ڈیٹا جرنلزم ہی اعدادوشمار کی اصل طاقت ہے، چیئرمین نادرا طارق ملک

ایکسپو رپورٹ  منگل 23 نومبر 2021
سید پارس علی، ایڈیٹر ٹیکنالوجی ٹائمز، ورکشاپ کے شرکاء کو ڈیٹا جرنلزم پر لیکچر دے رہے ہیں۔ (فوٹو: پاسٹک)

سید پارس علی، ایڈیٹر ٹیکنالوجی ٹائمز، ورکشاپ کے شرکاء کو ڈیٹا جرنلزم پر لیکچر دے رہے ہیں۔ (فوٹو: پاسٹک)

اسلام آباد: ’’ڈیٹا جرنلزم سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، روایتی صحافتی طریقے اب معاشرے پر اثر انداز ہونے کی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتے ہیں، صحافی برادری کو ڈیٹا کو سمجھنے اور اس کی تشریح کے جدید ٹولز سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

یہ بات نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے چیئرمین طارق ملک نے ڈیٹا جرنلزم کے حوالے سے منعقدہ ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس تربیتی ورکشاپ کا اہتمام ٹیکنالوجی ٹائمز – سائنس میڈیا کمپنی؛ ریجنل ریپورٹ؛ اور پاکستان سائنٹفک اینڈ ٹیکنالوجیکل انفارمیشن سینٹر (PASTIC) نے قائداعظم یونیورسٹی میں کیا تھا۔

چیئرمین نادرا نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی آمد سے صحافتی طریقوں میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ آج پارلیمنٹ میں جن عوامل پر بھی بحث ہو رہی ہے، وہ ماضی میں ڈیٹا پر مبنی کہانیوں سے متاثر تھی۔ اعدادوشمار کی طاقت صرف اعداد نہیں، یہ اس سے آگے کی چیز ہے جو نیوز اسٹوری کے ساتھ ساتھ قارئین کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ ڈیٹا کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب صحافیوں کو بھی اپنے آپ کو عصری متعلقہ آلات سے آراستہ کرنا چاہیے۔ ڈیٹا کی قدر کو سمجھنا، تشریح کرنا اور تصور کرنا انفارمیشن ٹیکنولوجی کے دور میں صحافت کےلیے جدید ترین اوزار ہیں۔

طارق ملک نے مزید کہا، ’’ڈیٹا اینالیٹکس ٹولز کے ذریعے صحافی اپنے طرز عمل میں نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی لانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔‘‘

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم شیخ، ڈائریکٹر جنرل پاسٹک نے پاسٹک کے مقاصد اور سائنسی معلومات جمع کرنے اور ان معلومات کو پھیلانے کےلیے اس کا مینڈیٹ اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کےلیے سائنس جرنلزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاسٹک متعلقہ شعبوں کو تربیت فراہم کرنے کےلیے پرعزم ہے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اکرم شیخ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ یہ تربیت صحافیوں کو اپنی ڈیٹا اینالیٹکس صلاحیتوں کو بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے مستقبل کی صحافت میں ڈیٹا کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاناما اور پنڈورا پیپرز ڈیٹا جرنلزم کے بین الاقوامی منصوبے تھے جنہوں نے معاشروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ’’ڈیٹا اینالیٹکس کے ساتھ کہانی کی قدر میں اضافہ ہوا،‘‘ انہوں نے کہا۔

سینئر صحافی فرحان بخاری نے ڈیٹا کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو ڈیٹا کے استعمال میں بہت محتاط رہنا چاہیے، صرف کسی ایک ذریعے سے حاصل کیے گئے ڈیٹا پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے طور پر بھی ڈیٹا کو کراس چیک کرنے کی حتی الامکان کوشش کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے زندگی کے تجربات بھی وسط کیریئر صحافیوں کے ساتھ شیئر کیے۔

سید پارس علی، ایڈیٹر ٹیکنالوجی ٹائمز نے بنیادی اعدادوشمار کے تجزیاتی (اینالیٹکس) ٹولز کے بارے میں ہینڈز آن ٹریننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کے شعبے میں ڈیٹا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ڈیٹا کے بغیر خبر کی صداقت محدود ہوتی ہے۔ اس لیے صحافی کےلیے ضروری ہے کہ وہ خبروں کو پیش کرنے کےلیے صحافت میں ڈیٹا کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس شعبے میں اپنی استعداد کار کو بڑھائے۔

فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کے ڈیٹا مینجمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر یاسر جاوید نے ڈیٹا اورینٹیشن اور ایویلیویشن پر لیکچر دیا۔ ادارہ شماریات پاکستان کی نمائندہ محترمہ رابعہ اعوان نے ڈیٹا اکٹھا کرنے، پروسیسنگ اور تشریح کے عمل پر روشنی ڈالی۔ سلیم رفیق، سابق ڈائرکٹر جنرل نادرا ٹیکنالوجیز نے بھی عصری اور مستقبل کی فیصلہ سازی کے ساتھ ساتھ صحافتی طریقوں میں ڈیٹا کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ تربیت میں مختلف پرنٹ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا آؤٹ لیٹس سے تعلق رکھنے والے مڈ کیریئر صحافیوں نے شرکت کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔