر کے کانسپٹ سے بہت متاثر ہوئی ہوں اور میں سمجھتی ہوں کہ یہی ہماری اصل ضرورت ہے۔میرے خیال میں سیپسیس ہم ترقی پزیر ملکوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور دوران زچگی خواتین کی اموات کا سب سے بڑا سبب بھی ہے لہذا اس صورتحال میں بنڈلز جیسی چیزوں کی ضرورت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور اس سے نئے آنے والے ڈاکٹرز کو بھی بہت اچھی رہنمائی ملے گی اور اوہ مریضوں کو بہتر طریقے سے ٹریٹ کرسکیں گے۔

ڈاکٹر قرت الامان
ایسوسی ایٹ پروفیسر آبسٹیڑیشن اینڈگائنی لیاقت نیشنل ہاسپٹل ،اکیڈمک ہیڈ آف ایل ایم این سی
آج یہاں موجود تمام اسپیکرز نے بہت معلوماتی گفتگو پیش کی جس سے ہم سب استفادہ حاصل کرسکیں گے بالخصوص پروفیسر سارہ نے جن نکات پر بات چیت کی وہ بہت کارآمد تھے۔میں کچھ نکات یہاں ڈسکس کرنا چاہوں گی،سب سے پہلے یہ کہ ہمارے پاس جو بھی مریض آتا ہے ہمیں اس سے کبھی یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیئے کہ وہ شادی شدہ ہے یا نہیں ،بلکہ یہ پوچھنا چاہیئے کہ وہ جنسی طور پر متحرک ہے یا نہیں۔بدقسمتی سے ہمارے پاس ان دنوں ایسی خواتین کی آمد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جوجنسی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ڈاکٹر سارا نے جی بی ایس کی بات کی ،میں جس جگہ جاب کرتی ہوں وہاں ہمارا یہ معمول ہے کہ ہم اپنے اسپتال میں آنے والی ہر اس مریضہ کی جی بی ایس لیتے ہیں جس کو وجائنل ڈسچارج کی شکایت ہے۔پروفیسر راحیل سکندر نے بھی بہت مفید گفتگو کی اور اس کے حوالے سے میں اتنا ہی کہنا چاہوں گی اس تمام بات چیت کو ہمارے کلینکس کے پرفارما میں شامل ہونا چاہیے ۔

محمد کامران
بزنس یونٹ مینیجر ) (Métier Groupe
سب سے پہلے ایکسپریس میڈیا گروپ اور ایس او جی پی کا شکریہ کہ انہوں نے اتنا معلوماتی پروگرام ترتیب دیا۔Métier Groupe 10 کمپنیوں پر مشتمل ایک ابھرتا ہوا گروپ ہے جو سال 2016 میں قائم کیا گیا تھا۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ معیاری اشیا کا حصول ایک اہم مسئلہ ہے ،ہم اے پی آئی تو معیاری استعمال کرلیتے تھے لیکن پرائمری پیکیجنگ میں ہمیشہ مشکل پیش آتی تھی بعض اوقات ہمیں اس کے لیے پاکستان سے باہر بھی جانا پڑتا تھا پھر بروکس فارما نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس پر یہاں کام کریں اور فارما کمپنیز کو اعلی معیار کا پرائمری پیکیجنگ سولوشن فراہم کریں اور الحمداللہ آج ہم اس میدان میں آئی ایس او سرٹیفائیڈ ہیں۔ رواں سال ہم نے پاکستان کی بہترین کمپنی کا ایوارڈ بھی حاصل کیا۔آج میں پایوڈین کے بارے میں بات کروں گا جو دنیا بھر میںاینٹی سیپٹک کے طور پر جانی جاتی ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ، Povidone-Iodine زخموں کے جراثیم کش علاج، جسم کے گھاؤ کو دھونے، اندام نہانی کے علاج کے لیے، جلد اور چپچپا جھلیوں کو جراثیم کشی کے لیے، آنکھ کے علاج اور جلنے کے علاج میں استعمال کیا جاتا ہے۔پاکستان میںصرف بروکس (BROOKES) فارما نے معیاری PVP -Iodine کو 4 مختلف شکلوں میں پیش کیا ہے ۔جس میں پایوڈین سولوشن،پایوڈین سرجیکل اسکرب،پایوڈین ماؤتھ واش اور پایوڈین جیل شامل ہیں۔ہماری پایوڈین کی خصوصیات میں ہر طرح کے بیکٹریا،وائرسز،فنگز،خمیر اور پروٹوزوا کا مکمل خاتمہ کرنا شامل ہیں۔یہ اپنے متعدد افعال کے زریعے جراثیم کی موت کو تیزی سے یقینی بناتی ہے اور مزاحمت کی بڑھوتری روکنے میں مدد کرتی ہے۔اس کی مستعدی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ بیکٹریاز کا 15 سے 30 سیکنڈ میں خاتمہ کردیتی ہے ، پولیو،چکن پاکس اور روبیلا کے وائرس کے جراثیم کا 15 سیکنڈ کے اندر اندر خاتمہ کردیتی ہے جبکہ فنگس اور پروٹوزوا کا 15 سے 30 سیکنڈ میں خاتمہ کردیتی ہے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ ابڑو
ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ )سندھ(
آج کا موضوع بہت اہم ہے ۔جیسا کہ یہ بات آپ سب کے علم میں ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے ،ہمارے پاس ہزاروں کی تعداد میں خواتین ہیلتھ ورکر موجود ہیں جوان دور دراز کے علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھارہی ہیں۔اگر آج کے موضوع کے حوالے سے بات کی جائے تو کسی بھی بیماری کو روکنا اسکے مکمل علاج کا تقریبا 70 فیصد حصہ ہے یعنی کسی مریض کو بیماری کے بارے میں بتانا اور احتیاطی تدابیر دینا بہت زیادہ اہم ہے،ہمارے پاس بے شمار لوگ آتے ہیں جن میں این جی اوز یا دیگر تنظیمیں شامل ہوتی ہیں اور ان سے ہماری ہر دوسرے روز میٹنگز ہوتی ہیں جن کا موضوع ہی پریوینشن ہوتا ہے کیوںکہ یہ بیماریوں کو قابو پانے کے لیے یہ سب سے اہم چیز ہے۔ہمارے پاس اب بڑی تعداد میں اعداد و شمار جعع ہوچکے ہیں جو ہم اپنی لیڈی ہیلتھ ورکرز کو فراہم کر رہے ہیں اور ان ورکرز میں سے اکثریت بہت ہائی کوالفائیڈ ہے۔یہ ایک طویل عمل ہے جس میں ہم انکو وہ تمام معلومات فراہم کر رہے ہیں جن سے وہ لوگوں کا بہتر علاج کر سکیں۔

پروفیسر سبحانہ طیب
ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ آبسٹیڑیشن اینڈگائنی لیاقت میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج،دارالصحت۔ ایکس جنرل سیکرٹری ایس او جی پی
میں سب سے پہلے تمام سینئر ڈاکٹرز ،ایکسپریس میڈیا گروپ اور دیگر منتظمین کا شکریہ ادا کروں گی جنہوں نے اس قدر معلومات سے بھر پور پروگرام منعقد کیا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سیمینار جو آج منعقد کیا گیا ہے اس کا انعقاد وقت کی اہم ترین ضرورت تھی خصوصا ان حالات میں جن کا سامنا ہم پچھلے دو سال سے کر رہے ہیں کیونکہ ان دو سالوں میں ہم نے اپنے بہت سے بیش قیمت دوست اور رشتہ دار کھو دیئے۔ہماری آج کی دونوں پریزنٹیشن جو پروفیسر سارا قاضی اور پروفیسر راحیل سکندر نے پیش کیں بے حد معلوماتی اور مفید تھیں۔خصوصا بنڈلز آف کیئر کے بارے میں جو

تفصیلات دی گئیں وہ بیش قیمت ہیں ،ہم سب کو ان تفصیلات کو آگے اپنی بیٹیوںاور اپنی مریضاؤں تک لازمی پہنچانا چاہیئے تاکہ وہ مستقبل میں اس قسم کے انفیکشن سے محفوظ رہ سکیں۔

پروفیسر تزئین عباس
کنسلٹنٹ آبسٹیڑیشن اینڈگائنی،فارمر پرنسپل اینڈ چیئر پرسن کے ایم ڈی سی
پروفیسر سارا نے بہت عمدہ پریزنٹیشن پیش کی ،اس میں ایک اضافہ کرنا چاہوں گی کہ اپنے پاس آنے والی خواتین کو اپنے نازک مقامات کو صحیح طریقے سے دھونے کے بارے میں بھی آگاہی دیں کیونکہ غلط طریقے سے اگر وہ اس حصے کو دھوئیں گی تو اس سے بھی انفیکشن پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ آپ کے پاس جو مریض آتے ہیں ان کو اعتماد دینا ہے کہ وہ اپنے ذاتی نوعیت کے طبی مسائل باآسانی آپ سے شئیر کرسکیں۔ماہواری سے متعلق جو غٖلط فہمیاں خواتین میں پھیلی ہوئی ہیں انکو دور کرنے کی کوشش ضرور کریں۔پروفیسر راحیل کی پریزنٹیشن بھی بہت معلوماتی تھی جس سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔

محمد ریاض
ڈائریکٹر مارکیٹنگ ) (Métier Groupe
سب سے پہلے ایکسپریس میڈیا گروپ ،ایس او جی پی اور یہاں آنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہمارا آج کا یہ پروگرام نہ صرف یہاں موجود لوگ دیکھ اور سن رہے ہیں بلکہ اس وقت پورے پاکستان میں مختلف میڈیکل یونیورسٹیوں میں موجود طالب علم بھی اسکو فیس بک کے زریعے براہ راست دیکھ رہے ہیں۔ہمارے مذہب نے ہمیشہ عورت کا احترام کرنے کی تلقین کی ہے۔اگر اس کی وجہ پر زرا سا بھی غور کریں تو ہمارے سامنے بہت سی چیزیں آتی ہیں،خواتین نے ہمیشہ بے پناہ محنت کے زریعے اپنا آپ منوایا ہے ،یہاں تک کے کرونا کی وبا کے دوران بھی جب مختلف شعبہ جات بند تھے تب بھی گائنالوجی کا شعبہ پوری تندہی سے اپنا کام کر رہا تھا اور وہاں موجود خواتین ڈاکٹرز لوگوں کی خدمت میں مصروف عمل تھیں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہمارا گروپ آگاہی کے لیے آئندہ بھی ایسے پروگراموں کا انعقاد کرواتا رہے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔