کم جہیز کے درد انگیز طعنے

شبیر احمد ارمان  ہفتہ 8 فروری 2014
shabbirarman@yahoo.com

[email protected]

جہیز کو لعنت کہنا اور فرسودہ روایات کہنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے اگر مشکلات آ رہی ہیں یا مسائل پیدا ہو رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کام ہی غلط ہے۔ اس میں جرم ہمارا اپنا ہے کہ ہم نے ہی اس کو مشکل بنا لیا ہے۔

اولاد کی شادی کرنا والدین کے فرائض میں سے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش اور دیکھا دیکھی میں جہیز ایک معاشرتی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ شادی میں نکاح اہم ہوتا ہے، جس میں باہمی رضامندی سے دولہا حق مہر ادا کرتا ہے جو اس کی حیثیت کے مطابق مقرر کیا جاتا ہے اور دلہن کے والدین یا سرپرست اس کو کچھ ضروری سامان دیتے ہیں تاکہ یہ اپنے نئے گھر میں استعمال کرے، کسی سے مانگتی نہ پھرے۔ یہ ہے اصل صورت حال جسے ہم نے من مانے مطالبات اور دیکھا دیکھی میں مشکل بنادیا ہے، نتیجتاً بھاری جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں کنواری بیٹھی ہیں، ان کے بالوں میں چاندی اتر رہی ہے۔ ہمارے اردگرد ایسے واقعات اکثر رونما ہوتے رہتے ہیں کہ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے یا کم ہونے کی وجہ سے بارات واپس لوٹ جاتی ہے، شوہر اپنی بیوی کو جہیز کم لانے کا طعنہ دیتا تھا جس سے دل برداشتہ ہوکر شادی شدہ خاتون نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ، میکے چلی گئی اور اس شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے سے انکار کردیا ہے اور بعض دفعہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔ اس طرح بیک وقت دو خاندان جدا ہوجاتے ہیں، ان میں رنجشیں جنم لیتی ہیں اور بسا اوقات دشمنی پیدا ہوجاتی ہے اور معاملہ عدالت و پنچایت تک بھی پہنچ جاتا ہے اور فریقین ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بھی ہوجاتے ہیں۔

ہمارا ملک اسلامی ہے اور ہم مسلمان ہیں، ہمیں اپنے اسلامی اقدار کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔ یہ طریقہ کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے کہ لڑکے والے لڑکی والوں سے باقاعدہ فہرست مرتب کرکے جہیز کا مطالبہ کریں کہ ان کی بہو کو جہیز میں یہ چیزیں دی جائیں۔ صاحب حیثیت لوگوں کے لیے یہ فخر کی بات ہوتی ہوگی کہ انھوں نے یہ فرمائش پوری کردی ہے لیکن جو والدین مطلوبہ جہیز دینے کی سکت نہیں رکھتے ان کے لیے مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ وہ بھاری جہیز ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس وجہ سے ان کی بیٹیوں کے رشتے طے نہیں ہوپاتے ہیں اور ان کی عمریں بڑھنے لگتی ہیں۔ یہ صورت حال والدین کے لیے تکلیف دہ ہوتی ہے اور بڑھتی عمر کے ساتھ نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہونے لگتے ہیں جو گھریلو پریشانیوں کا باعث بنتے ہیں۔

ایسے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جہاں لڑکیوں کو بیچا جاتا ہے، اس کو کوئی عیب بھی تصور نہیں کیا جاتا۔ والدین لڑکے والوں سے طے شدہ رقم لے کر اپنی لڑکیوں کا نکاح کردیتے ہیں۔ ایسے لڑکی والے بھی ہیں جو نہ تو لڑکے والوں سے جہیز کی خریداری کراتے ہیں اور نہ ہی مرضی کا حق مہر لیتے ہیں۔ ایسے لڑکے والے بھی ہیں جو لڑکی والوں سے جہیز کی فرمائش نہیں کرتے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جہیز نہ تو لعنت ہے نہ ہی برا ہے، البتہ اس کی آڑ میں لوٹ مار لعنت بھی ہے اور برا رواج بھی ہے۔ نہ تو جہیز کی حد مقرر کی جاسکتی ہے اور نہ ہی حق مہر مقرر کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو سب کی اپنی استطاعت پر ہے۔ جس کو اﷲ پاک نے جتنا دے رکھا ہے اس کے مطابق وہ حق مہر بھی دے اور اس کے مطابق جہیز بھی دے۔ اب یہ ضروری نہیں کہ فلاں نے اپنی بیٹی کو جہیز میں یہ یہ چیزیں دی ہیں اور میں نے بھی وہ چیزیں تو لازمی دینی ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر دینا ہے، اصل میں یہی وہ خرابی ہے جس نے معاشرے میں ذہنی خلفشار پیدا کر رکھا ہے اور وہ جہیز کو لعنت سمجھ بیٹھے ہیں۔

شادی ایک مذہبی فریضہ ہے اس کو ہم نے ہی مشکل بنایا ہوا ہے بلکہ سنت محمدی کے مطابق ’’تنگ دستی کو دور کرنے کے لیے شادی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے‘‘۔ کیونکہ شادی کے بعد بیوی اپنی قسمت کے ساتھ آتی ہے اور پھر اولاد ہونے کے بعد اولاد بھی اپنے نصیب کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔ اﷲ پاک ہی رزق دینے والا ہے لہٰذا شادی کرنے اور بچے کی پیدائش پر غمگین ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

جہاں تک شادی بیاہ میں اسراف کا تعلق ہے تو یہ غلط رواج ہے اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے، اگر اﷲ تعالیٰ نے آپ کو مال سے نواز رکھا ہے تو اس خوشی کے موقع پر غریب و نادار و مسکین کی مالی مدد کریں اس کے بدلے اﷲ تمہاری روزی میں برکت فرمائیں گے۔

شادیاں سادگی سے بھی کی جاسکتی ہیں۔ کم جہیز دے کر بھی کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کس چیز کی کمی تھی؟ دل میں خواہش کرتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام لے کر حاضر ہوجاتے۔ زیادہ سے زیادہ جہیز دینا ضروری ہوتا تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی لخت جگر کو اتنا جہیز دے دیتے کہ اتنا قیامت تک کوئی بھی نہ دے سکتا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے کیا حق مہر دیا وہ بھی آپ علما کرام سے پوچھ سکتے ہیں۔ ہم اپنی ناک کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں اور اس فکر میں نہ پڑیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو پھر ہمارے بہت سے اس طرح کے مسائل ازخود حل ہوجائیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔