طالبہ سے زیادتی کے الزام میں سینئر سول جج گرفتار

ویب ڈیسک  جمعـء 26 نومبر 2021
مقامی جج نے 15 لاکھ روپے رشوت لے کر نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا، متاثرہ لڑکی کا بیان. فوٹو : فائل

مقامی جج نے 15 لاکھ روپے رشوت لے کر نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا، متاثرہ لڑکی کا بیان. فوٹو : فائل

پشاور: سینئر سول جج جمشید کنڈی کو لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں گرفتار کرلیا گیا۔ 

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختون خوا کے ضلع لوئر دیر میں  سینئر سول جج کو ڈینٹل سرجری کی طالبہ کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے لڑکی کو میڈیکل کے لیے مقامی اسپتال منتقل کردیا ہے۔

ڈی پی او عرفان اللہ کے مطابق متاثرہ لڑکی چترال کی رہائشی اور پشاور میں بی ڈی ایس کی طالبہ بتائی جاتی ہے،  اور اس کا بیان ہے کہ مقامی جج نے 15 لاکھ روپے رشوت لے کر نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا، تاہم نوکری دینے کے بہانے اس نے اسے زیادتی کا نشانہ بنادیا۔

ڈی پی او نے بتایا کہ لڑکی کے بیان پر مقامی جج کے خلاف کے خلاف 376 پی پی سی کے تحت مقدمہ درج کرکے سینئر سول جج جمشید کنڈی کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ زیادتی کاشکار ہونے والی لڑکی بھی پولیس کی حراست میں ہے۔

دوسری جانب  دیر میں خاتون کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار سنیئر سول جج کو رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ نے معطل کردیا ہے۔  رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لئےایک ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔