گندم کی پیداوار پر آوازوں کے اثرات

ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم  اتوار 28 نومبر 2021
ماہرین زراعت ایک دل چسپ تجربہ جس نے قرآن کے الفاظ کا اعجاز ثابت کردیا ۔ فوٹو : فائل

ماہرین زراعت ایک دل چسپ تجربہ جس نے قرآن کے الفاظ کا اعجاز ثابت کردیا ۔ فوٹو : فائل

ڈاکٹر محمد اعجاز تبسم ماہرزراعت ہیں اور پچھلے 30 برسوں سے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں گندم ، جو اور گنے کی تحقیق میں مصروف عمل ہیں۔

ان کا خواب ہے کہ گندم کے کھلیان 100من فی ایکڑ پیداوار دیں اور ایسا ممکن ہے انہی ممکنات کی تلاش میں اور کسان کی آگاہی کے لیے گندم کے مختلف پہلوؤں پر ان کے مضامین منصہ شہود پر آتے رہتے ہیں

۔ زرعی حوالوں سے ان کے اب تک کوئی 4000 مضامین قومی اور بین الاقوامی اخباروں میں شائع ہوچکے ہیں جن میں گندم پر 300آرٹیکلز بھی شامل ہیں جن میں کلام الہی کے مطابق گندم کی پیداوار، گندم ٹونٹی ٹونٹی، ممی ڈیڈی گندم سے سبز انقلاب ممکن نہیں جیسے ایوارڈ یافتہ مضامین بھی شامل ہیں جب کہ ان کی 20کتب بھی ان کی شائع ہو چکی ہیں۔

جن میں “جو غذا بھی شفا بھی”، ” گنا کھیت سے ۔۔۔ کھپت تک”  اور پاکستان کا پہلا ادبی کم زرعی سفرنامہ ” ترکی بہ ترکی بھی” شامل ہے۔ زیرنظر مضمون میں انہوں نے گندم کی پیداوار بڑھانے کے سلسلے میں ہونے والے ایک دل چسپ اور چشم کشا تجربے کی تفصیلات بیان کی ہیں)

کائنات کے بستہ رازوں میں آوازیں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں بھاری سے بھاری آواز اور ہلکی سے ہلکی آواز بلکہ چُپکے سے کی جانے والی سرگوشیاں بھی اپنا ایک وجود رکھتی ہیں، چناںچہ اس رنگ و بو کی دنیا میں آوازوں کے سب سے زیادہ اثرات قبول کرنے والے جان داروں میں نہ صرف انسان اور حیوانات شامل ہیں بلکہ تحقیق سے یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ نباتات کی معیاری کارکردگی کا تعلق بھی براہ راست آوازوں کے اتار چڑھاؤ سے ہے۔

عالمی سائنس دانوں کی ایک متفقہ رائے کے مطابق کسی بھی عمل کی کام یابی کے دارومدار میں الفاظ کی نسبت لہجے کی ارتعاش، روکھے پن، دھمک یا آواز کے اتار چڑھاؤ کے اثرات زیادہ گہرے اور دیرپا رہتے ہیں، سماجی رویوں کے عالمی محققین کے مطابق دنیا بھر کے جان داروں کی کسی بھی عمل کی کام یابی میں الفاظ صرف 7 فی صد کردار ادا کرتے ہیں جب کہ کام یابی کے 93 فی صد حصے کا انحصار آواز کے زیروبم اور لہجوں کی ادائی پر ہے۔ اس تناظر میں سال 2017 اور 2018 کا عرصہ خود مجھے کسی بھی عجوبے سے کم نہ لگا جب گندم کے کھلیانوں میں آوازوں کے ذریعے گندم کی پیداوار بڑھتے اور کم ہوتے دیکھی گئی۔ اسی برس فیصل آباد کے نواحی علاقے تاندلیانوالہ کے 12مختلف مقامات پر گندم کی قسم سحر06- کی فصل پر مخصوص آوازوں پر مبنی ایک تجربہ کیا گیا۔

12مختلف اور دوردراز مقامات پر ہونے والے ایسے ہر تجربے کا رقبہ کے2 کنال پر مشتمل تھا، جب کہ تجربے کو دوردراز کے مقامات پر جان بوجھ کر اس لیے کیا گیا تھا کہ ایک مقام پر فراہم کی جانے والی آواز کی سماعت دوسرے مقام پر کیے گئے تجربے کی جگہ پر سنائی نہ دی جا سکے۔ تجربے کے ایک مقام کو بطور کنٹرول رکھا گیا تھا اور بقیہ 11مقامات پر آوازوں کا ایک ہی وقت پر مہیا کرنا بھی یقینی بنایا گیا تھا، جو آوازیں تجربے کے ہر ہر مقام کے لیے الگ الگ رکھی گئی تھیں۔

ان میں (1) سوفٹ میوزک (کلاسیکی موسیقی)، (2) ڈسکو میوزک، (3) رونے کی آواز، (4) مسکرانے کی آواز، (5) ہنسنے یا کھلکھلانے کی آواز، (6) اچھے نرم الفاظ، ا چھے لہجے اور جذبات سے بھرپور نکالنا مثلاً میں تو آپ پر قربان، مجھے تم بہت اچھے لگتے ہو، مجھے تم پیارے لگتے ہو،I love you from the core of heart   (7)اسی طرح اچھے الفاظ مگر جذبات اور احساسات سے عاری لہجے سے بولنا جیسے پیارا، اچھا، قربان، قربان، اچھا، پیارا۔ اسی طرح (8) برے الفاظ کو نہایت سخت اور قبیح انداز میں بولنا جیسے بدتمیز، گندہ، چور اچکا۔۔ بدتمیز، گندہ چور اچکا۔۔  (9) شور شرابہ ایسے برپا کرنا کہ جس سے کان پڑی آواز بھی صحیح سنائی نہ دے، جیسے پانچ سات مختلف آوازوں کا یک جا ابھرنا کہ کسی ایک کا بھی لفظ صحیح طریقے سے سنائی نہ دے سکے۔ (10)  قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور (11) ڈھول بجانا جیسی آوازیں شامل تھیں جب کہ 12ویں مقام پر کنٹرول والا تجربہ تھا، جہاں کسی قسم کی کوئی آواز فراہم نہ کی گئی۔

ہر آواز گندم کے کھلیانوں میں3 موقعوں پر دی گئی۔ ایک کاشت کے وقت، دوسرا پہلی آب پاشی پر اور تیسرا گندم کے پودے پر جب بور لگنا شروع ہوتا ہے یا جب گندم کے پودے پر نر مادہ کے ملنے کے اوقات ہوتے ہیں، پر آوازوں کا مہیا کرنا یقینی بنایا گیا ۔۔ تجربے کے ہر مقام پر شرح بیج، کھاد ، آب پاشی جیسے عوامل یکساں فراہم کیے گئے۔

تجربے کے آغاز میں 2کنال پر مبنی پہلے مقام پر کاشت کرتے وقت کھیت کے اندر رہتے ہوئے کلاسیکی موسیقی آدھ گھنٹے تک بجائی گئی، اسی لمحے دوسرے مقام پر لگائے گئے تجربے پر کاشت کے دوران بھی آدھ گھنٹے تک ڈسکو میوزک بجایا گیا، تیسرے مقام کے تجربے میں ایک شخص کو کہا گیا کہ وہ کاشت کے دوران آدھ گھنٹے تک رونے کی آوازیں نکالتا رہے۔ اسی طرح چوتھے مقام پر ایک شخص سے کہا گیا کہ وہ کاشت کے دوران نصف گھنٹے تک مسلسل مسکراتا رہے ۔ پانچویں مقام پر ایک شخص کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ اونچی آواز میں مسلسل ہنستا اور کھلکھلاتا رہے۔

اسی طرح چھٹے اور ساتویں مقامات کے تجربوں پر ایک شخص کو اچھے، نرم اور دل نشیں لہجے میں بولنے کو کہا گیا اور دوسرے آدمی سے کہا گیا کہ وہ اچھے الفاظ بولے ضرور، مگر وہ الفاظ جذبات اور احساسات سے عاری رہیں۔ آٹھویں تجربے کے لیے ایسے آدمی کی ڈیوٹی لگائی گئی جسے یہ تنبیہہ کی گئی کہ وہ برے، گندے الفاظ میں آدھے گھنٹے تک کاشت کے دوران کچھ بھی بولتا رہے۔

ایک کھلیان کے اندر ایک آواز ایسی بھی فراہم کی گئی جو شورشرابے پر مبنی تھی اور الفاظ بھی اس شور شرابے میں صاف طریقے سے سنائی نہ دے رہے تھے۔ اسی طرح تجربے کے ایک اور مقام پر کاشت کے دوران قرآن کریم کی تلاوت آدھ گھنٹے تک کی گئی جب کہ 11ویں مقام پر نصف گھنٹے تک ڈھول بجایا جاتا رہا اور 12ویں مقام کے تجربہ میں بغیر کسی آواز کے گندم کی کاشت کی گئی۔

دو دو کنال پر مشتمل تمام کے تمام 11مقامات پر آدھ گھنٹے تک مختلف آوازوں کے زیراثر گندم کی قسم سحر6- کی شام 4 بجے کاشت کی گئی اور یہ 12نومبر کی تاریخ تھی۔ اس تجربے کی ایک اہم بات جس کا بطور خاص خیال رکھا گیا کہ ایک مقام کے تجربے پر دی جانے والی آواز دوسرے مقام کے تجربے تک قطعی سنائی نہ دے، تاکہ مخصوص مقام کی پیدا کی جانے والی مخصوص آواز کا اثر زائل نہ ہوسکے۔

اس منفرد تجربے میں فصل کی بڑھوتری کی دوسری حالت پہلی آب پاشی کا وقت تھا۔ ہر جان دار کو دیا جانے والا پہلا پانی بقیہ پانیوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیوںکہ فصل کو دیا جانے والا پہلا پانی نوزائیدہ بچے کو دی جانے والی پہلی مائع خوراک “گٹی” کی مانند ہی ہوتا ہے، جو زندگی کو بھرپور طریقے سے نشونما دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

چناںچہ گندم کے وہ دانے جو مٹی کے زیادہ نیچے دب جانے کی وجہ سے اُگ نہ سکے تھے پہلے پانی کی وجہ سے ان کو نئی زندگی مل جاتی ہے اور وہ نشونما پانا شروع کردیتے ہیں جب کہ خشکی کی وجہ سے فصل کو دیمک لگنے کے خطرے کے پیش نظر بھی فصل کو پہلا پانی دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ چناںچہ 11کے 11مقامات پر تجربے کو پہلا پانی دیے جانے کے دوران ایک دفعہ پھر آدھے گھنٹے تک متذکرہ بالا مخصوص آوازوں کا مہیا کرنا یقینی بنایا گیا جب کہ 12ویں مقام کے تجربے پر حسب سابق بغیر آواز دیے پہلا پانی فراہم کردیا گیا۔

اسی طرح فصل کی بڑھوتری میں خوشوں کے کِھلنے کی حالت پر جب فصل پر بور لگ رہا ہوتا ہے، یعنی گندم کے پھولوں میں نر مادہ کے ملاپ کے موقع پر بھی تیسری بار متذکرہ بالا مخصوص آوازیں نصف گھنٹے تک دی جاتی رہیں۔ اس سارے تجربے کے 12کے 12مقامات پر بقیہ تمام عوامل یکساں دیے گئے اور آخر کار فصل کی کٹائی پر احتیاط کے ساتھ ہر تجربے کی الگ الگ پیداوار ریکارڈ کی گئی۔

پیداواری نتائج کو دیکھتے ہوئے محققین اس بات پر ورطہ حیرت میں پڑ گئے کہ تجربے کا وہ مقام جہاں احساسات اور جذبوں کے بغیر مگر دل نشیں الفاظ ادا کیے گئے تھے، کنٹرول مقام کی پیداوار (51.5من فی ایکڑ) کی نسبت وہاں پر 66 فے صد پیداوار کم آئی، جس سے یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہر جان دار فرد کے جذبات اور احساسات کا دنیا بھر میں کوئی نعم البدل نہیں، اس کی اہمیت اور قیمت سب سے جداگانہ اور سب پہ بھاری ہے۔

اس بات کو یوں بھی رقم کیا جا سکتا ہے کہ آئی لو ، آئی لو یو(I love you, I love you) کے الفاظ کا مفہوم اس وقت تک بے کار اور بے معنی رہتا ہے جب تک کہ ان میں جذبات اور احساسات کا عنصر شام نہیں ہوجاتا، یہی حال 66 فی صد تک کم رہنے والے اس مخصوص مقام کے تجربے کا تھا جہاں کی پیداوار17من فی ایکڑ ریکارڈ کی گئی تھی جہاں پر اچھے اور پیارے الفاظ کی ادائی تو تھی مگر ان میں اپنائیت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔

جس مقام پر ڈھول بجایا گیا، یعنی ہر لمحہ شور اٹھ رہا تھا اور ماحول میں بے چینی کی سی کیفیت تھی، وہاں 23.5 من فی ایکڑ پیداوار رہی، جس کے معنی یہ بھی لیے جا سکتے ہیں کہ تخلیقی امور کی انجام دہی میں شورشرابہ یا دھماچوکڑی کی فضا کار گر نہیں رہتی۔

جس جگہ ڈسکو میوزک رواں تھا، یہاں بھی شورشرابہ تھا اور یہاں کی پیداوار 27 من فی ایکڑ رہی اور جس مقام پر رونا دھونا لگا تھا وہاں پیداوار 39 من فی ایکڑ ریکارڈ کی گئی، اسی طرح وہ مقام وہ تجربہ جہاں گندم کی بڑھوتری کی 3 حالتوں پر برے الفاظ بولے گئے تھے، وہاں کی پیداوار کنٹرول مقام (51.5 من فی ایکڑ ) کی پیداوار کی نسبت 20 فے صد کم رہی، اور جس تجربے پر مختلف آوازوں کے شورشرابے میں صحیح الفاظ کا تعین نہ ہو پارہا تھا کہ یہاں کیا بولا جارہا ہے، وہاں کی پیداوار 42.2 من فی ایکڑ رہی، جس جگہ کھلکھلا کر اور اونچا اونچا مسلسل آدھ گھنٹے تک ہنسا جا رہا تھا وہاں پر پیداوار کنٹرول کے مقام کی نسبت 14فے صد کم آئی، کہ یہ دنیا کھلکھلانے کی جا نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی تماشاگاہ ہے۔

مگر وہ مقام جہاں پر گندم کی فصل کی بڑھوتری کی تینوں مجوزہ حالتوں کے دوران کائنات کے سب سے زیادہ دلنشیں، سب سے زیادہ مسحور کن اور سب سے زیادہ خوب صورت الفاظ پر مبنی قرآنی آیات نصف گھنٹے تک مسلسل سنی جاتی رہیں، وہاں پر پیداوار کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، اس مقام پر کنٹرول سے 75 فے صد زائد پیداوار نے محققین کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ قرآنی آیات کی تلاوت میں کائنات کا یقیناً کوئی جادو پنہاں ہے ، ان الفاظ میں کوئی سحر طاری ہے کوئی نورانی کیفیت موجود ہے۔

قرآن کے الفاظ کسی انہونی طاقت سے لبریز ہیں کہ جہاں کی پیداوار کنٹرول والے تجربے کی پیداوار (2062کلو گرام فی ایکڑ) سے 75فے صد زائد یعنی3620 کلو گرام فی ایکڑ آئی ہے، جب کہ وہ مقام، وہ تجربہ جہاں پر اچھے الفاظ کی ادائی اچھے لہجے ، میٹھے اور دلنشیں انداز میں کی جاتی رہی، وہاں کی پیداوار دوسرے نمبر پر رہی یعنی بندے کے الفاظ میں چاشنی تب ہوتی ہے جب ان میں میٹھے لہجے کی مٹھاس شامل ہوجائے، یہاں پر پیداوار2740 کلو گرام فی ایکڑ رہی، ایک اور مقام جہاں صرف مسکرایا گیا تھا اور اگلے مقام پر کلاسیکل موسیقی بجائی گئی تھی۔ وہاں کی پیداوار گوشوارہ نمبر 1-کے مطابق بالترتیب2304اور2208 کلو گرام فی ایکڑ آکر کنٹرول کی پیداوار سے بالترتیب12فے صد اور 7 فے صد زائد رہی۔

مختلف آوازوں کے صوتی اثرات سے گندم کی فصل میں پیداوار کے نمایاں اضافے کے اس اہم تجربے میں قرآنی آیات کی تلاوت کے اثرات کی حقانیت دنیاوی کام یابی کے لیے ابھر کر سامنے آئی ہے، چناںچہ گندم کی پیداوار کے بڑھنے کا یہ تجربہ عالمی محققین کو بھی دعوت فکر دینے میں پیش پیش رہے گا کہ کلام الٰہی کی صورت کائنات کے حسین ترین الفاظ سے اپنی ذاتی کام یابیوں کو کیسے کشید کیا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔